بیلا روس میں چند روز

بیلا روس میں چند روز
بیلا روس میں چند روز

  

آخری حصہ

اگلے روز وفد تو آرٹ گیلری کی سیرکو چلا گیا اور وفد کا واحد پرائیویٹ بندہ راقم اپنے ویزہ بڑھانے کی کوشش میں لگ گیا، MAZ پلانٹ کے غیر ملکی تعلقاتِ عامہ کے شعبے کے نوجوان گارکن لیوند نے میری مدد کی تو چند روز کیلئے ویزہ بڑھا دیا گیا ۔ اس سلسلے میں سفیر صاحب نے بھی کافی مدد کی۔ اب میرے ٹارگٹ وفد سے جدا تھے لہٰذا میں نے اگلے دن BOBRUISKAGROMASK جانے کی ٹھانی۔ پلانٹ اور شہر نسک سے کوئی 120 کلو میٹر دور ہے۔ پلانٹ کی گاڑی صبح سویرے ہی پہنچ گئی۔ لہٰذا راقم جونہی پلانٹ پہنچا اس کا استقبال جناب میکم بولووا اور محترمہ الینا کو لاس نے کیا۔ مجھے شعبے کے چیف ولادی میر دائینیکو نے بھی ویلکم کہا، میں اس سے پہلے کراچی میں میکم اور الینا سے مل چکا تھا اوران سے تابانی نے ایک MOUبھی دستخط کیا تھا۔ اس پر کام آگے بڑھانے کی بات ہوئی۔ میں نے مطالبہ کیا کہ مجھے ادارے کی تمام ورکشاپیں اور پروڈکٹس کا ایکسپودکھایا جائے۔ لہٰذا ایسے ہی کیا گیا۔ سب نے کہا کہ لوگ اس سردی میں اس قسم کی کارروائی سے جان چھڑاتے ہیں اور آپ ہیں کہ اپنے آپ کو مشکل میں ڈال رہے ہیں۔ ہمارا جواب ایک ہی تھا۔ اگر کام آپ کے ساتھ کرنا ہے تو آپ کو اور آپ کے ادارے کو زیادہ سے زیادہ جاننا ہو گا۔

ادارے کے ریستوران میں پر تکلف لنچ کرایا گیا،تحائف کا تبادلہ ہوا اورپھر سرشام منسک روانہ ہوگیا۔ اگلے دن منسک آٹو موبائل پلانٹ کی سیر کی۔ وہاں بھی کراچی کے پرانے بیلو روسی دوستوں الکی و میتری وچ انکیتا گلا دی شیو اور اندر ے ایگر وچ سے کاروباری معاملا ت پر بات ہوئی۔ ادارے کی ورکشاپیں دیکھیں، پروڈکس کا جائزہ لیا۔ ادارے کے ریستوران میں کھانا کھایا اور شام ہو گئی ۔ اسی طرح ایک AMKADORُ ُپلانٹ کی سیر کی۔ وہاں بھی حسب معمول ادارے کی ایشیاء کی نمائش کا جائزہ لیا۔ کھانا کھایا، اور آرتھیوم الیکسندر دوج ، لیا ند پنچوک، اور انساتا سیا ولادیمیردونا نے کاروباری گپ شپ ہوئی۔

ایک دن سیف صاحب کے ہاں حاضری دی ۔ راجہ صاحب نے کافی حوصلہ بڑھایا اور کہا کہ بیلاروس کے ساتھ کام کرنے کا یہ سب سے اچھا وقت ہے۔ تین چار سال تک ہمارے لئے یہاں کافی امکانات ہیں ۔ اگر ہم نے کچھ نہ کیا تو پھر چھٹی۔ انہوں نے ایک فنی ادارے اور ایکسپورٹ کے شعبے کے ڈپٹی ڈائریکٹر سے میری ملاقات بھی کروائی مجھے منسک اور گرودنو میں مزید کئی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتوں کا موقع بھی ملا ۔ میں نے دیکھا کہ مسلم لیگ کی حکومت نے یہ در کھولا ہے نہ آئندہ آنے والی حکومتوں کی بیلا روس پر خاص توجہ ہے۔ ایسا نہ ہو کہ جیسے نواز شریف نے تاشقند میں سفارتخانہ کھول کر کام کا آغاز کیا تھا بعد میں سیاسی کشمکش نے وسطی ایشیا کے ساتھ ہمارے تعلقات پر پانی پھیر دیا۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

1917 سے 1924 تک سول وار کا شکار رہنے والا یہ ملک دوسری جنگِ عظیم میں نازی حملے کا پہلا سووویت شکار تھا اور جرمنوں نے اس کو تباہ و برباد کر دیا تھا، اگر محتاط اندازہ بھی لگا یا تو اس کا ہر تیسرا شہری موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ پھر 1991 میں سوویت انتشار کے بعد 1994 تک یہ ملک ایک بار پھر معاشی بدحالی کا شکار ہو گیا، ہر فیکٹری اور ہر کارخانہ بند ہو گیا۔ لیکن 1994 سے موجودہ قیادت نے جناب صدر لو کا شیسنکو Aleksander Lukashenko کی سربراہی میں نہ صرف اس کی صنعت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا ہے بلکہ دنیا میں ھیوی انڈسٹری کی دوڑ میں اگلی صفوں میں ہے ۔ تقریباً دس ملین آبادی والے اس ملک میں 99.7 فیصد لوگ پڑھے لکھے ہیں آدھی آبادی کام کرنے کے لائق ہے اور سب لوگ کام کرتے ہیں۔ صرف بچے اور بوڑھے بوڑھیاں کام نہیں کرتے۔ چھ صوبے میں اور بیلا روس کی تعداد 83.7 فیصد جبکہ روسیوں کی 8.3 فیصد ہے یہاں 3 فیصد پورشن اور دوفیصد یو کرینی رہتے ہیں۔ یہ ملک تین اطراف سے اپنے نظام کے سخت نحالفور اور ناٹو کی افواج میں گرا ہوا ہے۔ ایک ہزار کلومیٹرسے زیادہ بارڈر سول وار کے شکار یوکرین سے ملتا ہے لیکن نظام کی خوبصورتی ہے کہ صدر لوکا شینکا کے دفتر کے باہر صرف ایک پولیس والا گھوم رہا تھا۔ کیا کوئی سوچ سکتا ہے آج کے دور میں دنیا کا کوئی صدر حفاظتی گارڈز کے بغیر رہتا ہے۔اسی طرح صدر کی رہائش گاہ کے باہر بھی ایک پولیس مین متعین تھا۔ انسانی حقوق کی بات کریں تو ہر کام کرنے والے کو ملازمت میسر ہے۔ ہر پڑھنے والے کو مفت تعلیم دو اور ہر ایک کے علاج کا بندوبست ہے، یہ سوشلسٹ ریاست نہیں ہے لیکن اس کے قریب ترین ہے۔ امریکا اور ناٹو اسے تباہ کرنے کے درپے ہیں لیکن اس کی قیادت و عوام سینہ سپر میں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -