کھاد کی بلیک میں فروخت کا شتکاروں کا انتظامیہ کیخلاف احتجاج، نعرے 

کھاد کی بلیک میں فروخت کا شتکاروں کا انتظامیہ کیخلاف احتجاج، نعرے 

  

 چوبارہ، بٹہ کوٹ +اڈا جھلار مدینہ+بارہ میل(نمائندگان پاکستان+سپیشل رپورٹر، نمائندہ خصوصی) انتظامیہ کے کھا د کی فراہمی کے دعوے دھر ے کے دھرے رہ گئے، کبیروالا بھر میں انتطامیہ کے دعؤں کے باوجود تاحال کھا د ا بحران ختم نہ ہوسکا ہے، سر کاری قیمتوں پریوریا کھاد کا حصو ل ناممکن جب کہ بلیک مافیا کسانوں کو من مرضی کے ریٹس پر کھا د فروخت کرتے کسانوں کو دو نوں ہاتھوں لوٹ رہا ہے،کھاد کی عدم دستیابی(بقیہ نمبر51صفحہ6پر)

 کے باعث متعدد علاقوں میں گندم کی کاشتہ فصل بری متاثر ہوتے تباہی کے دہانے پرپہنچ چکی ہے،کسانوں نے ڈی اے پی، یوریا کی مارکیٹ میں عدم دستیابی پر احتجاج کرتے ہوئے سر کاری سطح پر سٹال قائم کئے جانے اورکھادوں کی سر کاری نرخوں پر فوری فراہمی لا مطالبہ کیا ہے۔ کھاد کی عدم دستیابی کے خلاف کسانوں نے احتجاج  کرتے ہوئے نواں کوٹ موڑ سیمیونسپل کمیٹی تک ریلی نکالی غریب کسانوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث چنا کی فصل گزشتہ چند سالوں سے نا ہونے کے برابر ہے ٹیوب ویل لگا کر گندم کاشت کر رہے ہیں مگر حالیہ گندم کاشت کے موقع پر ڈی اے پی کے بحران اور اب یوریا اور گوارا کھاد نایاب ہونے سے ہماری گندم کی فصل متاثر ہو رہی ہے  اگر کہیں سے کھاد مل بھی جائے تو 2500روپے تک فروخت کی جارہی ہے ہماری اعلی حکام سے اپیل ہے کہ تھل کی پسماندہ ترین تحصیل چوبارہ کے غریب کسانوں کو کھاد فراہم کی جائے ورنہ احتجاج کا سلسلہ وسیع کیا جائے گا اس موقع پر مزدور لیڈر غلام مصطفی۔۔عمران جڑھ۔ظفر کنگ اور کسانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

کھاد بحران

مزید :

ملتان صفحہ آخر -