ریاست مدینہ میں میڈیا وار کا نبوی منہج!

ریاست مدینہ میں میڈیا وار کا نبوی منہج!
ریاست مدینہ میں میڈیا وار کا نبوی منہج!

  

میڈیا وار ایک ایسی حقیقت ہے جس سے آنکھیں چرانا کسی طور پر ممکن نہیں ہے۔زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں صرف عراق جنگ کا ہی مطالعہ کر لیا جائے تو میڈیا وار کی سنگینی کا احساس ہوتا ہے۔ یہ میڈیا ہی تھا جس کے ذریعے دنیا کو صدام حسین کے بائیولوجیکل ہتھیاروں سے ڈرا کر لڑائی کا میدان تیار کیاگیاتھا۔یہ میڈیا ہی ہے جس کے ذریعے دنیا میں کسی مسلمان سے ہونے والے جرم کو اسلام کا جرم بنا دیا جاتا ہے جبکہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے جرائم کو ان کا ذاتی فعل قرار دیا جاتا ہے۔ یہ میڈیا ہی ہے، جس کے ذریعے نبی کریمﷺ کی ذات بابرکات پر طعن و تشنیع کو ”آزادی اظہار“ جبکہ ہولوکاسٹ پر بات کرنا یا ریسرچ کرنا جرم بتایا جاتاہے۔ مشہورزمانہ ”پروٹوکول“ نامی دستاویزات اور گوئبل فلاسفی بھی یہی بتاتی ہے کہ میڈیا ہی دنیا پر راج کرنے کا بہترین ذریعہ ہے اور اسی کے ذریعے جھوٹ کو بار بار دہرا کر سچ بنایا جا سکتا ہے۔

لیکن یہی میڈیا خیر کا سامان بھی بن سکتا ہے بشرطیکہ اسے نبوی میسج کے مطابق ڈھال لیا جائے اور ان زریں اصولوں پر عمل کیا جائے جو ریاست مدینہ کے والی نے متعارف کرائے۔ یہ اصول کیا تھے اس پر ایک مقالہ تک لکھا جا سکتا ہے، لیکن فی الحال میرے پیش ِ نظرمسلم شریف کی ایک حدیث (نمبر: 2490) ہے، جس کا سنٹرل پوائنٹ یہ ہے کہ قریش نبی کریم ﷺ کی ہجو (برائی) کرتے تھے تو ان کا جواب دینے کے لئے ایک لائحہ عمل اپنایا گیا۔یہ حدیث میڈیا وار کے باب میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، اور اسے بہت سے اصول اخذ کیے جا سکتے ہیں۔

اصول (1):اس مقصد کے لئے ہر ایرے غیرے کو متعین نہیں کیا جا سکتا بلکہ انٹرویو کرکے مناسب بندے کا انتخاب کیا جائے گا جیسا کہ اس حدیث میں بیان ہوا ہے کہ پہلے ابن رواحہ کو لایا گیا، انہوں نے ہجو کی، لیکن حضور اکرمﷺ کو پسند نہ آئی، پھر حضرت کعب بن مالک کو لایا گیا، لیکن بہتر کی تلاش جاری رہی یہاں تک کہ حضرت حسّان بن ثابت تشریف لائے اور انہیں منتخب کیا گیا،یعنی حضور اکرمﷺ کے سامنے ہی تینوں حضرات نے باقاعدہ اپنا ڈیمو دیا۔اصول (2):جب کوئی بندہ منتخب کیا جائے تو انتخاب کی وجہ بھی بتانی چاہئے تا کہ کسی کے دل میں بدگمانی پیدا نہ ہو جیسا کہ آپ ﷺ نے انہیں منتخب کرنے کی وجہ یہ بتائی کہ یہ اس میدان کے شیر ہیں۔اصول (3):جب انٹرویو میں کوئی پسند آ جائے تو اسے کسی فرضی یا حقیقی سچوئیشن بتا کر پوچھا جائے کہ اسے کس طرح ہینڈل کرے گا تا کہ اس لیاقت کا اندازہ ہو جائے جیسا کہ حدیث میں ہے آپﷺ نے ان سے پوچھا: قریش کی ہجو بیان کرنی، لیکن میرا نسب بھی تو قریش سے ہی ہے اسے کیسے ڈیل کرو گے؟حضرت حسّان نے جواب دیا کہ میں آپ کو ان سے بالکل ایسے جدا کر لوں گا جیسے آٹے سے بال جدا کیا جاتا ہے۔اصول (4): بات بے شک دشمن کے خلاف ہی کیوں نہ کرنی، لیکن اس میں سچ کے علاوہ کسی بھی چیز کی آمیزش نہیں ہونی چاہئے۔جیسا کہ عرب میں اس وقت تین کہاوتیں بولی جاتی تھیں:آٹے سے بال الگ، شہد سے بال الگ کرنا، روٹی سے بال الگ کرنالیکن حضرت حسّان نے آٹے کا تذکرہ کیا، کیونکہ بال اگر روٹی سے الگ کیا جائے تو اس کے ٹوٹنے کا خدشہ ہوتا ہے اور اگر شہد سے الگ کیا جائے تو اس پر اس کی شہد کی کچھ نہ کچھ مقدار لگی رہ جاتی ہے، جبکہ اگر اسے آٹے سے کھینچا جائے تو اس پر کچھ نہیں لگتا، یعنی خبر بالکل خالص  ہونی چاہئے۔

اصول (5):دشمن کو اسی کی زبان میں اسی سطح کا جواب دیا جائے جیسا اس نے پروپیگنڈا کیا ہے جیسا کہ ہجو کے بدلے قریش کی ہجو کرنے کا کہا گیا۔اصول (6): میڈیا وار میں جواب وہ دینا چاہئے،جو سب سے کارگر ہو۔ کسی بھی بے کار مشق میں توانائیاں ضائع نہیں کرنی چاہئے، بلکہ ہر بات یا خبر کی کوئی نہ کوئی لاجک یا مقصد ہونا چاہئے جیسا کہ اس حدیث شریف میں ہے کہ ارشاد فریایا:ان کی ہجو کرنی ہے، کیونکہ یہ ان کے لئے تیروں کی بوچھاڑ سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔اصول (7): ریاست یا کوئی ٹی وی چینلز بے شک کسی نمائندے یا اینکر کا انتخاب کر لے، لیکن اسے متعلقہ فیلڈ میں مزید تجربے اور معلومات کے لئے کسی ماہر کے پاس بھیجنا چاہئے جیسا کہ اس حدیث میں ہے کہ اگرچہ حضرت حسّان بن ثابت ؓ نے کہہ دیا تھا کہ میں قریش کی ہجو کرتے ہوئے آپ کو الگ رکھوں گا، لیکن نبی کریم ﷺ نے پھر بھی انہیں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس بھیجا اور فرمایاکہ وہ علم الانساب میں سب سے ماہر ہیں،لہٰذا ان کے پاس جائیں اور ان سے نسب قریش کی معلومات لیں۔ اصول (8):ہر خبرکی تحقیق کرنی چاہئے)سورۃ الحجرات: آیت نمبر چھ(تا کہ انجانے میں کسی کو نقصان نہ پہنچے۔ (اس آیت کی تشریح میں جسٹس محمدکرم شاہ الازہری نے اپنی تفسیر ضیاء القرآن میں کمال باتیں ذکر کی ہیں)۔اصول (9): محض سنی سنائی بات نہیں کرنی چاہیے جیسا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ محض سنی سنائی بات آگے پھیلا دیتا ہے،یعنی تحقیق نہیں کرتا۔اصول (10):میڈیا وار اگر نیک مقصد اور اصولوں کے مطابق ہو تو یہ بھی جہاد ہے جیسا کہ آپ نے حضرت حسان کویہی فرمایاکہ مومن ایسے بھی جہاد کرتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -