میرے شہر ملتان کا ایک شاعر

میرے شہر ملتان کا ایک شاعر
میرے شہر ملتان کا ایک شاعر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


سرائیکی کی ایک کہاوت ہے: ”بھاند سادی ہر شے بھاندی“ یعنی اچھے آدمی کی آپ کو ہر چیز اچھی لگتی ہے۔
ارشد اقبال آرش مجھے تب بھی اچھے لگتے تھے، جب یہ پاکستان سے دور ”ساحلوں پر محبتیں“ کیا کرتے تھے اور آج بھی من کو بھاتے ہیں، جب یہ ”پتھر کا پیرہن“ پہن کر، آئینہِ دل پر ”عکسِ ہنر“ اتارتے چلے جا رہے ہیں۔ وہ کومٹ منٹ کے آدمی ہیں۔ ان کی کومٹ منٹ زندگی سے ہے۔ وہ زندگی جو سسکتی ہے، بلکتی ہے، روتی ہے، بسورتی ہے، چیختی ہے، چنگھاڑتی ہے، تڑپتی ہے اور تڑپاتی ہے۔ جیتوں کو مارتی ہے، ہنستوں کو رُلاتی ہے اور روتوں کو ہنساتی ہے۔ ان کی شاعری زندگی سے بھرپور ہے، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ان کی شاعری زندگی کا عکس ہے۔ وہ گل و بلبل اور عارض و رخسار کے دائروں میں مُقّید نہیں، بلکہ انسانی دکھوں، کیفیات و جذبات اور آلام و مصائب کے ناہموار راستوں کے راہی ہیں۔ سبب اس کا یہ ہے کہ انہوں نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اپنی دنیا انہوں نے آپ پیدا کی ہے جس میں ان کا خونِ جگر صَرف ہُوا ہے۔ ہجرت کے تجربے سے گزرے ہیں۔ ایک شاعر کے لئے ہجرت کا تجربہ کسی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ ہجر اور ہجرت پتھر کو بھی شاعر بنا سکتے ہیں اور میرے دوست ارشد اقبال آرش کے سینے میں ویسے بھی ایک نہایت درد مند دل ہے جو دوسروں کے لئے دھڑکتا ہے۔ ان کا تعلق سیاست سے بھی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ ہماری سیاست نہایت بے رحم ہے۔ یہ اپنے سوا کسی کو نہیں دیکھتی۔ یہ ہمیشہ اپنے لئے ایک راستہ بناتی ہے اور مفاد کی منزل تک پہنچ کر ہانپنے لگتی ہے۔ ارشد اقبال آرش اہلِ سیاست کے اس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو کبھی کبھی عام آدمی کو بھی نظر بھر کر دیکھ لیتا ہے۔ اس کے آنسو پونچھنے کی خواہش دل میں رکھتا ہے۔ شاعر کا تعلق سیاست سے ہو تو دونوں کا بھلا ہو جاتا ہے۔ شاعری کا بھی اور سیاست کا بھی۔ شاعری کُندن بن جاتی ہے اور سیاست خدمت کا ایک ذریعہ۔ ارشد اقبال آرش کی شاعری کو بھی سیاست نے کُندن بنا دیا ہے اور ان کی سیاست، خدمت کے راستے پر گامزن نظر آتی ہے۔ ان کی شاعری میں سیاست نے کیا پختگی پیدا کی ہے؟ آپ بھی ملاحظہ کیجئے:


کچھ نہیں بس کچھ نہیں، اب تم سے کہنا کچھ نہیں
جاؤ جاؤ میرے قاتل! تم سے شکوہ کچھ نہیں
…………………………
مَیں نے دل کا خُوں دیا تھا، یہ چمن خوش حال ہو
مجھ سے کہتے ہیں سبھی یہ، حق تمہارا کچھ نہیں
انسانیت کے جگ میں، آثار ہم بھی دیکھیں
نفرت تو دیکھ لی ہے، اب پیار ہم بھی دیکھیں
…………………………
اس زندگی کا مقصد اتنا فقط ہو ہر سُو
آمادہ سب کو حق پر، تیار ہم بھی دیکھیں


…………………………
پھرتے ہیں مارے مارے خوشبو تلاشتے ہم
گلشن کے خار و خس کو گلزار ہم بھی دیکھیں
…………………………
لگتا ہے پڑھ کے جیسے دنیا میں دُکھ ہی دُکھ ہیں
امن و امان کا اک دن، اخبار ہم بھی دیکھیں
…………………………
تعمیر جس کے دل میں زندہ رہی ہو آرش
حسرت ہے کوئی ایسا معمار ہم بھی دیکھیں


ارشد اقبال آرش کی شاعری میں زندگی ہی کا رونا دھونا نہیں، بلکہ تفہیمِ ذات اور خود شناسی کی گہرائیاں بھی ہیں جو پڑھنے والے کو اپنے اندر سمو لیتی ہیں۔ ان کی شاعری کا قاری اس گہرائی میں یوں کھو جاتا ہے کہ اس کا اپنے آپ میں واپس آنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یقین نہیں آتا تو یہ اشعار دیکھ لیجئے:
ہم تری داستاں کے تھے ہی نہیں
اس زمیں آسماں کے تھے ہی نہیں


…………………………
جو کہا ہم بَرملا ہی کہا
ہم کبھی درمیاں کے تھے ہی نہیں
کیوں ہمیں اس جہان میں بھیجا
ہم تو اس خاکداں کے تھے ہی نہیں
…………………………
جس جگ عشق لے گیا ہم کو
ہم تو آرش وہاں کے تھے ہی نہیں


ارشد اقبال آرش کی شاعری پر اپنی رائے دینے کے بعد اپنے قارئین کی خدمت میں عرض کیے دیتا ہوں کہ زندگی کو غزل کی کلاسیکیت کے آئینے میں دیکھنے والے اس شاعر کا تعلق جنوبی پنجاب کے مردم خیز اور طوفان آشنا شہر ملتان سے ہے۔ انہوں نے ایک قناعت پسند اور گوشہ گیر آدمی کی طرح، سب سے الگ تھلگ شعر و سخن کا آتش دان روشن کر رکھا ہے جس کی روشنی اور حرارت ہم لاہور والوں تک بھی پہنچتی رہتی ہے۔ اس کی شاعری کے جوہر کو اقبال ارشد، ممتاز اطہر، مختار ظفر، حسین سحر اور اعتبار ساجد نے بھی سراہا۔ لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ ارشد اقبال آرش، غالب کے برعکس، اپنے پاؤں کے آبلے دیکھ کر ایک دفعہ تو گھبرا ہی گئے تھے اور انہوں نے شاعری سے تائب ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا،لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ چور چوری سے جائے، ہیرا پھیری سے نہیں جاتا۔ جس کے اندر سخن کی آگ جل رہی ہو، وہ کس طرح جمود کا شکار ہو سکتا ہے۔ سخن کا شعلہ بجھی ہوئی راکھ سے بھی سر اٹھا لیتا ہے۔


مَیں آخر میں دعا کروں گا کہ ارشد اقبال آرش کے دل میں سخن کا یہ شعلہ اسی طرح بھڑکتا رہے، تاکہ ہمیں اس کی غزلیں پڑھنے کو ملتی رہیں۔

مزید :

رائے -کالم -