افغانستان کیلئے 150ملین ڈالر کی ضرورت،عالمی برادری پابندیاں   ختم کرے،معید یوسف

    افغانستان کیلئے 150ملین ڈالر کی ضرورت،عالمی برادری پابندیاں   ختم ...

  

اسلام آباد(آئی این پی) مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہاہے کہ افغانستان میں اس وقت بنیادی صحت کی فراہمی، تعلیم اور خوراک کیلئے 150ملین ڈالر کی ضرورت ہے،  افغان عوام کیلئے قائم  ٹرسٹ فنڈ کی نگرانی او آئی سی خود کرے گی، پاکستان طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کیلئے تیار ہے لیکن پاکستان پر بھی اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ ہم ان کے ترجمان بنے ہوئے ہیں، پاکستان عالمی برادری سے اپیل کر رہا ہے کہ وہ  افغانستان پر عائد پابندیاں ختم کرے اور طالبان کے چند لوگوں کیلئے3کروڑ لوگوں کا نقصان نہ کرے، وزیراعظم عمران خان کی جانب سے افغانستان کی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم کا غیر معمولی اجلاس بلانا  پاکستان کی  بہت بڑی کامیابی ہے، پاکستان  افغانستان کو انسانی بحران سے بچا نے اور وہاں امن کا خواہاں ہے۔پیر کو نجی ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ افغانستان کی بینکنگ میں نئی پیشرفت ہوئی ہے اور امید ہے کہ کچھ دنوں میں بینکوں کا نظام آہستہ آہستہ کھل جائے گا جس سے فنڈز کی ترسیل میں آسانی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری سے اپیل کر رہا ہے کہ افغانستان میں عائد پابندیاں ختم کرے اور طالبان کے چند لوگوں کیلئے3کروڑ لوگوں کا نقصان نہ کرے،ہم دنیا سے کہہ رہے ہیں کہ ایسے حالات وسطی دنیا میں ہوتے تو وہاں اب تک واویلا مچ چکا ہوتا لیکن افغانستان کی صورتحال میں عالمی برادری کی خاموشی افغانستان میں انسانی المیے کا باعث ہوسکتا ہے۔معید یوسف نے کہا کہ افغانستان میں اس وقت بنیادی صحت کی فراہمی، تعلیم اور خوراک کیلئے 150ملین ڈالر کی ضرورت ہے،سعودی عرب نے افغانستان کیلئے خطیر رقم دینے کا اعلان کیا ہے جو خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی اجلاس میں افغان عوام کیلئے ٹرسٹ فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا جس کی نگرانی او آئی سی خود کرے گی۔ معید یوسف نے کہا کہ میری نظر میں وسطی ایشیائی ممالک طالبان کو کلین چٹ دینے کے حق میں نہیں ہے اور کسی مشکل میں جانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔

معید یوسف

مزید :

صفحہ اول -