اللہ تعالیٰ کی بے حد و حساب نعمتیں 

اللہ تعالیٰ کی بے حد و حساب نعمتیں 
اللہ تعالیٰ کی بے حد و حساب نعمتیں 

  

 اپریل 2020ء کی ایک رات تھی اچانک سانس لینا دشوار ہونے لگا،کرونا کا پاکستان میں زور تھا  فوراً یقین ہوگیا کہ کرونا اپنا وار کر گیا اب  اپنے رب سے دعا کرنی ہے  اور اسی کے کرم سے اس سے نجات پانی ہے وہ رات بہت بھاری رہی  سانس کی نعمت کیاہوتی ہے اس رات احساس ہوا  ایک مکمل سانس لینا کتنی بڑی رحمت خدا وندی ہے اس رات پتہ چلا۔ دل میں کئی بار خیال آیا کہ ایسا کیوں نہیں کہ ہم انسان ایک ہی سانس اتنی لمبی لے لیتے کہ اگلے کئی گھنٹوں یا دنوں تک ہمیں مزید سانس لینے کی ضرورت نہ رہتی، ہم ایک وقت اتنا کھا لیتے کہ کئی ہفتے ہماری خوراک کی ضرورت پوری رہتی، ہم پانی اس قدر پینے پر قادر ہوتے کہ کئی روز تک پیاس نہ لگتی۔ہوا، پانی اور خوراک پر ہم انسانوں کو اختیار کیوں نہیں دیا گیا  اور ہمیں سانس کے بغیر چند منٹوں، پیاس کے بغیر چند گھنٹوں اور بھوک کے بغیر ایک دن کا  محتاج بنا دیا گیا ہے۔ ذرا سوچئے ایسا کیوں ہے؟  اس سوال کے جواب میں ہی خدا کی طاقت، قدرت، حاکمیت  اور عظمت کا جواب موجود ہے۔اسی سوال کے جواب میں ہی خدا کے  رحیم  و کریم ہونے کی تفسیر بھی کھل کر سمجھ آجاتی ہے کہ ہم انسان زمین پر خدا بنے پھرتے ہیں اور ہماری ہٹ دھرمیوں، سرکشیوں اور بداعمالیوں کے باوجود بھی وہ ہمیں سانس لینے کی مہلت دے رہا ہے، انواع و اقسام کے کھانے عطا کر رہا ہے اور ہم مشروبات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

انسانی تخلیق پر اگر غور کریں تو اللہ پاک نے انسان کو کیا کمال تخلیق کیا ہے ہم اپنے جسم کے کسی ایک حصے پر ہی غور کر لیں تو ہم اللہ کا شکر ادا کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ دل انسانی جسم کا سب سے اہم حصہ شمار ہوتا ہے سینے میں دھڑکتے اس دل پر غور کریں تو انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے ایک خود کار پمپ ایک منٹ کے اندر چھ لٹر خون جسم کے ہر حصے تک پہنچاتا ہے اور جن نالیوں سے یہ گزر کر جاتا ہے ان میں صرف شریانوں اوروریدوں کی پیمائش ممکن ہے اور وریدوں کی بھی صرف پانچ مائیکرو میٹر سائز  تک پیمائش ممکن ہوتی ہے  اگر  دوتین سال کے بچے کی تمام خون کی نالیوں کی پیمائش کی جائے تو یہ 60 ہزار میل لمبائی پر محیط ہوتی ہے  اور ایک بالغ انسان کی ایک لاکھ میل لمبی ہوتی ہیں اب ذرا غور کیجئے تو دل ہر منٹ کے اندر چھ لٹر خون ان میں سے پاس کر رہا ہوتا ہے۔ذرا  ایک لمحے کے لئے غور کریں کہ ماں کے پیٹ کے اندر کہاں سے میلوں لمبی خون کی نالیاں خود بخود بچھ جاتی ہیں اور انسانی مشین تیار ہوجاتی ہے  وہ بھی کوئی سالوں میں نہیں صرف نو ماہ میں، اللہ اکبر کبیرا۔۔۔۔۔بات بس خون کے فلو پر ہی ختم نہیں ہوتی خون کی رگوں کی تین قسمیں ہیں  شریانیں، رگیں اور کیپلری۔۔۔ شریانیں آکسیجن ملے  خون کو دل سے دور لے جاتی ہیں۔یہ باہر سے سخت ہوتی ہیں  ان کے اندر خلیوں کی ایک ہموار اندرونی پرت ہوتی ہے جس سے خون آسانی سے بہتا ہے۔شریانوں میں ایک مضبوط پٹھوں کی درمیانی پرت بھی ہوتی ہے جو خون کو پمپ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ کیپلریز شریانوں کو رگوں سے جوڑ کر شریانوں سے آکسیجن سے بھر پور خون پہنچاتی ہیں جہاں پر خون سے آکسیجن  کاربن ڈائی آکسائیڈ الگ  ہوتی ہے یہاں سے  رگیں خون پھیپھڑوں اور دل کو پہنچاتی ہیں  انہی رگوں میں دل کے والو ہوتے ہیں جو خون کے بہاؤ کی سمت متعین کرتے ہیں۔

اللہ پاک کی بنائی ہوئی انسانی  مشین کا ایک اور دلچسپ سسٹم لبریکشن ہے۔انسان نے جتنی بھی مشینیں آج تک بنائی ہیں ان میں لبریکشن کے لئے باہر سے لیوب آئل ڈالا جاتا ہے لیکن انسانی جسم میں جسم کے اندرسے لبریکشن پیدا ہوتی ہے۔

انسانی جسم بڑا دلچسپ ہے  ہم جو سبزی، فروٹ یا خوراک کھاتے ہیں یہ ان کو زندہ بافتوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔ان سے جسم میں خون،ہڈیوں، دانتوں اور بالوں کی نشوونما ہوتی ہے۔کسی زخم ، چوٹ یا بیماری کی صورت میں یہ خود اس کی مرمت کرتے ہیں۔

دماغ تو ایسا شاہکار ہے کہ انسان اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کرے کم ہے۔دماغ ہماری یاد داشت کو محفوظ رکھتا ہے اور ہمارے جسم کے ہر ایکشن کو اسی سے حکم نامہ ملتا ہے۔ہمارا ہر عمل اسی سے کنٹرول ہوتا ہے۔دنیا میں جتنے بھی کمپیوٹر بنائے گئے ہیں  وہ تاروں الیکٹرانک حصوں کے ذریعے اپنے دماغ ہارڈ ڈسک سے جڑے ہوتے ہیں لیکن انسانی دماغ اعصابی نظام سے کام کرتا ہے اور اس کے کام کرنے کی صلاحیت دنیاکے کسی بھی سپر کمپیوٹر سے کئی گنا زیادہ ہے۔یونیورسٹی آف ساؤتھ کیلیفورنیا کی ایک سٹڈی کے مطابق انسانی دماغ کی سٹوریج کیپسٹی 256  بلین گیگا بائٹ ہے۔ سٹین فورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کا خیال ہے کہ انسانی دماغ کی سٹوریج کیپسٹی 125 ٹریلین سنیپس ہے۔

کان ایک اور نعمت ہے  جو آواز ہم باہر سے سنتے ہیں وہ  صوتی لہروں سے ہمارے کان سے ٹکراتی ہیں اور اندر سے آواز ہمیں سنائی دیتی ہے۔اللہ نے انسان کو کمال تخلیق کیا ہے۔ اس کے جسم میں کئی کام خود کار ہو رہے ہیں۔اللہ نے اسے بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں  وہ چاہتا تو اسے سانس پھیپھڑوں میں کئی گھنٹے سٹور کرنے،پیاس کئی روز تک برداشت کرنے  اور بھوک کئی ماہ تک نہ لگنے پر قادر کر سکتا تھا لیکن  اللہ نے اس کو اپنا  محتاج بنا دیا ہے۔یہ  چند لمحوں کی سانسیں، کچھ گھنٹوں کی پیاس اور ایک دو دن سے زیادہ بھوک برداشت نہیں کرسکتا  تا کہ انسان کو ہر وقت یہ یقین رہے کہ وہ اللہ کی مخلوق ہے اور اللہ اس کا مالک ہے اور وہی اسے نعمتیں عطا کر رہا جس کی بدولت وہ زندہ ہے۔  اسے ہر لمحے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -