آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان... قسط نمبر 61

آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان... قسط نمبر 61
آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان... قسط نمبر 61

  

مجھے اس کہانی پر یقین نہ آیا۔یہ سراسر توہمات پر مبنی تھی۔میں نے تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا اور کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر دریائے چنار کی گزر گاہ چھان ماری مگر کہیں کسی شیرکے پنجوں کے نشان دکھائی نہ دیے۔پھر میں نے سوچا،شاید درندہ مشرق سے نمودار ہوا ہو۔اس طرف ہرے بھرے کھیتوں کا وسیع سلسلہ تھا۔ اگرچہ شیر کبھی کھیتوں میں بسیرا نہیں کرتا مگر دیکھ لینے میں کیا ہرج تھا۔ اس طرف بھی میری تلاش لا حاصل ثابت ہوئی۔

آخر میں نے چرواہوں سے درخواست کی کہ وہ مجھے سیٹھ کے مویشیوں سے دو چار جانور عاریتہ دے دیں تاکہ میں انہیں چارے کے طور پر استعمال کرکے شیر کو موت کے گھاٹ اتار سکوں مگر گاؤں کا ایک شخص بھی میرے ساتھ تعاون پر آمادہ نہ ہوا۔ ان کا خیال تھا ہ وہ اپنے ہی ایک ساتھی کی روح کو جو شیر کے روپ میں ظاہر ہو گی، کسی مصیبت میں گرفتار کرنے میں مدد نہیں دے سکتے۔ان کا یہ عقیدہ بھی تھا کہ ابھی کوئی ایسی گولی ایجاد نہیں ہوئی جو کسی روح کو موت کے گھاٹ اتار سکے۔

آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان... قسط نمبر 60 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پیسہ سب کام کروا لیتا ہے۔میں نے ان چرواہوں کو معقول رقم دے کر مویشی حاصل کر لیے جو پجاری نہ تھے، انہیں دھرم پر اتنا یقین نہ تھا ۔میں نے چار مختلف جگہوں پر بھینسیں باندھ دیں تاکہ پتا چل سکے کہ شیر جنگل میں موجود ہے یا نہیں۔رات ہونے میں بھی دیر تھی، اس لیے میں نے جنگل میں گھومنے پھرنے کا پروگرام بنایا۔چونکہ بستی کے لوگ میرے ساتھ تعاون نہیں کررہے تھے، اس لیے میں نے اپنے دوست بائرا اور شکاری رنگا کو ساتھ رکھا۔ یہ دونوں جنگل کے ماہر تھے۔ ہم تینوں مارے مارے پھرتے رہے۔کوئی ایسا نشان نظر نہ آیا جو شیر کے پنجوں سے مشابہہ ہو۔

شیر جس خاموشی سے نمودار ہوا تھا، اسی خاموشی سے روپوش ہو چکا تھا۔ میرا بنگلور واپس جانے کا دن آپہنچا۔میں نے چاروں بھینسیں واپس کر دیں۔ساتھ ہی چرواہوں کو خوش کرنے کے لیے کچھ انعام سے بھی نوازا۔

دو ماہ بعد داس اکیلا کار میں سفر کررہا تھا۔ وہ65میل دور سالم کے ہسپتال میں گوپال سوامی کو چھوڑ کر آیا تھا جہاں وہ آنکھوں کا آپریشن کروانا چاہتا تھا۔ دھرمپورہ تک ابھی40میل کا سفر اور درپیش تھا۔ یہاں سڑک تنگ ہو گئی اور آگے ایک تالاب کی وجہ سے موڑ تھا جسے ظاہر کرنے کے لیے اینٹوں کی دیوار چن دی گئی تھی جس سے سڑک تنگ ہو گئی تھی۔سامنے سے کسی ٹریفک کی امید نہ تھی۔اس لیے داس نے کار کی رفتار تیز کر دی۔

معلوم نہیں وہ اسٹیرنگ پر قابو نہ رکھ سکا یا پھر اگلا ٹائر پھٹ گیا۔ کسی کو یقینی طور پر وجہ معلوم نہیں۔اس حادثے کے صرف دو گواہ ہیں جو اس وقت تیزی سے گھروں کی طرف جارہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ کار اچانک سڑک سے نیچے اتری اور موڑ پر اینٹوں کی دیوار سے ٹکرا گئی۔چشم زدن میں وہ تالاب کے اندر گر چکی تھی۔

داس نے درندوں کے خوف کی وجہ سے شیشے چڑھا رکھے تھے۔ اس طرح وہ کار کے اندر بند ہو کر رہ گیا اور اس کے بچنے کی کوئی امید باقی نہ رہی۔ ایک ہفتے بعد پولیس نے کرین کی مدد سے کار باہر نکالی تو اس کی لاش برآمد ہو گئی۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کیا یہ محض اتفاق تھا کہ وہ اسی تالاب میں غرق ہو گیا تھا جس میں اس نے کیا را پجاری کی لاش پھینکی تھی؟ سیٹھ نرائن کو جب یہ خبر ملی تو اس پر دیوانگی کے دورے پڑنے لگے۔پہلے اس کا بچہ اور بیوی موت کے منہ میں پہنچے اور اب شوفرداس۔۔۔اور پھر۔۔۔! لازماً آئندہ اسی کی باری تھی۔اس جال سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہ آتا تھا۔ سوامی گوپال آپریشن کروا کر گاؤں لوٹا تو اس نے اپنے نوجوان بیٹے کو پاگل پن کی گرفت میں پایا۔وہ فوراً اسے سالم کے ہسپتال میں لے گیا اور روپیہ پانی کی طرح بہا دیا۔ بہترین ڈاکٹروں نے اس کا علاج کیا۔ نرائن نیم بے ہوشی میں کیارا اور مروی کا نام بڑبڑاتا رہتا اور ڈاکٹر کوئی تدبیر نہ کر سکے۔

سیٹھ نرائن کی وحشت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔اب اسے قابو میں رکھنا بھی محال ہوگیا تھا۔ بوڑھے باپ نے اسے پاگل خانے میں بھجوا دیا لیکن وہاں بھی اس کے دکھوں کا مداوانہ ہو سکا۔ ایک صبح ملازم ناشتہ لے کر نرائن کے کمرے میں گیا تو کمرہ خالی پڑا تھا۔ کسی شخص نے رات کو اسے وہاں سے نکلتے نہ دیکھا تھا۔ چار دن بعد مین روڈ سے پاناپتی کو جانے والی پگڈنڈی کے کنارے فضا میں گدھ منڈلاتے دیکھے گئے۔

بائرا نے جنگل میں غیر معمولی حرکت دیکھی تو اس کے کان کھڑے ہو گئے۔وہ قریب ہی اپنے مویشی چرارہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ گدھوں نے کسی لاش کا سراغ لگا لیا ہے۔میں بتا چکا ہوں کہ بائرا شکار کے گوشت کا رسیا ہے۔وہ اس مقام کی طرف بڑھا جہاں گدھ منڈلارہے تھے مگر لاش کے قریب پہنچا تو ٹھٹک کررہ گیا۔

یہ کسی جانور کا پچا کھچاڈھانچہ نہ تھا بلکہ ایک صحیح سالم انسانی لاش تھی۔سیٹھ نرائن کی بے نور آنکھیں خلا میں جمی ہوئی تھیں۔اس کی گردن پر شیر کے دانتوں کے نشان تھے مگر زمین پر شیر کے پنجوں کے نشان کہیں نظر نہ آئے۔

آج تک یہ اسرار نہیں کھلا کہ سیٹھ نرائن پاگل خانے کے مقتل کمرے سے نکل کر اس جنگل تک کیسے پہنچا، پھر اس پر جس شیر نے حملہ کیا، اس نے اسے کھایا کیوں نہیں؟

پاناپتی کے چرواہے اور پجاری اس راز کو سمجھتے ہیں۔انہیں کیا را کی پھٹکار یاد ہے۔اسی پھٹکار نے سیٹھ کے خاندان کا بیڑا غرق کر دیا۔ تمام مجرم کیفرکردار کو پہنچ گئے تھے مگر کس طرح! کس کے ہاتھوں!عقل ان سوالوں کا جواب دینے سے قاصر ہے۔

(جاری ہے )

مزید : کتابیں /آدم خور