نشہ کی لت میں گرفتار دو بھائیوں کا جھگڑا, بڑے نے چھوٹے کو قینچی کے وار کرکے مار ڈالا!

نشہ کی لت میں گرفتار دو بھائیوں کا جھگڑا, بڑے نے چھوٹے کو قینچی کے وار کرکے ...

  

انسانی رشتوں کے تقدس کی پامالی کی اکثر خبریں میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آتی ہیں۔”بیٹے نے ماں یا باپ کو قتل کر دیا‘ ماں نے غربت سے تنگ آ کر بچوں سمیت خود کشی کر لی‘ جائیداد کی خاطر بھائی نے بھائی کا اور بھتیجے نے چچا کا قتل کر دیا۔شوہر نے بیوی اوربھائی نے بد کاری کے شبے میں بہن کا خاتمہ کر دیا وغیرہ وغیرہ“۔ان وارداتوں میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔جن کے باعث خاندانی نظام کمزور اور خونی رشتوں پر سے اعتماد اٹھ رہا ہے۔خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہوتاہے۔ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام تو پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔رہا سہا خاندانی نظام بھی اب آخری سانسیں لینے کو ہے۔ اس کی وجوہات میں ٹیلی ویثرن چینلز سے پیش کئے جانے والے ڈرامے ہوں یا مذہبی تعلیمات سے دوری یا برطانوی لارڈ میکالے کا بنایا ہوا وہ فرسودہ نظام تعلیم ہو جو نہ ہی ایک بچے کو قابل طالب علم اور نہ ہی اسے اچھا انسان بنا رہا ہے۔ بیشتر والدین بھی اپنے بچوں کی تربیت سے لا پروا ہو چکے ہیں۔ماں کی گود کو بچے کی پہلی تربیت گاہ کہا جاتا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ماؤں کی اکثریت اپنی اس بنیادی اوّلین ذمہ داری کو بھول چکی ہے۔جس کے نتائج اولاد کے بگاڑ کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ انفرادی بگاڑ معاشرتی افرا تفری اور رشتوں کے تقدس کی پامالی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔

 اسی طرح کا ایک واقعہ چند روز قبل 12دسمبرکومغل پورہ میں بھی پیش آیا جہاں بڑے بھائی نے قینچی کے پے درپے وار کرکے چھوٹے بھائی کو موت کے گھاٹ اتاردیا،تھانہ مغل پورہ میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں خالدہ پروین نے موقف اختیار کیا ہے کہ میں گنج مغلپورہ بازار کی رہائشی ہوں کہ 12 دسمبر کو رات بوقت تقریبا ًنو بجے میرے چھوٹے بھائی محمد اکرم اور محمد اسلم پسران برکت علی جو نشہ کرنے کے عادی تھے جو آپس میں اکثر لڑتے جھگڑتے رہتے تھے آج بھی نشے کی وجہ سے لڑائی ہوئی جو میرے بھائی محمد اکرم کو محمد اسلم کو قینچی بائیں سائیڈ پر دل کے قریب ماری جس سے وہ زخمی ہو کر گر گیا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا یہ سارا واقعہ مجھے گنج بازار مغلپورہ کے رہائشی محمد ریاض بٹ اور محمد اشرف نے بتلایا محمد اسلم نے میرے بھائی کو ناحق قتل کرکے زیادتی کی ہے قانونی کاروائی کی جائے، مقدمے کے تفتیشی اور انچارج انوسٹی گیشن مغل پورہ سب انسپکٹرمحمد صفدر نے روزنامہ پاکستان کو اس افسوس ناک واقعہ کے بارے میں بتایا ہے کہ ان کے والدین چند سال قبل وفات پا چکے ہیں ملزم اسلم کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ مقتول اکرم کے بچے نہیں ہیں۔ ملزم اور مقتول دونوں بھائی نشے کے عادی تھے جیسا کہ ایف آئی آر میں بھی درج ہے مقتول کی عمر 50 سال ہے نشے کا عادی ہونے کی وجہ سے اس کی بیوی نے شادی کے فورا بعد ہی اسے چھوڑ دیا تھا اولاد نہیں ہے ملزم کی عمر تقریبا ً 57 سال ہے ان کے علاوہ چار بھائی اور4بہنیں ہیں جن میں سے دو بھائی وفات پا چکے ہیں ملزم اور مقتول نشی ہونے کی وجہ سے خاندان سے علیحدہ ایک چھوٹے سے دو مرلے کے مکان میں رہتے تھے ہیروئن فروخت بھی کرتے تھے اور پیتے بھی تھے۔ واقعہ سے ایک روز قبل ایک معطل تھانے دار مقتول کو ایک ہزار روپیہ دے کر گیا جو کہ اس نے خرچ کرلیا بڑے بھائی کو اس بات کا رنج تھا کہ اس نے اسے پیسے کیوں نہیں دیے اس بات پر دونوں جھگڑپڑے ملزم نے قینچی کے پے درپے وار کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا اور شور مچا دیا کہ اس کے بھائی کو کسی نے قتل کر دیا ہے پولیس اطلاع پا کر موقع پر پہنچی تو وہاں پانچ چھ نشئی موجود تھے جنہوں نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ بڑے بھائی نے قینچی سے حملہ کرکے پیسوں کے جھگڑے پر اسے قتل کر دیا ہے انویسٹی گیشن آفیسر کے مطابق دو مرلے کے مکان میں ہر وقت پانچ چھنشئی رہتے تھے ملزم اور مقتول بھائی دریا کے علاقے سے ہیروئن لاتے، علاقے میں فروخت بھی کرتے اور خود بھی پیتے تھے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کے وارثان دونوں کو کسی ہسپتال داخل کرواتے جہاں ان کا علاج کیا جاتا تاکہ یہ نشے کو چھوڑ سکتے اور پرسکون زندگی خاندان کے باقی افراد کے ساتھ گزار پاتے مگر ایسا نہیں کیا گیا اگر پولیس نے انہیں جیل بھی بھیجا ہوتا تو شاید یہ خونی واردات نہ ہوتی۔ ملزم ریڈیو ٹیپ کا مکینک اور ہال روڈ پر دکان بھی کرتا تھا اور 5بچوں کا باپ بھی ہے بچوں نے بھی نشئی ہونے کی وجہ سے اسے گھر سے نکال رکھا تھا۔خاندان اور پولیس کی لاپرواہی سے اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں۔ملزم گرفتار ہے اور آلہ قتل بھی برآمد کر لیا ہے، یوں تو آئے روز ملک بھر میں اس طرح کے واقعات سننے اور پڑھنے کو ملتے رہتے ہیں تاہم لاہور میں بھائی کے ہاتھوں بھائی کے قتل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔گزشتہ سال 8 جون کوجنوبی چھاؤنی میں ملزم شکیل نے گھریلو جھگڑے پر 40 سالہ بھائی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔مقتول کی شناخت منصور کے نام سے ہوئی ہے، اسی طرح گزشتہ سال ہی شفیق آباد میں 30سالہ شہزاد نذیر کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔پولیس کا کہنا تھا کہ مقتول شہزاد کو اس کے بھائی امتیاز نے معمولی جھگڑے پر فائرنگ کرکے قتل کیا ہے، 30 سالہ شہزاد نذیر گھر کی چھت پر سویا ہوا تھا کہ امتیاز نے فائرنگ کرکے اسے قتل کردیا۔ اسی طرح رواں سال 8جنوری کو نشتر کالونی میں بڑے بھائی 16 سالہ فیضان نے اپنے چھوٹے 8سالہ بھائی ارسلان کو بداخلاقی کے بعد گلا دباکر موت کے گھاٹ اتار دیا اور لاش روحی نالہ میں پھینک دی رواں سال ہی 21 مئی کوگرین ٹاون میں چھوٹے بھائی نے بڑے کو قتل کردیا،گرین ٹاون میں تلخ کلامی پر چھوٹے بھائی نے فائرنگ کرکے بڑے بھائی کی جان لے لی، ملزم واردات کے بعد واقعہ کو حادثے کا رنگ دینے کی کوشش کرتا رہا۔ افسوسناک واقعہ گرین ٹاؤن کے علاقے باگڑیاں میں پیش آیا،جہاں ویڈیو گیمز کی دکان میں تین بھائیوں میں پیسوں کے تنازعہ پر جھگڑا ہوا،جس پر علی رضا نے فائرنگ کر کے اپنے ہی بھائی علی حسن کو قتل کر دیا۔

 ایس ایس پی انوسٹی گیشن عمران کشور نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے مغل پورہ میں پیش آنے والے واقعہ پر بتایا ہے کہ ملزم پر نشئی اور ذہنی مریض ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔اگر اس کے ساتھ کوئی ذہنی مسئلہ یا نشئی تھا تو اس نے اور گھر والوں نے اس کے ذہنی مرض کے علاج کروانے کی جانب توجہ کیوں نہیں دی۔ذہنی امراض کو چھپانا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ذہنی امراض ”داغ“ نہیں۔یہ بھی جسم کے دوسرے اعضا کے امراض کی طرح ہوتے ہیں جن کا علاج ممکن ہے۔ پاکستان کے ہر بڑے شہر میں ذہنی اور نفسیاتی امراض کے ہسپتال موجود ہیں۔کسی بھی ذہنی یا نفسیاتی مرض کے علاج کے لئے ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہوتاہے۔بصورت دیگر قتل کی ایسی وارداتوں پر قابو پانا ناممکن ہو جائے گا۔لاہور پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ معاشرے میں قتل و غارت عام ہوتی جا رہی ہے۔ معاشرہ بد عنوانیوں کی لپیٹ میں ایسے آیا ہے کہ قریب ترین رشتوں کا اعتبار ختم ہو چکا ہے۔ آئے روز کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جاتا ہے جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ باپ نے بیٹیوں کو قتل کر دیا ہے۔ بھائی نے بھائی کو مار دیا ہے،دشمنوں کی طرف سے پھیلائی ہوئی دہشتگردی جتنی مہلک ہے اس سے کہیں زیادہ خطرناک اپنے سگوں کا سگوں کے ہاتھوں قتل ہونا ہے۔ ہمارا معاشرہ جس طرف جا رہا اس سے افراتفری پھیلے گی۔ ایسی خطرناک فضا معاشرے، ملک و قوم سب درہم برہم کردیتی ہے باقی کچھ نہیں بچتا۔والدین پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت کا خاص خیال رکھیں تاکہ اس طرح کے افسوس ناک واقعات میں کمی لائی جاسکے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -