سندھ کا خوبصورت کلچر 

سندھ کا خوبصورت کلچر 
سندھ کا خوبصورت کلچر 

  

پانچ دن سندھ کے اندرون علاقوں  میں گزارنے کے بعد ہم لوگ اس خوبصورت وادی کو الوداع کہتے اتوار کو واپس آ رہے تھے تو راستے میں گڑھی خدا بخش جناب  ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے مزار پر کچھ دیر کے لئے فاتحہ خوانی کے لئے رک گئے۔ میں پنجاب کا باسی ہوں مگر سندھ پہنچ کر احساس ہوا کہ کلچر کا بڑا فرق ہے۔ عام آدمی تو پنجاب کا بھی انتہائی ملنسار اور پیار کرنے والا ہے مگر یہاں کے سیاستدان، یہاں کی بیوروکریسی اور یہاں کے اداروں کے سربراہ اپنی گردن میں سریا نہ دکھائیں تو شاید ان کو تسکین نہیں ملتی۔حتیٰ کہ عام تعلیمی اداروں اور کا لجوں کے سربراہ، یونیورسٹیوں کے ڈین اور شعبہ جات کے سربراہ تک استاد ہونے کے باوجود بیوروکریٹک مکروہ عادات کے مالک ہیں۔ وہ دس فیصد لوگ جو استاد کی طرح بات کرتے ہیں ان کے کمروں میں طلبا کا رش دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کا احترام بھی ہوتا ہے مگران کا حال اسی طرح ہوتا کہ اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا۔ مگر وہ لوگ جو استاد کے مرتبے سے ہٹ کر فقط گریڈ ہنٹر بن جاتے ہیں ان کا احترام بس واجبی ہوتا ہے۔ بچے کہتے نہیں مگر محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنے اصل مقام سے گر چکے ہیں۔سندھ میں عام آدمی ہی نہیں، ہر استاد اور ہر ادارے کا سربراہ انتہاہی  ملنساراور شفیق نظر آیا۔سیاستدان اور بیوروکریٹ بھی استادوں کی طرح ملتے ہیں۔ 

جناب ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے مزار پر فاتحہ خوانی کے بعد ہم باہر مزار کے احاطے میں پہنچے تو ہر طرف گیٹ بند تھے۔ پتہ چلا کہ سندھ کے چیف منسٹر مراد علی شاہ تشریف لا رہے ہیں۔ اس لئے ہم پابند ہیں کہ جب تک چیف منسٹر صاحب واپس نہیں جاتے، ہم انتظار کریں۔ ہمارے ہمراہ آئے ہوئے شاہ عبدالطیف یونیورسٹی کے پروفیسراور ہمارے چند ساتھی بھی چیف منسٹر کے ہمراہ مزار کے اندر پہنچ گئے۔ انہوں نے مراد علی شاہ صاحب کو بتایا کہ لاہور سے ایک وفد آیا ہے اور اس میں،میں بھی موجود ہوں۔ انہوں نے ہمیں مزار کے احاطے میں بلا لیا۔ دور سے بائیں پھیلا کر میری طرف آئے اور گلے لگایا۔ہمارے ساتھ گلے مل گئے اور تھوڑی دیر گفتگو کی۔ برادرم ڈاکٹر جہانگیر بدر کا ذکر کیا اور کہنے لگے کہ وہ صرف آپ کے ہی نہیں میرے بھی بڑے بھائی تھے۔ سندھ میں آپ یہی سمجھیں کہ آپ کا بھائی یہاں ہے اور جو خدمت ہو بتائیں۔ ان کا میرے ساتھ یہ انداز میرے لئے اس لئے تھا کہ برادرم جہانگیر بدر نے بھٹو خاندان سے وفا شعاری اور وفا داری کی ایک تاریخ رقم کی ہے جو سیاسی کارکنوں کے لئے مشعل راہ ہے۔میرا احترام انہی کے حوالے سے تھا جس کے لئے میں ان کا مشکور ہوں۔ باتوں میں میں نے انہیں بتایا کہ میں سندھ میں جو تاثر لے کر آیا تھا کہ یہاں بہت بربادی ہے وہ سو فیصد غلط نکلا۔ صحت اور تعلیم کے حوالے سے آپ کا صوبہ بلا شبہ پنجاب سے بہتر ہے۔ ہنس کر بولے ہم صبح سے شام تک انتھک محنت کرتے ہیں مگر بیان دینے کے معاملے میں شاید کمزور ہیں۔ کیا کریں جھوٹ بولنادشوار لگتا ہے۔

پانچ دن پہلے جب ہم یہاں پہنچے تو سیدھے IBA یونیورسٹی سکھر کے وائس چانسلر جناب میر محمد شاہ کے عشائیے میں موجود تھے۔میر محمد شاہ بہت سادہ طبیعت اور ملنسار آدمی ہیں۔ ان سے مل کر احساس ہوا کہ ملاقات ایک استاد سے ہو رہی ہے۔ کھانے سے پہلے چھوٹی سے تعارفی میٹنگ ہوئی۔سندھی اجرک، سندھی ٹوپی اور کچھ تعارفی لٹریچر وفد کے تمام ارکان کو دئیے گئے۔ IBA یونیورسٹی سکھر مینجمنٹ سائنسز کے اعتبار سے پاکستان کی صف اول کی یونیورسٹی شمار ہوتی ہے۔اس یونیورسٹی میں اس وقت بزنس ایڈمنسٹریشن، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، ایجو کیشن، میتھیمیٹکس اور سوشل سائنسز، فزیکل ایجو کیشن اور سپورٹس سائنسز اور میڈیا اور کمیونیکیشن کے مضامین پڑھائے  جا رہے ہیں۔ چونکہ یہ یونیورسٹی پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے سنگم کے قریب واقع ہے اس لئے ان تین صوبوں کے طلبا بڑی تعداد میں وہاں موجود ہیں۔ٍیونیورسٹی میں تقریباً 300 اساتذہ ہیں جن میں 104 پی ایچ ڈی ہیں۔ 4500 سے زیادہ طالب علم زیر تعلیم ہیں۔طلبا کو متحرک رکھنے کے لئے 20 سے زیادہ سٹوڈنٹس باڈیز ہیں جن میں طلبا بھرپور حصہ لیتے ہیں۔یونیورسٹی کے کل 8 ڈیپاٹمنٹ 28 ڈگریاں آفر کرتے ہیں۔

یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر جناب نثار احمد صدیقی مرحوم کو بار بار بہت اچھے لفظوں میں یاد کیا گیا۔ تعارفی تقریب میں انہوں نے بتایا کہ اس کالج کی تشکیل کے وقت ہمارا ارادہ تھا کہ پاکستان بھر کے غریب طلبا اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کریں۔مگر سوئے اتفاق کہ پہلے ٹیسٹ میں کامیاب ہونے والے طلبا میں 85 فیصد کا تعلق او(O) اور اے(A)   لیول سے تھا جبکہ ہمارا ٹارگٹ ٹاٹ سکولوں کے طلبا صرف 15 فیصد داخلہ حاصل کر پائے۔چنانچہ ہم نے ان ٹاٹ سکولوں کے طلبا کی مدد کے لئے ایک Zero Semester شروع کیا جس میں ٹاٹ سکولوں کے طلبا کو انگریزی اور ریاضی کی تیاری کرائی گئی تاکہ وہ ٹیسٹ میں مقابلہ کر سکیں۔ ہماری یہ کوشش کامیاب رہی اور اگلے سال داخلوں میں معکوس رزلٹ حاصل ہوا۔ اس وقت سے داخلوں میں ٹاٹ سکولوں کے داخل ہونے والے طلبا کی تعداد 85 فیصدہوتی ہے۔70 فیصد سے زیادہ طلبا وظیفہ حاصل کرتے ہیں اور بہت سوں کویونیورسٹی اپنے وسائل سے غیر ممالک سے ڈگری دلواتی ہے۔

خیر پور کی ایک تحصیل گمبٹ میں ایک میڈیکل کالج ہے۔ یہ پاکستان بھر میں انسانی اجزا کی پیوند کاری کے لئے مشہور ہے۔چھٹی کا دن تھا مگر ہماری درخواست پراس یونیورٹی کے انچارج  76 سالا ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی خود تشریف لائے اور انہوں نے ہمارے ساتھ سارے ہسپتال کا دورہ کیااور سارے شعبے دکھائے۔ڈاکٹر صاحب بڑے متحرک آدمی ہیں۔ وہ جب یہاں آئے تو یہ ایک چھوٹی سی ڈسپنسری تھی جو ڈاکٹر صاحب کی کاوشوں سے پہلے ہسپتال بنا، 2005 میں اسے میڈیکل کالج قرار دیا گیا اور 2011 میں ڈگری ایوارڈنگ کا سٹیٹس دیا گیا۔ڈاکٹر صاحب آج بھی اس کے روح رواں ہیں۔میں اور میرے ساتھی جسٹس (ریٹائرڈ) اسد منیر دائریکٹر کے کمرے میں بیٹھے تھے کہ ایک صاحب ان سے ملنے آئے اور انتظار میں بیٹھ گئے۔ پوچھا بھائی آپ کون اور کہاں سے آئے ہیں۔ کہنے لگے میں کرکٹر ہوں، لاہور سے آیا ہوں اور آج سے چار ماہ پہلے اس ادارے سے جگر کی پیوند کاری کرائی ہے۔ ہم نے کہا، لاہور میں ا،چھے سے اچھا ڈاکٹر ہے اتنی دور کیوں آئے۔ جواب ملا، لاہور میں سارے ڈاکٹر ڈاکو ہیں۔ حکومت کا ان پر کوئی کنٹرول نہیں۔ بڑی سفارشوں سے ایک ڈاکٹر صاحب پچاس لاکھ پر راضی تھے،کہاں سے لاتا۔ اسلام آباد میں ڈیڑھ کروڑ سے کم میں کوئی نہیں مانتا۔ یہاں میرا فری علاج ہوا ہے، صرف ایک لاکھ دواؤں پر خرچ ہوا ہے اور آج میں مکمل صحت یاب ہوں۔ میں حیران تھا کہ ایک شخص کی کاوش نے کتنا بڑا کام کیا ہے اور حکومت نے بھی اس سے مکمل تعاون کیا ہے اور اس کا ثمر پوری کام کھا رہی ہے۔سندھ کے ہر ہسپتال اور ہر تعلیمی ادارے کی ایسی ہی خوبصورت داستان ہے۔ ان سب کو بیان کرنے کے لئے ایک پوری کتاب درکار ہے۔ افسوس کہ سندھ کے بر عکس پنجاب میں ہمارا ہر ادارہ کسی نہ کسی مافیہ کی زد میں ہے اور تنزلی کا شکار ہے۔ میرے جیسا کوئی آدمی اگر پورے اختیارات کے ساتھ کبھی تعلیم میں مشیر آ گیا تو ان مافیاز کو اپنی اوقات کا پورا احساس ہو گا۔تعلیم کی بہتری ان مافیاز کے خاتمے سے جڑی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -