دو پڑوسی جو آپس میں جنگ پر اتر آئے، گھروں کا قلع بنالیا لیکن پھر ایسی بات ہوگئی کہ ایک کو ہار ماننا پڑ گئی

دو پڑوسی جو آپس میں جنگ پر اتر آئے، گھروں کا قلع بنالیا لیکن پھر ایسی بات ...
دو پڑوسی جو آپس میں جنگ پر اتر آئے، گھروں کا قلع بنالیا لیکن پھر ایسی بات ہوگئی کہ ایک کو ہار ماننا پڑ گئی

  

لندن(نیوز ڈیسک) پڑوسیوں کے درمیان لڑائی جھگڑا کوئی انوکھی بات تو نہیں ہے لیکن برطانیہ میں دو پڑوسیوں کے درمیان معمولی تنازعہ پہلے تو آٹھ سال پر محیط قانونی جنگ کی صورت اختیار کر گیا، اور پھر اس جنگ کا اختتام کچھ ایسے انداز میں ہوا کہ ایک فریق کی زندگی ہی برباد ہو گئی ہے۔

میل آن لائن کے مطابق ان دونوں ہمسایوں کے درمیاں آٹھ سال کی مقدمہ بازی کے بعد اب عدالت نے ایک فریق کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے دوسرے فریق کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنا گھر بیچ کر قانونی اخراجات متاثرہ فریق کو ادا کرے۔ مقدمہ ہارنے والے شخص ہرمن کانسٹنٹین کو حکم دیا گیا کہ وہ تین ہفتے کے دوران اپنا گھر فروخت کرے اور مقدمہ جیتنے والے شخص سردار علی کو وہ تمام قانونی اخراجات ادا کرے جو اس نے گزشتہ آٹھ سال کے دوران کئے ہیں ۔ عدالت کے حکم کے بعد 66 سالہ ہرمن کانسٹنٹین اور ان کی 57سالہ اہلیہ یوو ویٹ گھر خالی کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

کانسٹنٹین فیملی کا موقف تھا کہ علی فیملی نے ان کے گھر کے تین انچ حصے پر قبضہ کررکھا ہے اور اس بناءپر ہی گزشتہ ایک دہائی سے دونوں خاندانوں کے درمیان جنگ جاری تھی۔ آئے روز لڑائی کی وجہ سے دونوں نے اپنے گھروں کو قلعے کی شکل دے رکھی تھی اور ایک دوسرے کی نگرانی کے لئے کیمرے بھی لگائے ہوئے تھے۔ طویل عدالتی کاروائی کے بعد بالآخر یہ فیصلہ سامنے آیا کہ کانسٹنٹین فیملی کا مﺅقف غلط تھا۔

ہرمن کانسٹنٹ ٹین کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کا خاندان اس گھر میں 30 سال سے رہ رہے ہیں لیکن اب عدالت نے انہیں گھر بیچنے کا حکم دے دیا ہے۔ دونوں میاں بیوی بے حد دکھی ہیں لیکن عدالت کے حکم کے سامنے کوئی چارہ نہیں، لہٰذا دونوں اپنا سامان پیک کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزید :

ڈیلی بائیٹس -