داتا دربار سے بچوں کو اغواءکرنیوالے ملزم کا اپنے حقیقی بیٹے سے بھی بدفعلی کا انکشاف، وہ ایسا کیوں کرتا تھا؟ دوران تفتیش ایسا انکشاف کہ آپ سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے

داتا دربار سے بچوں کو اغواءکرنیوالے ملزم کا اپنے حقیقی بیٹے سے بھی بدفعلی کا ...
داتا دربار سے بچوں کو اغواءکرنیوالے ملزم کا اپنے حقیقی بیٹے سے بھی بدفعلی کا انکشاف، وہ ایسا کیوں کرتا تھا؟ دوران تفتیش ایسا انکشاف کہ آپ سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے

  

لاہور(ویب ڈیسک )شیرا کوٹ کے علاقے میں چند روز قبل چار بچوں کی بازیابی کے بعد گرفتار ہونیوالے ملزم اکبر نے حقیقی بیٹے کو بھی دو بار زیادتی کا نشانہ بنایا، جس پر پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، پولیس نے ملزم، اسکے بیٹے اور سابق اہلیہ کے بیانات قلمبند کرلئے۔ ملزم نے پولیس کو بیان دیا کہ جب وہ دس سال کا تھا تو محلے دار عاشق نامی شخص اسے ورغلا کر اپنے گھر لے گیا، جہاں اس نے چاقو کی نوک پر دھمکیاں دیں اور زیادتی کا نشانہ بنایا، گھر واپس آکر والد کو بتایا تو انہوں نے اس بات کو ماننے سے انکار کردیا اور ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہوئے گھر سے نکال دیا ،اس کے بعد بھی عاشق زبردستی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ایک مرتبہ موقع پاکر عاشق کو چھری مار کر شدید زخمی کردیا اور وہاں سے فرار ہوگیا، لیکن عاشق کی جانب سے زیادتی کا اثر اس کے دل و دماغ سے نہیں گیا۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ملزم داتا دربار کی حدود میں رات کو جاتا اور گھروں سے بھاگ کر آئے ہوئے معصوم بچوں کو ورغلا کر گھر لے جاتا ،جہاں ان کو انتقام کے طور پر زیادتی کا نشانہ بناتا، نہ ماننے پر بچوں کو دھمکیاں بھی دیتا تھا۔ ملزم کی سابق بیوی ثریا نے پولیس کو بتایا کہ اکبر درندہ صفت انسان ہے ، اس نے اپنے اڑھائی سالہ بیٹے کو بھی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا ،جب وہ 13 سال کا ہوگیا تو اکبر نے پھر اپنے بیٹے کو زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے بعد پولیس نے ملزم اکبر کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے جیل بھی بھجوا دیا، جیل سے واپس آنے پر دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ واضح رہے کہ داتا دربار انویسٹی گیشن پولیس نے چند روز قبل شیرا کوٹ کے علاقے میں واقع ایک کمرہ کے مکان میں چھاپہ مار کر وہاں سے ملزم اکبر کو گرفتار کرکے شان،علی شان وغیرہ چار بچوں کو بازیاب کروایا بعد میں ملزم کے گھر سے موبائل فونز اور ممنوعہ اشیا برآمد کی گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انویسٹی گیشن پولیس کی تفتیش کے بعد ملزم اکبر کو سی آئی اے پولیس کے حوالے کیا جائے گا، جس سے پولی گرافی سے تفتیش کا آغاز کیا جائے گا۔ملزم اکبر کے کیس کے حوالے سے ایس پی انویسٹی گیشن سید کرار نے پریس کانفرنس کے لئے تیاریاں شروع کردی تھیں لیکن ان کو بعض پولیس افسران نے مشورہ دیا کہ ایسے واقعات سے معاشرے میں برے اثرات مرتکب ہوسکتے ہیں، لوگ گندگی سے دور بھاگتے ہیں جس کے بعد پریس کانفرنس ملتوی کردی گئی۔

مزید :

جرم و انصاف -علاقائی -پنجاب -لاہور -