ریپڈ بس منصوبہ 6ماہ سے مکمل کر کے عوام کو سفری سہولت فراہم کرینگے :شاہ محمد وزیر

ریپڈ بس منصوبہ 6ماہ سے مکمل کر کے عوام کو سفری سہولت فراہم کرینگے :شاہ محمد ...

  

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ ملک شاہ محمد وزیر نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ پراجیکٹ پر زور و شور سے کام جاری ہے۔ موجودہ حکومت بی آر ٹی کو 6ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل کر کے پشاور کے عوام کو جدید سفری سہولیات سے آراستہ ایک جدید ٹرانسپورٹ نظام فراہم کرنے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار ملک شاہ محمد وزیر نے بدھ کے روز زیر تعمیر پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کے مختلف پوائنٹس پر جاری کام کی رفتار کا جائزہ لینے کیلئے اچانک معائنے کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر بی آر ٹی کے فوکل پرسن خورشید خان کے علاوہ محکمہ ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پرمعاون خصوصی کو منصوبے پر جاری کام کی پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے متعلقہ حکام نے کہا کہ بی آر ٹی روٹ کی تعمیر کیلئے 40ہزار مکعب میٹر سڑک کی کھدائی میں سے20ہزار سے زائد مکعب میٹر کھدائی مکمل کر لی گئی ہے۔ حکام نے آگاہ کیا کہ منصوبے پر معیار کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ کام کی رفتار تیز کرنے کیلئے 24گھنٹے 3شفٹوں میں کام جاری ہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ تعمیراتی کام کے دوران عوام کی آمدو رفت اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کیلئے ٹریفک حکام کے تعاون سے پیشگی منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔اس موقع پر ٹریفک حکام نے معاون خصوصی کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بی آر ٹی منصوبے کے پیش نظر شہریوں کی آمدو رفت کیلئے مختص متبادل روٹس سمیت مین بی آر ٹی روٹ پر ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کے لئے مختلف پوائنٹس پر کثیر تعداد میں ٹریفک اہلکار تعینات کئے گئے ہیں ۔ معاون خصوصی ملک شاہ محمد وزیر نے حکام کی جانب سے دی جانیوالی بریفنگ پر اطمینان کااظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی پراجیکٹ ایک تاریخی منصوبہ ہے جس کی تکمیل سے پشاور کے عوام کا مستقبل تابناک ہو جائے گا۔ملک شاہ محمد نے کہا کہ منصوبے کی تعمیر کے باعث عوام کو درپیش تکلیف عارضی ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بی آر ٹی کی بروقت تکمیل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا لیکن اس سلسلے میں عوام کو درپیش مشکلات دور کرنے کیلئے بھی ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -