فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر307

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر307
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر307

  

ہم مغربی پاکستان کے فلم والوں کو تو یہ خیالی داستانیں ہی لگتی تھیں کیونکہ یہاں کا فلمی ماحول‘ دستور اور طور طریقے اس سے قطعی مختلف تھے۔ بڑے اداکاروں کے نخرے ان کی ناز برداری اور ان کی ہر قسم کے قواعد اور ضابطوں سے آزادی یہاں معمول میں داخل رہی ہے لیکن مشرقی پاکستان میں حالات بالکل مختلف تھے۔ دیر سے سیٹ پر پہنچنا یا ہدایت کار کا حکم نہ ماننا وہاں ایک انہونی بات سمجھی جاتی تھی جب کہ یہاں یہ معمول میں داخل تھا۔ مشرقی پاکستان سے جو آرٹسٹ لاہور اور کراچی میں آ کر کام کرتے تھے کچھ عرصے بعد وہ بھی یہیں کے رنگ میں رنگ جاتے تھے۔

ہمیں یاد ہے کہ 1971ء میں عام انتخابات کے موقع پر مشرقی پاکستان سے اداکار فلم ساز ہدایت کار مصنّف و موسیقار خان عطاالرحمن ڈھاکہ سے چند روز کیلئے لاہور آئے۔ وہ اداکارہ شبنم کی کوٹھی میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ صبح ہم ان سے ملنے گئے۔ سرور بارہ بنکوی صاحب بھی وہاں موجود تھے۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ مشرقی پاکستان میں اردو فلموں کی ترّقی اور فروغ میں سرور صاحب کا کتنا نمایاں حصّہ ہے۔ وہ مصنّف بھی تھے‘ شاعر بھی تھے اور بہت قابل اور ہُنرمند ہدایت کار بھی تھے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر306 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ڈھاکہ کے اداکاروں‘ خصوصاً ہیروئنوں کو اردو بالکل نہیں آتی تھی چنانچہ اس مقصد کے لئے سرور بارہ بنکوی صاحب کی خدمات حاصل کی گئیں۔ سرور صاحب اس زمانے میں نوجوان اور خوش رو آدمی تھے۔ بہت اچھے شاعر تو تھے ہی مگر خوش گلو بھی تھے۔ ترنّم سے کلام سناتے تو سماں بندھ جاتا تھا۔ وہ انتہائی شائستہ اور بلند اخلاق انسان تھے۔ ڈھاکہ کی ہیروئنوں کو اردو‘ خصوصاً اردو تلفّظ اور لب و لہجہ سکھانے کا فرض سرور صاحب کو سونپا گیا تھا۔ شبنم نے جب اردو فلموں میں اداکاری شروع کی تو اردو بولنا تو کیا سمجھ بھی نہیں سکتی تھیں مگر انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے یہ مرحلہ طے کر لیا۔ سرور صاحب ان کے بھی استاد تھے اور شبنم نے ہمیشہ سرور صاحب کو استاد کا درجہ اور احترام دیا۔ جن دنوں سرور صاحب کا گھر لاہور میں نہیں تھا اور وہ لاہور آتے تھے تو شبنم بڑے اصرار سے انہیں اپنے گھر مہمان رکھتی تھیں۔ مشرقی پاکستان سے آنے والے اکثر فن کاروں کی میزبانی کا شرف شبنم اور روبن گھوش حاصل کرتے تھے۔

سرور صاحب بھی شبنم کو لاہور کی ہیروئنوں جیسے طور طریقے اختیار کرنے پر ٹوکا کرتے تھے۔ اس روز شبنم کی کوٹھی پر پہنچے تو ناشتے کا دوسرا دور چل رہا تھا۔ روبن گھوش‘ عطاء الرحمن خان اور سرور بارہ بنکوی بیٹھے کافی پی رہے تھے اور گپ شپ میں مصروف تھے۔ ہم بھی اس محفل میں شریک ہوگئے۔ خان عطاء الرحمن کو مختلف دفاتر میں کچھ کام تھے۔ سرور صاحب نے انہیں مشورہ دیا کہ آفاقی صاحب کی خدمات حاصل کرو۔ اس معاملے میں یہ بہت مفید ثابت ہوں گے۔

ہم نے ان سے مسائل دریافت کئے اور ان کے سبھی کام ایک ہی دن میں کرانے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

سرور صاحب سے سب کلام سنانے کی فرمائش کر رہے تھے‘ وہ جان بچانے کے لئے یہ عُذر پیش کر رہے تھے کہ اگر روبن باجے کے ساتھ گائیں گے تو وہ کلام سنائیں گے۔

روبن گھوش خاموشی سے اٹھے اور دوسرے کمرے سے ہارمونیم اٹھا لائے۔ اب سرور صاحب کیلئے کوئی بہانہ باقی نہیں رہا تھا، اس لئے انہوں نے غزل خوانی شروع کر دی۔ روبن بہت اچھّے موسیقار ہیں مگر شاعری زیادہ نہیں سمجھتے۔ مشکل الفاظ کے معنی پوچھتے رہتے ہیں لیکن خان عطاء الرحمن کا معاملہ مختلف تھا۔ وہ اردو سے بخوبی واقف تھے۔ انگریزی‘ اردو‘ بنگالی تینوں زبانیں جانتے تھے‘ ان کا اردو تلفّظ اور شین قاف بھی بالکل درست تھا۔ صاحب ذوق آدمی تھے۔ اچھّے شعر اور اچھّے فقرے کی دل کھول کر داد دیتے تھے۔ موسیقی کے رسیا تھے اور اچھّی موسیقی خواہ کسی نے بنائی ہو۔ اس کی تعریف کرنے میں بُخل سے کام نہیں لیتے۔

ایک بار رشید عطرے صاحب فلم ’’سوال‘‘ کے لئے ایک نغمہ بنا رہے تھے اور میڈم نورجہاں اس کی ریہرسل میں مصروف تھیں۔ خان عطاء الرحمن ان دنوں اپنی کسی فلم کے سلسلے میں لاہور آئے ہوئے تھے اور گراموفون کمپنی میں موجود تھے۔ میڈم کی آواز سنی تو کھنچے چلے آئے۔ گانے کے بول تھے۔

لَٹ اُلجھی سلجھا جا رے بالم

میں نہ لگاؤں گی ہاتھ رے

عطرے صاحب نے کمال کی دھن بنائی تھی اور میڈم نورجہاں غضب کی ادائیگی کر رہی تھیں۔ عطاء الرحمن چپ چاپ پیچھے کھڑے ہوگئے اور مسحوریت کے عالم میں سنتے رہے۔ کسی کی ان پر نظر نہ پڑی۔ جب تک گانے کی ریہرسل جاری رہی وہ اسی جگہ کھڑے رہے۔ ریہرسل ختم ہوئی تو آگے بڑھ کر سب سے ملے۔ علیک سلیک کے بعد انہوں نے رشید عطرے صاحب کا ہاتھ پکڑا اور کہا ’’عطرے صاحب آپ نے بہت خوبصورت گانا بنایا ہے۔‘‘

پھر میڈم کی طرف مخاطب ہوئے دونوں ہاتھ جوڑ کر بولے۔ ’’میڈم کو تو میں بس سلام ہی کر سکتا ہوں۔‘‘

وہ بذات خود نامور موسیقار تھے مگر بلا تامل دوسروں کے اچھے کام کا اعتراف کرلیا۔

ابھی ہم لوگ اس شغل میں مصروف تھے کہ شبنم اندر کمرے سے باہر نکلیں اور سب کو خدا حافظ کہہ کر رخصت ہونے لگیں۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

’’جَھرنا۔ کہاں جا رہی ہو؟‘‘ عطاء الرحمن نے پوچھا۔

انہوں نے جواب دیا ’’میری شوٹنگ ہے دادا۔ شام کو آ جاؤں گی۔‘‘

عطاء الرحمن نے حیران ہو کر دیوار پر لگی ہوئی گھڑی کی طرف دیکھا اور بولے ’’ساڑھے دس بجے ہیں۔ تم اس وقت شوٹنگ پر جا رہی ہو؟ اتنی لیٹ؟‘‘

شبنم جھینپ سی گئیں۔ پھر بولیں ’’دادا یہاں سب اس سے بھی زیادہ دیر میں آتے ہیں۔‘‘

عطاء الرحمن نے کہا ’’بڑے افسوس کی بات ہے۔ شبنم تم بھی یہاں کے رنگ میں رنگ گئی ہو۔ دوسرے چاہے کچھ بھی کریں۔ تمہیں تو اپنا اصول یاد رکھنا چاہیے۔ یہ سب کیا سوچتے ہوں گے کہ ہم نے ڈھاکہ میں تمہاری صحیح تربیت نہیں کی!‘‘

’’سوری دادا‘‘ شبنم نے نظریں جھکا کر کہا اور چُپکے سے باہر نکل گئیں۔

عطاء الرحمن ان کے جانے کے بعد روبن گھوش سے مخاطب ہوگئے‘‘ بڑے افسوس کی بات ہے روبن تم نے بھی اسے منع نہیں کیا۔‘‘

روبن چپ ہو رہے ورنہ ان کے پاس بھی یہی معقول جواب تھا کہ یہاں سب اس طرح کرتے ہیں۔

یہ تذکرہ تو یوں ہی نکل آیا۔ ہم اپنے سفر ڈھاکہ کی روداد بیان کر رہے تھے۔ اس سفر کے دوران میں اور بھی کئی دلچسپ واقعات پیش آئے جو ہمیشہ یاد رہیں گے۔

(جاری ہے )

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -