نیب نے چینی مافیا کے خلاف انکوائری شروع کی تو صدرمشرف نے فوراً تحقیقات بند کرنے کا حکم دے دیا لیکن پھر ایسا کام ہو ا کہ ایوان صدر میں کھلبلی مچ گئی

نیب نے چینی مافیا کے خلاف انکوائری شروع کی تو صدرمشرف نے فوراً تحقیقات بند ...
نیب نے چینی مافیا کے خلاف انکوائری شروع کی تو صدرمشرف نے فوراً تحقیقات بند کرنے کا حکم دے دیا لیکن پھر ایسا کام ہو ا کہ ایوان صدر میں کھلبلی مچ گئی

  

لاہور(ایس چودھری) پاکستان میں چینی کی قیمتوں پر انتہائی گھناونی سیاست کی جاتی ہے ،چینی کے تاجروں کی اقتدار کے ایوانوں تک رسائی ہوتی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں کبھی چینی غائب اور کبھی اسکی قیمتیں اتنی بڑھادی جاتی ہیں کہ عوام بلبلا اٹھتی ہے لیکن کسی کو علم نہیں ہوپاتا کہ چینی کے درپردہ کیا کھیل رچایا جاتا اور اس مفاد کے ساتھ کون کون سی قوتیں جڑی ہوتی ہیں۔ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز نے اپنی کتاب’’ یہ خاموشی کہاں تک ‘‘میں ایک ایسا ہی ہوشربا انکشاف کیا ہے کہ عوام کی ضروریات زندگی سے فائدہ اٹھانے والی قوتیں انصاف اور تحقیقات کی راہ میں کس قدر اثر انداز ہوتی ہیں۔ وہ جب نیب کے سربراہ تھے تو ان کے دور میں بھی چینی پر سیاست کی گئی جس پر وہ اس مافیا کے درپردہ عزائم سامنے لانے پر ایسے تل گئے کہ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کو انہیں انکوائری روکنے کا حکم دیا گیا ۔وہ لکھتے ہیں ’’صدر صاحب نے چینی کی انکوائری بند کر وا دی‘‘۔ جنرل حامد جاوید صاحب کا فون تھا ، جو صدر صاحب کے ساتھ چیف آف سٹاف (COS ) تھے۔ میں نے کچھ حجت کی کہ ابھی تو شروع ہی کی ہے اور یہ کہ بند کرنے کے بہت بُرے اثرات ہوں گے، وغیرہ وغیرہ ، تو کہا، ’’یہ اُن کا یگزیکٹو آرڈر (Executive Order ) ہے۔ اب یہ انکوائری نہیں ہو گی‘‘۔ میں نے صدر صاحب سے فون پر بات کرنے کی بہت کوشش کی مگر آنے والے کئی دنوں تک نہ ہی میں اُن سے مل سکا اور نہ ہی میرا رابطہ فون پر ہو سکا۔ وہ بہت ’’مصروف ‘‘ تھے۔ پھر میں نے اخبار میں اعلان کیا کہ ’’ چینی کی انکوائری بند کر دی گئی ہے، کیونکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ اس انکوائری کی وجہ سے چینی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، حالانکہ NAB اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتا ‘‘۔اس خبر کے اخبار میں آنے پر جنرل حامد صاحب نے فون پر خفگی کا اظہار کیا، کہ انکوائری بند کرنے کی خبر اخبار میں کیوں دی گئی؟ میں نے کہا، ’’اس لئے کہ عوام اس امید پر نہ بیٹھے رہیں کہ NABاُن کے مفاد کا بدستور تحفظ کر رہا ہے۔ جب شروع کرنے کی اطلاع دی، تو بند کرنے کا بتانا بھی لازم ہے۔ کیا اُنہیں دھو کے میں رکھا جائے؟ ‘‘ پھر یہ سوال اٹھایا کہ یہ کیوں لکھا کہ ’NAB اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتا ‘ ۔ میں نے کہا ، ’’اختلاف کرتا ہے اسی لئے کہا ہے ، اور یہ بات آپ اچھی طرح جانتے ہیں ، اور یہ بھی جانتے ہیں کہ انکوائری کیوں بند ہوئی ‘‘۔ کچھ بدمزگی کے بعد ختم ہو گئی۔

NAB میں میرے آنے کے کچھ عرصے بعد بازار میں چینی کی قیمت میں یکایک اضافہ کر دیا گیا تھا۔ اخباروں میں بھی اس کے بارے میں کافی تفصیلات چھپیں۔ میں نے NAB کے ذریعے کچھ بنیادی باتیں معلوم کیں، تو قیمت بڑھنے کی کوئی معقول وجوہات سامنے نہ آئیں۔ ایک چھوٹی سی ابتدائی تفتیش ( Preliminary Inquiry ) کی ، جس کا نتیجہ یہ تھا کہ صرف چینی کی ملوں کے مالکان کی مرضی سے قیمت بڑھائی گئی ہے۔ اس کی وجوہات ہماری مارکیٹ کے حالات پر مبنی نہیں تھیں۔ میں نے اس کی باقاعدہ انکوائری کے احکامات جاری کر دیے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ چینی کے کاروبار کی پیچیدگیاں شاید ہماری سمجھ میں نہ آسکیں، میں نے ریٹائر ڈ بریگیڈ یئر اکرم علی خان صاحب سے درخواست کی کہ اس سلسلے میں اپنے تجربے سے ہمیں مستفید فرمائیں۔ یہ فوجی فاؤنڈیشن میں کئی سال چینی کے کاروبار سے منسلک رہ چکے تھے۔ ان کا تعلق میری ہی یونٹ سے تھا اور مجھے ان پر پورا اعتماد تھا۔

انکوائری شروع ہوتے ہی کچھ سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ پہلے ان کا ایک وفد وزیراعظم صاحب کے پاس آیا ، پھر صدر صاحب کو بھی ملنے گیا۔ ان سب کے نام اور تفصیلات اخباروں میں آتی رہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل حامد جاوید صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں یہ انکوائری بند کر دوں ورنہ مارکیٹ سے چینی اُٹھالی جائے گی۔ پھر مجھے چیرمین CBR عبداللہ یوسف صاحب ملے ، اور سمجھایاکہ تم مارکیٹ کے اُتار چڑھاؤ (Market Dynamics ) کو نہیں سمجھتے ہو، ذرا آرام سے چلو۔ یہ ہماری پہلی ملاقات تھی۔ میں نے لوگوں کی مشکلات کا ذکرکیا، تو کہنے لگے ، ’’اگر تم نے انکوائری بند نہ کی تو چینی کی قیمت دگنی ہو جائے گی۔ تم کیا کر لو گے؟ پھر لوگوں کا کیا ہو گا؟ ‘‘ میں وزیراعظم صاحب سے بھی ملا۔ میں نے کہا’’ صرف چار چھ بڑے حضرات ہیں، جن کے زور پر چینی کی قیمت یوں بڑھائی گئی ہے۔ یہ تو حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے ۔ اگر حکومت NABمل کر بھی انہیں قابو میں نہ رکھ سکیں تو پھر گورنینس کیا رہ جائے گی؟ ‘‘

کہنے لگے ’’یہ گورنینس کا مسئلہ نہیں ہے ، اس میں صرف سیاسی پیچیدگیاں ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے کوئی اعتراض نہیں اگر آپ یہ انکوائری جاری رکھیں‘‘۔

میں نے سوچا کہ کچھ عرصے کا ہی وقت چاہیے کہ چینی کی قیمت سنبھلی رہے، پھر انکوائری کے بعد حالات قابو میں آجائیں گے۔ دفتر آکر چینی برآمد کرنے والے بڑے تاجروں کو کہلوایا کہ وہ اسلام آباد آکر مجھے ملیں ۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ کسی قسم کی فکر کی ضرورت نہیں، ہم نہ ہی مارکیٹ سے چینی غائب ہونے دیں گے اور نہ ہی اس کی قیمت میں اضافہ ہو گا۔ لیکن اس سے پہلے کہ میری ان تاجران سے ملاقات ہوتی ، چینی کی انکوائری بند کروا دی گئی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -