آر ٹی آئی کے تحت سرکاری اداروں میں شفافیت کو فروغ ملے گا

آر ٹی آئی کے تحت سرکاری اداروں میں شفافیت کو فروغ ملے گا

  

پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن نے سرکاری اداروں میں رازداری کے قوانین کو ختم کرنے اور معلومات کو افشاں کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور کمیشن آرٹی آئی قانون کی روح کے مطابق آئیندہ بھی ایسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوگا جس سے سرکاری اداروں میں شفافیت کو فروغ ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن کے چیف انفارمیشن کمشنر جناب عظمت حنیف اورکزئی نے صوبہ سندھ سے آئے ہوئے 22ویں سینئر منیجمنٹ کورس کے آفیسرزسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ آر ٹی آئی کمیشن نے 28رکنی وفد کے لیئے خیبر پختونخوا انفارمیشن ڈیپارٹمنت کے میڈیا سیل میں آر ٹی آئی قانون کے حوالے سے پریزنٹیشن اور بریفنگ کا انعقاد کیا ۔ چیف انفارمیشن کمشنر نے اس موقع پر شرکاء کو آر ٹی آئی قانون کی افادیت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کی بدولت خیبر پختونخوا بشمول تمام پاکستان کے شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ یہ جان سکے کہ منتخب حکومت اورسرکاری ادارے کیا کارکردگی سرانجام دے رہے ہیں اور عوام کا پیسہ کہاں اور کس مقصد کے لیئے استعمال ہورہا ہے۔ انفارمیشن کمیشن کی پروگریس سے متعلق انہوں نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ مختلف سرکاری محکموں میں آر ٹی آئی قانون کے تحت ابتک 10497 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 6825 درخواستوں پر پبلک انفارمیشن آفیسرز نے کاروائی کرتے ہوئے معلومات فراہم کیں جبکہ انفارمیشن کمیشن نے ابتک3826 شکایات مختلف محکموں سے متعلق موصول ہوئے ہیں جن میں سے 3262 درخواستوں کو مقررہ قانونی مدت کے اندر نمٹا دیا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ 564شکایات پر تندہی سے عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ اس موقع پر سینئر منیجمنٹ کورس کے وفد کی جانب سے چیف انفارمیشن کمشنرعظمت حنیف اورکزئی کو اعزازی شیلڈ بھی پیش کی گئی جبکہ انفارمیشن کمشنر جناب افتخار حسین خان اورماہ طلعت بھی موجود تھیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -