محبت  گوہر یگانہ 

محبت  گوہر یگانہ 
محبت  گوہر یگانہ 

  

شام کے سائے گہرے ہو رہے ہیں اور میں پارک کے اس ٹھنڈے بینچ پر بیٹھ کر تمھارے بارے میں سوچ رہا ہوں ۔ اپنی آنکھوں میں  آنے والے آنسوئووں کو میں ہتھیلی کی پشت سے صاف کرنے لگا تو تم میری نظروں کے سامنے آنے لگی ہو ۔ ہمارا بیٹا دانش پارک میں کھیل رہا ہے ، یہ ابھی آکر مجھ سے اس سرد موسم میں آئس کریم کی فرمائش کرے گا جب میں اسے ڈانٹنے لگوں گا  تو تمھاری شبیہ میرے سامنے آجائے گی ۔ ویسے تم دونوں ماں بیٹے کی ایک جیسی ہی عادات ہیں ۔ تم بھی یونہی سردی میں آئس کریم کی ضد کیا کرتی تھیں اور یہ بھی ایسا ہی کرتا ہے ۔ 

اگرچہ کہ تم نے اسے گود میں لیا بھی نہیں لیکن اپنی کوکھ سے جنم تو دیا ۔ دانش کی پیدائش پر ہم دونوں بہت خوش تھے لیکن افسوس تمھاری زندگی ہی اتنی تھی کہ تم اسے جنم دیتے ہی  اس دنیا میں مجھے تنہا کر گئی ۔ اب انہی سوچوں میں گم ہوں تو ہمارا بیٹا سرخ چہرہ لئے ہوئے  میرے قریب آرہا ہے چلو اب اسکی نئی کہانی سننی پڑے گی لیکن یہ بھی کس کو اپنا حال دل سنائے ایک باپ ہی تو ہے جو اسکی ہر فرمائش  پوری کرتا ہے ۔ 

’’ پاپا  ، میرے دوست مزمل سے ملیں ، یہ میرا کلاس فیلو بھی ہے ، اب یہ روز اس پارک  میں سیر کرنے آئے گا ۔ یہ پوچھ رہا تھا کہ آج میں پارک میں کیسے آیا ہوں  تو میں  نے کہا کہ میرے پاپا مجھے کبھی کبھی یہاں لے آتے ہیں لیکن پھر وہ اس بنچ پر بیٹھ جاتے ہیں اور میرے ساتھ کھیلتے بھی نہیں ۔ پاپا بتائیں ناں آپ میرے ساتھ کیوں نہیں کھیلتے ؟ ‘‘ 

’’بیٹا آج کافی سردی ہو رہی ہے ، گھر چلتے ہیں ، پکا وعدہ  کہ اب جب بھی ہم آئیں گے میں آپ کے ساتھ کھیلوں گا ابھی آئو چلیں ۔ ‘‘ شہباز نے کہا 

’’ پاپا نہیں ابھی تو اتنا ٹائم نہیں ہوا اور پھر کل چھٹی بھی تو ہے اتنی سردی تو نہیں ہے کہیں آپ بیمار تو نہیں ہو گئے آپ تو اتنے اسٹرانگ ہیں ۔ ‘‘ دانش کے لہجے میں تشویش تھی ۔ 

’’ نہیں بیٹا میری طبعیت ٹھیک ہے لیکن اب آپ نے مزمل  کے ساتھ کافی کھیل کود لیا ہے ۔ اسلئے اب مزمل کو بھی جانے دو ۔ چھٹی کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ آپ آرام ہی نہ کرو ۔ اچھا مزمل آپ کس کے ساتھ آئے ہوئے ہیں آپ بھی اپنے  گھر چلیں ۔ ‘‘  

’’ انکل میرے ساتھ تو میری عبیرہ پھوپھو آئی ہیں وہ کافی دور بیٹھی ہیں میں بھاگ کر چلا  جاتا ہوں ۔ ‘‘ مزمل نے کہنے کو تو کہہ دیا لیکن شہباز کا دل ڈر رہا تھا کہ اس بچے کو اکیلا نہ بھیجے ۔ 

’’ چلیں میں آپکو آپ کی پھپھو کے پاس چھوڑ آتا ہوں‘‘ شہباز نے محسوس کیا کہ مزمل یہ سن کر کسی الجھن کا شکار ہو گیا ۔ ’’ انکل پلیز نہیں میں چلا جائوں گا وہ دور بیٹھی ہیں ۔ ‘‘ 

شہباز کو مزمل کی حالت پر ہنسی آگئی ۔ ’’ تو کیا ہوا بیٹا ہم ان سے مل بھی لیں گے اور آپ کو ان کے حوالے بھی کر دیں گے ۔ اب آپ نے  کوئی ضد نہیں کرنی ۔ ‘‘ 

دانش کی خوشی دیدنی تھی کیونکہ مزمل کی پھوپھو سے اسے ملنے کا بہت شوق تھا ، وہ بہت مزے دار لنچ بناتی تھیں جو مزمل کی بجائے زیادہ تر دانش کھا جاتا تھا ۔ 

مزمل کی امی سوشل ورک میں مصروف رہنے کی وجہ سے گھر کو اتنا وقت نہیں دے پاتی تھیں اور اسکے والد ایک پلازہ کے مالک تھے ۔ ان دونوں کے لئے یہ اہم تھا کہ مزمل کو اچھا رہن سہن اور اعلی تعلیم مل رہی ہے ۔ لیکن انھوں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ ان کی چند لمحوں کی توجہ ان کے بچے کو کامیاب کر سکتی ہے ۔ ایسے میں مزمل کو عبیرہ پھوپھو کا ساتھ غنیمت لگتا تھا ۔ وہ زیادہ تر گھر ہوتی تھیں اور اسکی سب باتیں سننے کے لئے بے چین بھی ۔ 

دوسری طرف دانش بھی اچھے متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا تھا ۔ اسکے والد شہاز ایک سرکاری  کالج میں انگریزی کے لیکچرار تھے ۔ دونوں پانچ سالہ بچوں میں  فرق بنیادی طور پر یہ تھا  کہ دانش کی ماں تو اسے جنم دیتے ہی چلی گئی تھیں لیکن مزمل ماں کے ہوتے بھی اسکی عدم توجہگی کا شکار تھا ۔ 

شہباز دونوں بچوں کو لے کر جونہی مزمل کی پھوپھو کے پاس گیا تو وہاں  نسبتا موٹی اور سانولے رنگت کی لڑکی بیٹھی ہوئی تھی ۔ مزمل کو دیکھتے ہی ناگواری سےبولی ’’ مزمل میں کتنی دیر سے تمھارا انتظار کر رہی ہوں، تم دس منٹ کا کہہ کر گئے تھے اور تممھارے ساتھ یہ لوگ کون ہیں ؟ ‘‘

یہ سب شدید غصے سے کہتے ہوئے عبیرہ کی ناک سرخ ہو گئی تھی ۔ ’’ بس اب  گھر چلو میں آئیندہ تمھیں کہیں لے کر نہیں آئوں گی ۔ ‘‘

اپنے دوست کے سامنے مزمل سے اپنی بے عزتی برداشت نہ ہوئی اور وہ دھم سے گھاس پر بیٹھ گیا ۔ 

’’ ارے مزمل بیٹا اٹھو خفا  نہیں ہوتے ، آپ کی پھوپھو پریشان ہو گئی ہوں گی  چلیں آپ روئیں نہیں ۔ ‘‘ شہبباز نے گویا مزمل کو تسلی دی ۔ 

’’ دیکھیں محترمہ بات اتنی سی ہے کہ مزمل میرے بیٹے دانش کا دوست ہے ، ان دونوں کی ملاقات اتفاقیہ آج پارک میں ہوئی ہے اور انھوں نے  خوب  کھیل کود کی ہے ، بچے کا کوئی قصور نہیں  ، ہم نے ہی کہا کہ اسے آپ کے پاس چھوڑ آتے ہیں  ۔ ‘‘ شہباز نے عبیرہ کو بتایا 

 ’’ جی بہت شکریہ آپ کا  لیکن اپنے بچوں کے بارے میں ،ان کی تربیت کرنے کا اختیار صرف ہمیں ہی ہونا چاہیے نہ کہ یہ دوسرے لوگ اٹھ کر ہمیں  ہماری کوتاہیوں سے آگاہ کریں ۔عبیرہ بدستور غصے میں تھی ۔ 

شہباز کو یہ سن کر غصہ تو بہت آیا لیکن وہ ضبط کر گیا  کیونکہ کسی کے ساتھ بحث کرنا اسے پسند نہیں تھا ۔ آج پارک میں شہباز کو مزمل تو نظر آیا لیکن کافی دن سے اسکی پھوپھو نہیں آ رہی تھیں ۔ دانش بھی کہنےلگا ’’مزمل کی پھوپھو کافی دن سے نہیں  آرہی ہیں وہ اپنی میڈ کے ساتھ آ رہا ہے  وہ بتا رہا تھا کہ عبیرہ پھوپھو سیڑھیوں سے گر گئی ہیں ۔  ‘‘ 

’’ اوہو اچھا مجھے تو بالکل پتہ نہیں تھا مزمل ابھی ملتا ہے تو ان کی خیریت بھی دریافت کر لیتے ہیں ۔ ‘‘ شہباز کے لہجے میں تشویش تھی ۔ایک ہفتے سے اوپر ہو چلا تھا اور مزمل بدستور اپنی آیا کے ساتھ ہی پارک آرہا تھا  ،دانش بھی دو دن سے اپنے والد کی مصروفیت کی وجہ سے سیر کرنے نہیں جا سکا تھا ۔اسلئے آج شہباز کا ارادہ پارک جانے کا تھا اور اتفاق سے عبیرہ بھی وہیں آئی ہوئی تھی ۔ 

شہبازنے اخلاقی طور پر اپنی زمہ داری سمجھتے ہوئے عبیرہ کی تیمار داری کرنا  چاہی تو وہ غصے میں آگئی ’’ جی آپ اب مجھے پوچھیں گے کہ آپ سیڑھیوں سے کیسے گریں اور میرا جواب سننے سے پہلے ہی  آپ یہ کہیں گے کہ موٹاپے کی بنا پر ہی یہ ہوا ہو گا ، یہی تو مسئلہ ہوتا ہے ہم موٹے لوگوں کیساتھ جیسے دنیا بھر کی قدرتی آفات بھی ہماری وجہ سے ہی آتی ہیں ۔ سب  لوگوں کو موٹے لوگوں سے مسائل ہوتے ہیں ۔ بات بعد میں ہوتی ہے اور موٹاپے ختم کرنے کے مشورے مفت پہلے دے دئیے جاتے ہیں ۔ ‘‘ 

شہباز  اسکے مسلسل   بولنے سے حیران ہونے کیساتھ ساتھ زچ بھی ہو رہا تھا کہ عبیرہ اپنی ہی سنائی جا رہی ہے اور اسے بولنے کا موقع تک نہیں دے رہی ۔ لہذا آج شہباز نے بھی سوچا کہ ایسی بددماغ لڑکی کو اسکی حدود کا احساس دلانا چاہیے ۔ 

شہباز نے تپے ہوئے چہرے سے کہا ۔’’ محترمہ آپ شدید غلط فہمی کا شکار ہیں ۔ مجھے نہ آپ کے موٹاپے سے کوئی مسئلہ ہے اور نہ ہی میں کوئی نقاد ہوں ۔ میں مزمل کے دوست کی والد کی حیثیت سے آپ کی تیمار داری کر رہا تھا لیکن شاید یہ میری غلطی تھی ،  ٹھیک ہے میں چلتا ہوں۔ ‘‘ 

عبیرہ گھر آکر احساس ندامت میں  گھر گئی  تھی وہ چاہتی تھی کہ شہباز سے معذرت کرے لیکن پھر وہ یہ سوچ کر سونے کی کوشش کرنے لگی  کہ کل براہ راست اس سے بات کر لے گی ۔ عبیرہ بچپن سے ہی سانولی اور موٹی تھی اور اسی وجہ سے احساس کمتری کا شکار بھی ہو گئی تھی ۔ اول تو رشتوں کا آج کل ویسے ہی کال تھا لیکن عبیرہ کے لئے آنے والے رشتوں کا ایک بار سے اگلی مرتبہ آنا ناممکن ہوجاتا تھا ۔ کوئی بھی اسکی سلیقہ شعاری اور تعلیمی استعداد کو نہیں دیکھتا تھا الٹا سب اسکی جسامت اور رنگت کو ہی نشانہ بناتے تھے ۔ 

آج عبیرہ کو پارک آکر مایوسی ہوئی تھی  کیونکہ شہباز کل اور آج دونوں دن سے  واک کرنے کے لئے نہیں آیا تھا  نہ ہی دانش کی کوئی خیر خبر تھی ۔ مزمل سے پوچھا تواس نے بتایا کہ ’’ پھوپھو دانش کو بخار ہے اور وہ سکول بھی نہیں آیا اس وجہ سے اسکے پاپا بھی نہیں آئے ۔ پھوپھو کیا ہم اسکے گھر چلے جائیں مگر آپ نے مجھے کہا تھا کہ کہیں بھی نہیں جانا ۔‘‘

’’ ہاں یہ ٹھیک ہے تم مجھے پہلے بتا دیتے ہم گھر سے ہی چلے جاتے خیر کوئی نہیں میں تمھارے پاپا کو کال کر دیتی ہوں اور ڈرائیور چاچا  کو بلوا کر یہیں سے چلے جاتے ہیں ۔‘‘ عبیرہ کے دل کو اب کچھ سکون سا مل گیا تھا ۔ 

سارے راستے مزمل دانش کی ہی باتیں کرتا رہا عبیرہ کو ایسا  محسوس ہو رہا تھا  کہ مزمل دانش کےپاپا شہباز کو آئیڈلائز کرنے لگا ہے ۔ کہنے کوتو دانش کوبخار تھا لیکن مزمل کے آتے ہی گویا بیماری تو بھاگ ہی گئی ۔ شہباز دانش کو روکتا ہی رہ گیا اور وہ یہ کہہ کر چلا گیا کہ پاپا میں تھوڑی دیر میں مزمل کو اپنا روم دکھا کر واپس آجاتا ہوں ۔ 

مزمل کے جانے کے بعد کمرے میں اب مکمل خاموشی تھی ، شہباز اور عبیرہ یوں گم صم تھے جیسے کوئی اجنبی ہوں ۔ چائے پیتے ہوئے عبیرہ نے شہباز کی طرف دیکھا اور کہا ’’مجھے اس دن کی بات پر بے حد افسوس ہے اور چونکہ میری طبعیت بھی پائوں کی موچ کی وجہ سے  درست نہیں تھی اسلئے میں نے آپ نے بدتمیزی کر دی آپ معذرت قبول فرمائیں ۔ ‘‘

شہباز  کسی گہری سوچ سے جیسے  چونک سا گیا تھا ’’ ٹھیک ہے عبیرہ کوئی مسئلہ نہیں لیکن مجھے  لگتا ہے کہ شاید آپ اپنے موٹاپے یا مجھے کہنے دیں  سانولے رنگ کی وجہ سے بھی کسی کمپیلکس کا شکار ہیں جبکہ آپ ایک اچھی خاصی پرکشش شخصیت کی مالک ہیں ، پڑھی لکھی ہیں اور روشن خیال بھی تو میرے خیال کے مطابق آپ کو ان چیزوں کو زیادہ اہمیت نہیں  دینی چاہیے ۔ ‘‘

’’ لیکن  شہباز صاحب ایسی بات تو صرف آپ کر رہے ہیں ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ لوگ صرف ظاہری حسن کو ہی دیکھتے ہیں حسن سیرت کا کوئی عاشق نہیں ہوتا یہ سب فریب نظر ہوتا ہے ۔ عبیرہ بے بسی سے بولی ۔ 

’’ نہیں میں کم سے کم اس بات سے اتفاق نہیں کرتا ، میں سمجھتا ہوں کہ شکل و صورت ایک حد تک متاثر کرتی ہے لیکن زندگی کا سفر عادات کے ساتھ بسر ہوتا ہے ۔ رشتہ کوئی بھی قائم کیا جائے اس میں چند سمجھوتے ہوتے ہیں اور وہ سمجھوتے عادات کے ہوتے ہیں ۔ کبھی کبھی بہت خوبصورت لوگ ہمیں چھو کر گزر جاتے ہیں اور کبھی معمولی شکل و صورت کے افراد ہماری روح میں اتر جاتے ہیں ۔ ‘‘ شہباز نے مسکراتے ہوئے کہا ۔ 

باتوں میں  وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا تو عبیرہ کہنے لگی  کہ اتنی دیر ہو گئی  اور پتہ بھی نہیں چلا بس یہ مزمل جہاں کہیں بھی جاتاہے اسے وقت کا احساس تک نہیں ہوتا ۔ دانش  نے  مزمل سے وعدہ لیا کہ وہ  دوبارا ضرور اسکے گھر آئے گا ۔ 

مزمل کی سالگرہ تھی اور اس نے بطور خاص دانش اور شہباز کو مدعو کیا تھا سالگرہ کی وجہ سے آج مزمل کے والد صارم  اور والدہ نیلی بھی گھر تھیں ۔ گھر مہمانوں سے بھر چکا تھا لیکن مزمل کی نگاہیں دانش کو ہی ڈھونڈ رہی تھیں ۔ سو دانش کے آنے پر ہی کیک کاٹا  گیا ۔ شہباز نے سالگرہ کے اختتام پر اجازت چاہی  تو صارم صاحب نے اصرار سے روک لیا اور کہا کہ ’’ ہمارا بیٹا تو آپ کی بہت تعریف کرتا ہے کہ شہباز انکل یوں کہتے ہیں اور شہباز انکل یوں کرتے ہیں ۔ ‘‘ نیلی بھابھی اور عبیرہ بھی مہمانوں کو کمپنی دینے کے بعد ڈرائینگ روم میں آگئیں ، لیکن آتے ہی بہت حیران ہوئیں کیونکہ شہباز اور صارم دونوں اس طرح محو گفتگو تھے کہ گویا بچپن سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں ۔ بیوی کے آنے پر صارم نے بتایا کہ نیلی یہ سر لطیف کے بیٹے ہیں وہی جو ہماری یونیورسٹی میں پروفیسر تھے ۔ اور سچ پوچھو تو آج ہم دونوں جس مقام پر ہیں وہ ان کی ہی محنت کے بل بوتے پر ہے ۔ 

نیلی کی آنکھیں بھی یہ سنتے ہی آنسوئوئوں سے بھر گئیں ’’ شہباز بھائی آپ کے والد  نے میری اس وقت مدد کی جب میرے پاس اپنی فیس جمع کروانے کے لئے بھی پیسے نہیں  تھے وہ تو استاد سے بڑھ کر گویا ایک والد کی طرح تھے ۔ میں تو آپ سے مل کر اتنی خوش ہوں کہ بتا نہیں سکتی ۔ آپ کسی دن بھابھی کو لے کر ہمارے  گھر آئیں  ۔ ‘‘ 

شہباز اس حسین  اتفاق پر بہت حیران تھا خوشی کی باتوں میں اسکے باپ کا اس دنیا سے گذر جانا اور اپنی محبوب بیوی کی وفات کے احساس نے اسے افسردہ کر دیا ۔ ’’بھابھی اپنے والد کے لئے ان جذبات کی میں بہت قدر کرتا ہوں لیکن آپ کی بھابھی کو لانے کی فرمائش میں پوری نہیں کر سکتا  کیونکہ  سحرش دانش کی پیدائش پر ہی مجھے چھوڑ گئی تھی ۔ میرے رشتے داروں  نے مجھ پر دوسری شادی کے لئے بہت دبائو ڈالا  لیکن مجھے  حسن صورت کی نہیں حسن سیرت کی تلاش ہے ‘‘۔ شبہاز نے  یہ کہتے ہوئے عبیرہ کی طرف دیکھا تو اسکا دل بری طرح سے دھڑکنے لگا ۔ 

دن گزرتے گئے ، شہباز اور دانش کا  ان کے گھر ایسے آنا جانا ہو گیا جیسے وہ ایک ہی گھر کے افراد ہوں ۔ شہباز اور صا رم یوں گیپیں لڑاتے جیسے کوئی بچھڑے ہوئے دوست صدیوں بعد ایک دوسرے سے ملے ہیں ۔ دونوں بچے تو پہلے ہی عبیرہ کے دیوانے تھے اور نیلی بھابھی  بھی گاہے بگاہے انھیں جوائن کرلیتی تھیں ۔ شہباز کے آنے سے یوں لگتا تھا کہ جیسے اس ویران گھر کی رونقیں بحال ہو گئی ہوں ۔ 

شہباز جب عبیرہ کو بچوں کے ساتھ دیکھتا تو اسکے  ہونٹوں پرمسکراہٹ بکھر جاتی ۔ ایک دن  جانے اس کے دل میں کیا آئی تو عبیرہ کو کہنے  لگا کہ ’’ عبیرہ آپ پڑھائی کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں مختلف کورسز کریں اور خود کو مصروف رکھیں ۔ ‘‘ 

گویا ایک طرح سے وہ عبیرہ کو کمپیلکس سے نکالنا چاہ رہا  تھا اور کافی حد تک اس میں کامیاب بھی رہا تھا ۔ شہباز عبیرہ کے لئے کسی اور ہی انداز سے سوچنے لگا تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ عبیرہ بھی اسے دل ہی دل میں پسند کرنے لگی ہے گویا دونوں ریجیکشن کے خوف سے اقرار نہیں کر رہے تھے ۔ آج شہباز اور صارم کی ملاقات طے تھی گھر میں صارم کے سوا کوئی بھی نہیں تھا ۔ اسلئے شہباز کو اپنا آپ کھول کر رکھنے میں کوئی  مشکل پیش نہ آئی ۔ صارم دل ہی دل میں خوش تو ہوا لیکن عبیرہ اور نیلی کی منشا بھی  مقدم تھی سو کچھ وقت درکار تھا اور شہباز بخوشی انتظار کر سکتا تھا ۔ 

’’ صارم شہباز بھائی نہیں آئے کافی دن سے ؟ لگتا ہے بھول ہی گئے ہیں ہمیں ۔ ‘‘ نیلی نے آج کافی دن بعد  شہباز کی غیر حاضری کو محسوس کیا تھا ۔ 

’’ ہاں یار وہ میں بتانا بھول گیا تھا کہ پرسوں جب تم اور عبیرہ بازار گئے تھے  تو شہباز آیا تھا اور اس نے اپنے  لئے ہماری عبیرہ کا ہاتھ مانگا  ہے ۔ دل تو بہت خوش ہے میرا  ، پروفیسر لطیف  کا قابل و ہونہار بیٹا ہے ۔ نوکری کا بھی کوئی مسئلہ نہیں  ہے اور فیملی بھی چھوٹی ہے لیکن پھر بھی دل ڈرتا ہے  کہ عبیرہ بن ماں باپ کے بچی ہے کہیں یہ محسوس ہی نہ کر لے کہ بھائی بھاوج  مجھے بوجھ سمجھ کر رنڈوے کے ساتھ بیاہ رہے ہیں ۔ ‘‘ 

نیلی بھی سوچ میں پڑ گئی ’’ ہاں یہ تو ہے کہ آج کل لوگ صرف صورت ہی دیکھتے ہیں گن نہیں ۔ خدانخواستہ ہماری عبیرہ میں کوئی کمی نہیں ہے لیکن شہباز عزت کے ساتھ رشتہ مانگ رہا ہے بے شک عبیرہ کوئی بوجھ نہیں لیکن اب اسکی عمر ۳۰ برس سے اوپر ہو چلی ہے پھربھی   آپ عبیرہ سے پوچھ لیں کیونکہ زندگی ہم نے نہیں اس نے گزارنی ہے ۔ ‘‘ 

اب عبیرہ اس صورتحال  پر کافی شش و پینج کا شکار تھی کیونکہ  وہ یہ بھی نہیں بتا سکتی تھی کہ وہ دل ہی دل میں شہباز کو پسند کرنے لگی ہے اور  خاموش بھی نہیں رہ سکتی تھی ۔ لیکن  بہت سوچنے کے بعد  اس نے بھائی کے سامنے اپنی رضامندی کا اظہار کر دیا تھا ۔ دونوں طرف سے پسندیدگی کے اظہار کی باوجود بھی صارم کا یہی خیال تھا کہ یہ لوگ بغیر کسی دبائو کے اپنی زندگی کا فیصلہ کریں اور سوچ سمجھ کر کوئی قدم اٹھائیں ۔ سو آج اسی پارک میں جہاں قسمت نے انھیں  پہلی مرتبہ ملوایا تھا ان دونوں کی ملاقات طے تھی ۔ 

بہت مہینوں بعد وہ ملے تھے اور اس ملاقات کی خبر عبیرہ کے گھر والوں کو تھی ۔چند ثانیے کی خاموشی کے بعد شہباز نے کہا ’’ عبیرہ اگر تم سمجھ رہی ہو کہ میں ترس کھا کر تم سے شادی کر رہا ہوں تو ایسا ہر گز نہیں ہے میں دل سے تمھیں پسند کرنے لگا ہوں ۔ یہ بھی مت سوچنا  کہ میں اپنے بیٹے کی وجہ سے تمھیں کسی زنجیر میں قید کرنا چاہتا ہوں ۔ مجھے اگر اپنے بیٹے کے لئے کوئی ماں چاہیے ہوتی تو میں اسکی پیدائش کے فورا بعد ہی شادی کر لیتا ۔ لیکن مجھے اپنے بیٹےکے لئے ماں سے زیادہ اپنے لئےایک مخلص دوست کی ضرورت ہے اور بیوی سے زیادہ مخلص دوست کوئی نہیں ہو سکتا ۔ میں تم سے تمھاری وجہ  سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور جہاں تک میرے بیٹے کی بات رہی تو اس معصوم کا دل تم بہت پہلے ہی جیت چکی ہو ۔یہاں آنے سے پہلے بھی مجھ سے کہہ رہا تھا کہ پاپا پھوپھو ہمارے گھر ہمیشہ کے لئے آجائیں گی ؟ میں نے اسے کہا ہے  کہ بیٹا وہ آپ کی پھوپھو نہیں  آپ کی ماما بن کر آ رہی ہیں ۔ کیوں میں نے ٹھیک کہا ہے ناں۔ ‘‘ ؟ 

شہباز یہ کہہ کر چپ سا ہو گیا لیکن عبیرہ  نےنگاہ سامنے دوڑائی تو دانش اور مزمل بھاگتے ہوئے انہی کی طرف آ رہے تھے ۔ دانش ماما ماما کہتے ہوئے عبیرہ سے لپٹ گیا  ، عبیرہ کے لبوں پر پھیلی مسکراہٹ شہباز کے سوال کا  جواب دے دیا تھا ۔

ختم شد

نوٹ: یہ افسانہ نویس کا ذاتی موقف ہے،ا دارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -