کیا نہیں اور غزنوی کارگہِ حیات میں؟ 

کیا نہیں اور غزنوی کارگہِ حیات میں؟ 
کیا نہیں اور غزنوی کارگہِ حیات میں؟ 

  

ریاست گجرات انڈیا کی ایک بڑی ریاست ہے جس کا رقبہ 2لاکھ مربع کلومیٹر اور آبادی 7کروڑ ہے۔ یہ ریاست انڈیا کے مغربی ساحل پر واقع ہے۔ جام نگر اور سورت اس کی مشہور اور قدیم بندرگاہیں ہیں۔ اس کا صوبائی دارالحکومت پہلے احمد آباد تھا لیکن اب اسی احمد آباد کو ”گاندھی نگر“ کہا جاتا ہے۔ گاندھی جی اسی ریاست میں پیدا ہوئے تھے اس لئے مودی سرکار کو احمد آباد کا اسلامی نام بدل کر گاندھی نگر رکھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ 

1023ء میں سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان پر جو 17واں اور آخری حملہ کیا تھا، وہ سومنات پر تھا اور اسی حملے میں تاریخ نے سلطان کو ’بت شکن‘ کا لقب دیا تھا۔ لیکن دنیا تو بدلتی رہتی ہے۔ صدیوں سے سومنات میں انڈیا کا ایک بڑا مندر ہوتا تھا جس کے نزدیک غزنوی فوج کو اپنے دارالخلافہ غزنی سے ہزار میل دور آکر اس وقت کے ہندوستانی لشکر سے نبرد آزما ہونا پڑا تھا…… یہ وہی سومنات ہے جس کا ذکر اقبال نے ایک آہ بھر کر اس شعر میں کیا تھا:

کیا نہیں اور غزنوی کارگہِ حیات میں؟

بیٹھے ہیں کب سے منتظر اہلِ حرم کے سومنات

اقبال کی یہ معرکتہ الآرا نظم (نعتیہ کلام) بالِ جبرائیل میں ہے جس کا عنوان ”ذوق و شوق“ ہے۔ یہ اشعار فلسطین میں کہے گئے تھے جب اقبال گول میز کانفرنس لندن میں شرکت کرکے واپس وطن آ رہے تھے۔ اسی نعت میں وہ مشہور بند بھی ہے جو اس شعر سے شروع ہوتا ہے:

لوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب

گنبدِ آبگینہ رنگ، تیرے محیط میں حباب

اقبال کو محمود غزنوی کے حملے سے 900 سال بعد سومنات یاد آیا۔ آج اقبال زندہ ہوتے تو دو سال بعد (2023ء میں) وہ پاکستان میں فتحِ سومنات کا ایک ہزار سالہ جشن منا رہے ہوتے!…… اور میں تو حکومت کے اربابِ اختیار سے درخواست کروں گا کہ وہ مارچ 2023ء میں سلطان محمود کے سومنات پر حملے اور اس کی فتح کا ہزار سالہ ”یومِ  فتح سومنات“ منا کر ہندو انڈیا کو یاد دلائیں کہ احمد آباد کو گاندھی نگر بے شک نام دے دیا جائے لیکن تاریخ میں محمود کو بت شکن کا لقب دینے میں گجرات کے سومنات کو بھی یاد رکھا جائے۔

میرے سامنے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی مطبوعہ چھوٹی تقطیع کی ایک ہسٹری بک پھیلی ہوئی ہے جس کے مرتب کا نام ایس ایف محمود ہے۔ اس کا پہلا ایڈیشن 1988ء میں شائع ہوا تھا اور آٹھواں 2000ء میں شائع ہوا اور یہی میرے سامنے ہے۔

ہم نے سکول کے زمانے میں جو تاریخ ہندو پاک پڑھی تھی اس میں سلطان محمود کے اس حملے کو آخری حملہ لکھا گیا تھا۔ لیکن اس ہسٹری بک میں لکھا ہے کہ یہ حملہ آخری نہیں تھا بلکہ آخری حملہ وہ تھاجو سلطان نے 1025ء میں سندھ پر کیا۔ علاوہ ازیں سومنات پر اس حملے کا سن 1023ء کی جگہ 1024ء درج ہے۔ میں اس کتاب کے صفحہ 82 کا ترجمہ قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں:

”گجرات کاٹھیاواڑ میں ہندوستان کا ایک بڑا مندر واقع تھا جو ہندو مت کے ایک طاقتور دیوتا ”سومناتھ“ کے نام سے مشہور تھا۔ ہندو اپنے ملک کے دیوی دیوتاؤں سے سخت ناراض تھے کہ ایک مسلمان سلطان (محمود) نے یکے بعد دیگرے ان کے کئی مندر مسمار کر دیئے تھے۔ دراصل یہ مندر ہندوستان کے مشہور قلعوں (مثلاً چتوڑ (نتھنبور وغیرہ) میں واقع تھے اور جو غزنوی لشکر کے حملوں میں اس لئے مسمار ہوئے کہ ہندو راجوں مہاراجوں نے میدان جنگ سے فرار ہو کر ان میں پناہ لے لی تھی۔ مشہور یہ تھا کہ یہ دیوی دیوتا کسی غیر مسلم کو اپنے نزدیک نہیں آنے دیں گے۔ لیکن جب ایک ایک کرکے یہ مندر تباہ ہونے لگے تو ہندوؤں نے اپنے دیوتاؤں کو اس انہدام کا ذمہ دار اور قصور وار ٹھہرایا۔ اب گجرات کا یہ مندر جو سومناتھ جی کا مندر کہلاتا تھا باقی بچ گیا تھا اور مشہور تھا کہ سومناتھ،باقی ہندو دیوتاؤں میں سب سے زیادہ پاور فل دیوتا ہے اور اسے کوئی مسلم حملہ آور کسی قسم کی گزند نہیں پہنچا سکتا۔ جب یہ خبریں سلطان محمود کو ملیں تو سومنات پر حملہ اس کے لئے ایک چیلنج بن گیا۔ محمود کو تخت پر بیٹھے 26سال ہو چکے تھے اور وہ وسط ایشیاء کا سب سے مشہور اور طاقتور حکمران تسلیم کیا جاتا تھا۔ لیکن جنگ و جدال، سلطان کا گویا مشغلہ تھا۔ اس کے مصاحبین اور امرائے لشکر نے سلطان کو مشورہ دیا کہ سومنات، صحرائے راجپوتانہ کے دوسرے سرے پر واقع ہے۔ اور یہ تمام علاقہ بے آب و گیاہ ہے۔ اتنے بڑے لشکر کو سومنات تک لے جانا خطرات سے لبریز مہم ہوگی اس لئے اس سے گریز کیا جائے۔ غزنی سے سومنات ویسے بھی ایک ہزار میل (1600کلومیٹر) دور ہے۔

محمود نے یہ سن کر خلیفہ ء بغداد کو ایک ارجنٹ پیغام بھیجا اور سومنات پر حملے کی اجازت چاہی۔ عباسی خلیفہ نے پہلے ہی سلطان کو یمبن الدولہ اور امین الملّت کے خطاب عطا کر رکھے تھے، اس لئے خلیفہ نے محمود کو اس حملے کی بخوشی اجازت دے دی۔ محمود نے ایک جرار لشکر اکٹھا کیا اور سومنات کی طرف چل دیا، صحرائے راجپوتانہ کو عبور کیا اور راستے میں بہت سے قلعوں کو فتح کرتا منزلِ مقصود کی طرف روانہ ہو گیا۔

مارچ 2024ء میں سلطان محمود سومنات کے سامنے جا پہنچا۔ ہندوستان کے طول و عرض سے مختلف راجوں اور مہاراجوں نے اپنے لشکر، سومناتھ دیوتا کے مندر کو بچانے کے لئے روانہ کئے۔تین دن تک لڑائی ہوتی رہی، گھمسان کے رَن پڑتے رہے اور کشتوں کے پشتے لگ گئے۔لیکن آخر میں محمود کو فتح ہوئی اور وہ شہر میں داخل ہو گیا۔ شہر کے برہمنوں نے محمود کو خبردار کیا کہ سومناتھ دیوتا کسی بھی صورت اسے اپنے پوّتر (پاک) مندر میں گھسنے نہیں دے گا۔ لیکن محمود کا جواب تھا کہ وہ بُت شکن کہلانا چاہتا ہے، بت فروش نہیں۔ یہ کہہ کر اس نے اپنا بھاری گرز سومناتھ دیوتا پر دے مارا اور ہوا میں معلق بت کو زمین پر گرا دیا۔ اس مندر کے تہہ خانوں سے سلطان کو بے حساب سیم و زر اور مال و دولت ہاتھ لگی۔ سلطان نے دو ہفتوں تک شہر میں قیام کیا اور پھر واپسی کا حکم دیا۔

غزنوی لشکر کو ایک ہندو گائڈ نے ایک غلط راستے سے واپس جانے کا مشورہ دیا۔ اس راستے میں ہندو جاٹوں نے سلطانی لشکر پر حملہ کر دیا جس سے محمود کے لشکر کا کچھ جانی نقصان بھی ہوا۔ لیکن آخر کار سلطان واپس غزنی پہنچ گیا۔ بعدازاں خلیفہ نے سلطان، اس کے بیٹوں اور لشکریوں کو نئے القابات سے نوازا۔

اگلے برس 1025ء میں غزنوی نے کاٹھیاواڑ پر آخری اور 18واں حملہ کیا تاکہ ان ہندو جاٹوں کو شکست دے سکے جنہوں نے اس کی واپسی پر سلطانی لشکر پر دھوکے سے حملہ کر دیا تھا…… سلطان نے 1030ء میں وفات پائی“۔

مجھے یقین ہے قارئین کی اکثریت نے سلطان محمود کے اس آخری حملے کی تفصیلات پڑھ رکھی ہوں گی۔ میں نے ان سطور میں اس حملے کی یاد اس لئے تازہ کی ہے کہ سلطان کو 18واں حملہ جن جاٹوں کو سزا دینے کے لئے سندھ کے جنوبی علاقوں پر کرنا پڑا یہ وہی علاقے ہیں جو آج گجرات کاٹھیاواڑ کے شمال میں واقع ہیں۔ محمود کے جانشین طالبان آج ایک ہزار سال گزر جانے کے بعد بھی غزنی پر قابض ہیں لیکن ان میں کوئی محمود ایسا نہیں کہ جو احمد آباد کو گاندھی نگر نام رکھنے کی سزا دے سکے۔ اسی گجرات پر آج کے انڈین پرائم منسٹر مودی نے پردھان منتری بننے سے پہلے 13برس تک بطور وزیراعلیٰ حکومت کی۔ اس حکمرانی کے دوران اس نے احمد آباد کے مسلمانوں پر جو ظلم و ستم روا رکھے وہ ایک تاریخ ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ جس طرح ایک غزنوی نے کاٹھیاواڑ کے جاٹوں کو سزا دی تھی اسی طرح کوئی دوسرا غزنوی بھی افغانستان یا اس کے نواح سے اٹھے گا اور گجرات (احمد آباد) کے مسلمانوں پر جو روتعدی کے پہاڑ توڑنے والوں کو ضرور سزا دے گا۔ سومناتھ کا پرانا مندر آج بھی کھنڈرات کا ایک ڈھیر ہے لیکن اس سے کچھ فاصلے پر ایک نیا مندر تعمیر کیاجا چکا ہے…… اور اگر تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے تو یہ نیا مندر بھی، پرانے مندر کے انجام سے دوچار ہوگا اور اقبال کی یہ حسرت پوری ہو کر رہے گی کہ:

کیا نہیں اور غزنوی کارگہِ حیات میں؟

اقبال کا یہ سوال OIC کے وزرائے خارجہ کے اس اجلاس سے بھی ہے جو 1980ء کے 41برس بعد دوبارہ اسلام آباد میں کل ہی ختم ہوا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -