’’عظیم گدھ مرگیا‘‘یہ جملہ کس عظیم مسلمان حکمران کی موت واقع ہونے پر لکھا گیا اور یورپ اس خبر کو سنتے ہی تین دن تک جشن کیوں مناتا رہا؟ آپ بھی جائیے

’’عظیم گدھ مرگیا‘‘یہ جملہ کس عظیم مسلمان حکمران کی موت واقع ہونے پر لکھا ...
’’عظیم گدھ مرگیا‘‘یہ جملہ کس عظیم مسلمان حکمران کی موت واقع ہونے پر لکھا گیا اور یورپ اس خبر کو سنتے ہی تین دن تک جشن کیوں مناتا رہا؟ آپ بھی جائیے

  

لاہور(ایس چودھری)سلطان محمد فاتح ایک عظیم حکمران تھے جنہوں نے یسی بے مثال فتوحات کیں جو اس سے پہلے کسی حکمران کے حصے میں نہیں آئی تھیں۔ سلطنت عثمانیہ فتح قسطنطنیہ کے وقت 9لاکھ 64ہزار مربع کلومیٹر پر محیط تھی جس میں سے اناطولیہ میں 6لاکھ 84 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ تھا اور فتح قسطنطنیہ کے 28 سال بعد جب اس کی وفات ہو ئی تو سلطنت عثمانیہ کا رقبہ 22لاکھ 14ہزار مربع کلومیٹر تک پہنچ گیا تھا جس میں سے 17لاکھ 3ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ یورپ میں تھا اور 5لاکھ 11ہزار مربع کلومیٹر ایشیا میں۔ سلطان محمد فاتح اپنی سلطنت کا دائرہ مزید وسیع کررہے تھے جس نے صلیبیوں کی نیندیں اچاٹ کرکے رکھ دی تھی۔لہذا انہوں نے سلطان کے خلاف گہری سازش تیار کی ۔اور حرم سلطان میں اپنے ایک ایسے طبیب کو داخل کرادیا جس نے سلطان کی طبعی موت کا بہانہ پیدا کیا۔’’اٹلس فتوحات اسلامیہ ‘‘ میں لکھا ہے کہ سلطان محمد فاتح ،روم کی فتح کیلئے جنگی تیاریاں کر رہا تھاکہ اْسے اچانک شدید پیچش نے آلیا۔ یہ اس زہر کا اثر تھا جو لا کو بونامی وینسی طبیب سازش کے تحت سلطان کو بتدریج کھلاتا رہا تھا اور اس کے نتیجے میں اس فاتح اعظم کی موت واقع ہو گئی۔ لاکو بو نے مبینہ طور پر اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنا نام یعقوب پاشا رکھ لیا تھا۔ اس بدبخت نے سلطان کی موت کی خبر فی الفور وینس ارسال کی جو وہاں سولہ دن بعد پہنچی۔ اس کے مکتوب کے الفاظ مسیحی نفرت کی عکاسی کرتے تھے الفاظ یہ تھے:

Le Grand Aqullae Morta (عظیم گدھ مرگیا!)

یہ خبر پہنچتے ہی یورپ کے گرجوں کی گھنٹیاں بجنے لگیں اور پوپ کے حکم سے تین ر اتیں شکرانے کے مراسم ادا کئے جاتے رہے جبکہ عالم اسلام اطراف و اکناف میں الم کے بادل چھاگئے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -