پارا چنار ہسپتال عملے کی غفلت سے میرا بیٹا جاں بحق ہوا ،حاجی حسین

پارا چنار ہسپتال عملے کی غفلت سے میرا بیٹا جاں بحق ہوا ،حاجی حسین

  

پاراچنار (نمائندہ پاکستان)پاراچنار کے نوحی علاقے کڑمان کے رہائشی چالیس سالہ حاجی حسین کا کہنا ہے کہ پاراچنار ہسپتال کے عملے کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے میرا پھول جیسا بیٹا موت کے منہ میں چلا گیا ۔ٹریکٹر ڈرائیور حاجی حسین نے علاقے کے عمائدین کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہ اس کا چھ روز کے اکلوتے بیٹے کو بخار کی شکایت پر ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاراچنار پہنچا دیا گیا جہاں عملے نے کینولا پاس کرنے کا کہا اور عملے کی کئی افراد نے کینولا پاس کرنے کی ناکام کوشش کی ناکامی کی صورت میں بچے کو ایمر جنسی کے باہر برآمدے میں لایا گیا جہاں برفباری کی وجہ سے شدید سردی پڑرہی تھی یہاں پر ہسپتال کے یکے بعد دیگرے کئی افراد نے کینولا پاس کرنے لگ گئے اس کوشش میں بیس سے پچیس منٹ لگ گئے اور شدید سردی کی وجہ سے بچہ تڑپ رہا تھا بالآخر ہسپتال کے عملے کی ناکامی پر میں نے ہسپتال کے سامنے دکانوں پر جاکر میڈیکل سٹور سے کینولا پاس کروایا جس کے بعد بچے کو علاج کیلئے بچے کو ہسپتال لایا اور ڈاکٹروں نے بچے کو وارڈ میں داخل کروادیا جہاں آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے ایک اور مسلے سے دوچار ہوگیا جس کی وجہ سے تیس منٹ گزرنے کے بعد بچے نے دم توڑ دیا اس دوران ہسپتال کے ایم ایس سے ملنے کی کوشش کی مگر ان سے ملنے نہیں دیا گیا ۔ حاجی حسین محکمہ صحت کے اعلی حکام اور پولیٹیکل ایجنٹ ، پاک آرمی سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ میڈیا نے اس واقعے کے حوالے سے ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر صابر حسین سے رابطہ کیا جس پر ایم ایس نے کہا کہ وہ واقعے کے حوالے سے تحقیقات کریں گے اور حاجی حسین کو ہسپتال طلب کرلیا حاجی حسین نے ایم ایس سے ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا کہ ایم ایس نے واقعے کے حوالے سے تحریری درخواست جمع کرنے کا کہا ہے ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -