امریکہ کس خدمت کے عوض امداد دیتا ہے ؟ کوئی وعدہ پورا کیا جاتا یا خیرات ہے ؟ رضا ربانی

امریکہ کس خدمت کے عوض امداد دیتا ہے ؟ کوئی وعدہ پورا کیا جاتا یا خیرات ہے ؟ ...

  

اسلام آباد (ایجنسیاں)چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے حکومت سے استفسار کیا ہے کہ امریکہ کس خدمت کے عوض امداد د یتا ہے ،کوئی وعدہ پورا کیا جاتا ہے یاامداد خیرات میں دیتے ہیں ؟سکوک و یورو بانڈز کے لیے موٹرویز اور جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ کراچی کو رہن رکھا گیا ہے، بلیغ الرحمن۔سینٹ میں حکومت پاکستان کی طرف سے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران لیے گئے غیر ملکی قرضوں سود اور واپسی کی مدت کی تفصیلات پیش کر دی گئیں۔ فارن کمرشل لونز، انٹرنیشنل یورو بانڈ سکوک اور آئی ایم ایف کے قرضوں کی شرح سود کی تفصیلات پیش کی گئیں پانچ سالوں میں سات ارب پچیس کروڑ پچھتر لاکھ ڈالر سے زائد غیر ملکی کمرشل قرضے لیے گئے اس عرصہ میں آٹھ ارب ڈالر مالیت کے یورو و سکوک بانڈز جاری کیے گئے آئی ایم ایف سے چھ ارب سینتیس کروڑ پچھتر لاکھ ڈالر سے زائد کا قرضہ لیا گیا۔ قرضوں کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر فنی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت بلیغ الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت بہترین حالت میں ہے دنیا کے اہم مالیاتی اداروں نے اعتراف کیا ہے قرضے بروقت ادا کیے گء ہیں ۔ سردار موسی خیل دیگر ارکان نے سوال اٹھایا ہے کہ امریکہ کس خدمت کے لیے امداد تیا ہے کیا کوئی وعدہ پورا کیا جاتا ہے یا خیرات صدقات میں امریکہ سے امداد ملتی ہے ؟ چیئرمین سینٹ نے وفاقی وزیر بلیغ الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بتائیں امریکہ سے کس خدمت کا وعدہ کیا جاتا ہے یا خیرات میں دیتے ہیں بلیغ الرحمن نے کہاکہ امریکی امداد کے حوالے سے کوئی خدمات بجا نہیں لائی جاتی امداد کے عوض کوئی وعدہ پورا نہیں کیا جاتا ۔دریں اثناوفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ فاٹا کے مسئلے پر اتحادی جماعتوں کو جلد راضی کر لیں گے اور اس حوالے سے بل آج پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔ فاٹا کے معاملے پر سیاست چمکانے والے پارٹیوں کو اس کا کریڈٹ لینے نہیں دیں گے اور یہ انضمام موجودہ حکومت ہی کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹ اجلاس کے دوران توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کیا۔سینیٹ میں بیان دیتے ہوے وزیر ریاست و سرحدی امورعبدالقادربلوچ نے فاٹا اصلاحات کا بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا اعلان کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ 25میں سے 24فاٹاسفارشات پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے ۔ قبائلی عوام کے قومی دھارے میں آنے کا وقت قریب آگیا ہے تو بعض جماعتوں نے ہوشیاری دکھاتے ہوئے دھرنوں کی دھمکیاں دینا شروع کردی موجودہ حکومت فاٹا اصلاحات کا کریڈٹ کسی اور کو نہیں لینے دے گی ۔فاٹا اصلاحات کو سیاست کی نذر نہیں ہونے دیں گے ۔ سفارشات کو ضائع نہیں ہونے دیں گے، صرف 1سفارش پر عملدآمد کا آغاز رہ گیا ہے ۔ 24سفارشات پر عملدرآمد شروع ہوگیا ہے ۔ علاوہ ازیں چیئرمین سینٹ نے سینیٹر سراج الحق کے قومی مردم شماری 2017ء کے طریقہ کار اور اس کے خلاف ہائی کورٹس میں دائر پٹیشنز کے سوال کے جواب کے لیے وزیر شماریات کامران مائیکل کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مردم شماری پر بحث کے موقع پر بھی وہ غیر ملکی دورے پر تھے وہ پارلیمنٹ کے بزنس کو اولیت کیوں نہیں دیتے اجلاس کے وقفہ سوالات میں تحریری جواب میں آگاہ کر دیا گیا ہے کہ مردم شماری 2017ء کے خلاف لاہور ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ، بلوچستان ہائی کورٹ ،اسلام آباد ہائی کورٹ میں نو آئینی درخواستیں دائر کی گئیں ہیں۔رضا ربانی نے وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد سے دریافت کیا کہ وزیر شماریات کہاں ہیں؟ شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ مجھے پتہ نہیں ، رضا ربانی نے کہا کہ حکومت سے وزیر شماریات سے ان کی مصروفیات کا شیڈول لے کر ہمیں آگاہ کریں۔دریں اثناسینیٹ میں بدھ کو اپرنٹس شپ بل 2017کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا بل ہنر کے بعض کم از کم معیارات کے حصوں کے لیے اسٹیبلیشمنٹ میں اپرنٹس شپ پروگراموں کے فروغ ترقی اور ضابطہ کار کے بارے میں ہے بل وزیر فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ محمد بلیغ الرحمان نے پیش کیا بل کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا ۔

سینٹ

مزید :

کراچی صفحہ اول -