سرکاری اداروں میں تبدیلی کا موسم

سرکاری اداروں میں تبدیلی کا موسم
 سرکاری اداروں میں تبدیلی کا موسم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

میرے بہت ہی پیارے دوست لقمان شیخ مثبت بحث کرنے میں ماہر ثابت ہوئے ہیں ، وہ صرف اُس موضوع پر بحث کرتے ہیں جس کے حوالے سے انہیں مکمل معلومات ہوں ،چند دن قبل وہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان میں آہستہ آہستہ تبدیلی آنا شروع ہو گئی ہے ، میں نے اُن کی بات کو گرہ لگاتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا کہ واقعی یار تبدیلی تو آگئی ہے ، ابھی چند روز پہلے گرمی تھی لیکن آج کل سردی ہے ،مسکراتے ہوئے لقمان نے کہا کہ آپ بات کو مزاح کی طرف لے جاتے ہیں مگر جن حالات میں موجودہ حکومت کو اقتدار ملا اُن حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو تھوڑا وقت درکار ہو گا مکمل تبدیلی لانے کے لئے ، میں نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔

موصوف اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولے کہ آئیں میں آپ کو اپنے معاشرے کے اُس ادارے میں لے کر چلوں جسے کرپشن کا بادشاہ سمجھا جاتا ہے ،لیکن در حقیقت ایسا نہیں ہے ، اُن کا اشارہ یقیناً محکمہ پولیس کی طرف تھا ، میں نے حامی بھر لی لہذاہم سی ٹی او لاہور کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک کے آفس پہنچ گئے جو لقمان کے دوست ہیں اُن سے ملاقات ہوئی، بات چیت بھی ہوتی رہی اور سی ٹی او ٹریفک کے حوالے سے اپنے ملازمین کو ہدایات بھی دیتے رہے ، ڈرائیونگ لائسنس بنانے اور ری نیو کرنے کے احکامات بھی دوران گفتگو جاری رہے ،

آن ڈیوٹی میجر ، کرنل ، کیپٹن ، بیورو کریٹس اور دوسرے سرکاری ملازمین خود آکر اپنا ڈرائیونگ لائسنس بنوا رہے تھے ، جو میرے لئے حیران کن بات تھی ، سی ٹی او آفس میں ٹی وی سکرینیں بھی تھیں جن پر مختلف نیوز چینل کی خبریں جاری تھیں ، یکایک ایک خبر نے میری حیرانی میں مزید اضافہ کر دیا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سی ٹی او آفس میں خود آئے اور اپنا لائسنس بنوا کر گئے ، ٹی وی چینلز پر یہ خبر چل رہی تھی ، میں نے سی ٹی او سے پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خود آکر اپنا لائسنس بنوائیں ، اُن کے آفس سے آنے والا ایک فون ہی کافی ہوتا لائسنس بنانے کے لئے ، جواب میں سی ٹی او مسکرائے اور کہا کہ فون آیا تھا لیکن میں نے کہا کہ چیف صاحب کو خود آنا پڑے گا ، کہا گیا کہ پہلے تو ایسا نہیں ہوتا تھا ، میں نے کہا کہ اب پہلے والا ماحول نہیں ہے ،

آفرین ہے کہ چیف صاحب تک جب یہ بات پہنچی تو وہ بغیر پروٹو کول میرے دفتر میں تشریف لے آئے انہوں نے نہ صرف لائسنس بنوایا بلکہ مجھے شاباش دی اور کہا کہ ’’ ویری گڈ ‘‘
قانون سب کے لئے ایک جیسا ہونا چاہیئے ، موجودہ حکومت کی طرف سے تبدیلی کی شروعات ہونے کا بہترین ثبوت میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا کیونکہ سابقہ دور حکومت میں یہ سب کچھ ایک خواب کی مانند تھا ، میں نے سی ٹی او کی ایمانداری ،جرات اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی سی ٹی او آفس آمد کو زبردست الفاظ میں سیلوٹ پیش کیا اور اجازت لے کر آفس سے نکل گئے ، وہاں سے ہم ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیاض نزیر کے دفتر میں پہنچ گئے وہاں اُن سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے کہا کہ آج سے دس پندرہ سال پہلے پولیس میں نوکری لینے کے لئے لوگ پیسے کیوں دیتے تھے ، اس سوال کا جواب انہوں نے خود ہی دے دیا اور کہا کہ وہ ایک طرح کی انوسٹمنٹ کی جا تی تھی ،

پھر کرپشن کے ذریعے نوکری پر لگائے جانے والے پیسے پورے کئے جاتے بلکہ منافع بھی کمایا جاتا تھا ، انہوں نے کہا کہ اب ایسا نہیں ہے کیونکہ اب پولیس کی نوکری میرٹ پر ہی ملتی ہے ، نماز کا وقت ہو گیا تو ڈی آئی جی نے گفتگو کا سلسلہ موخر کیا اور نماز ادا کرنے کے لئے چلے گئے واپس آئے تو گفتگو وہیں سے شروع کی گئی جہاں وہ چھوڑ کر گئے تھے ، انہوں نے بتایا کہ پولیس کے کام میں سیاسی مداخلت کی شرح بہت کم ہے جبکہ معاشرے کے باقی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد جن میں بیورو کریٹس ، پولیس آفیسرز ، دوست احباب ، کلاس فیلوز اور رشتہ داروں کی طرف سے سفارش کئے جانے کی شرح کہیں زیادہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی ادارے سفارش اور کرپشن کے سخت خلاف ہیں جس کا ثبوت آپ کے سامنے ہے ، جیسا کہ پہلے جن لوگوں کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ وہ جیل جائیں گے ، اُن پر مقدمات بنیں گے یا اُن کے خلاف کرپشن کی تحقیقات ہوں گی ، مگر اب یہ سب ہو رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو قانون کا احترام اور مثبت زندگی گزارنے کی بہتر تعلیم دے سکتے ہیں ،انہوں نے بتایا کہ تھانہ کلچر اور پولیس ملازمین کی اخلاقی اقدار کو اجاگر کرنے میں ہمارا معاشرہ بہتر کردار ادا کر سکتا ہے ، انتہائی نفاست سے اور نپی تلی گفتگو کرنے والے ڈی آئی جی آپریشنز فیاض نزیر سے ہم نے اجازت طلب کی اور اس بہترین اور معلوماتی ملاقات کا شکریہ ادا کرکے ڈی سی لاہور محترمہ صالحہ سعید کو ملنے روانہ ہو گئے ، ڈی سی لاہور کو ہم جی آر او ون کیمپ آفس میں ملے جہاں انہوں نے انتہائی شفقت سے ہمیں خوش آمدید کہا ، اس ملاقات میں ہالینڈ سے آئے ہوئے لارڈ ایم کے پاشا بھی ہمارے ساتھ تھے۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ لاہور کی ڈی سی کوئی خاتون تعینات ہوئی ہو اور وہ بھی محض اپنی قابلیت کے بل بوتے پر ، ڈی سی لاہور سے بات چیت کا آغاز ہوا تو انہوں نے بتایا کہ جب ڈی سی لاہور کی تعیناتی کے لئے میرا انٹرویو ہوا تو خاتون ہونے کی بات پر میں کہا تھا کہ اگر یہ بات ہے تو ایک خاتون کسی طرح بھی مردوں سے کم نہیں اور خواتین مردوں سے زیادہ کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور میں یہ کام کرکے دکھاوں گی ، اب میرا کام آپ سب کے سامنے ہے کیونکہ میں ثابت کرنا چاہتی ہوں کہ عورت مرد کے شانہ بشانہ کام کر سکتی ہے اور ہمارا معاشرہ ان فرائض کی ادائیگی میں مجھے سر خرو کرنے کے لئے میرا مکمل ساتھ دے رہا ہے، ڈی سی لاہور نے بتایا کہ اس سے بڑی تبدیلی اور کیا ہوگی کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں ایک خاتون کو ڈی سی تعینات کیا گیا اور جب سے میں نے اپنی ڈیوٹی سنبھالی ہے تب سے مجھے آج تک سفارش کے لئے ایک بھی سیاسی فون نہیں آیا ۔

ہم نے کہا کہ لاہور میں ڈی سی کے حکم سے اسٹیج ڈرامہ ہال ایک بجے بند ہو جاتے ہیں لیکن اگر ایک بج کر تین منٹ ہو جائیں تو وہاں کام کرنے والے اداکاروں کو آپ کے کلرک بادشاہ نوٹس بھجوا دیتے ہیں اور اُن کو طرح طرح سے ڈراتے دھمکاتے ہیں کہ تمہیں ’’ بین ‘‘ کر دیا جائے گا ، لہذا مہربانی فرما کر پندرہ سے بیس منٹ کی رعائت دی جائے تاکہ اگر کوئی تاخیر شکار ہو تو اُسے نوٹس جاری نہ ہو ، جس کے جواب میں ڈی سی صاحبہ نے وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ میں کل آفس جا کر اس معاملے کا بغور جائزہ لوں گی اور یہ رعائت بحال کی جائے گی ، ایک بہادر ، ایماندار اور با ہمت خاتون ڈی سی لاہورصالحہ سعید سے ملاقات اور بات چیت نے وقت گزرنے کا احساس نہ ہونے دیا ،

چائے بھی ختم ہو چکی تھی ، ہم نے اجازت مانگی اور ڈی سی کے لئے دعائیہ اور اختتامی کلمات کے ساتھ رخصت طلب کی اور واپس روانہ ہو گئے ، گھر پہنچنے تک سارے راستے پو لیس آفیسرز اور ڈی سی لاہور سے ہونے والی ملاقات ، وطن عزیز میں تبدیلی اور حقیقی جمہوریت کے پنپنے جیسے موضوعات زیر بحث رہے ، لقمان شیخ ، لارڈ پاشا اور میں نے اس بات پر اتفاق کا اظہار کیا کہ واقعی پاکستان میں حقیقی تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے اور وہ دن دور نہیں جب یہاں یکساں اور فوری انصاف کی فراوانی ہوگی اور ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں سینہ تان کر کھڑے ہوں گے ۔

مزید :

رائے -کالم -