دُہری شہریت والوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہئے

دُہری شہریت والوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہئے
دُہری شہریت والوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہئے

  

 اس وقت کم و بےش سترہ لاکھ پاکستانی دنےا کے مختلف ممالک مےں مقےم ہےں۔برطانےہ مےں 12لاکھ ، ناروے مےں 40ہزار، امرےکہ مےں 4لاکھ ، کےنےڈا مےں2لاکھ، فرانس مےں50ہزار، سپےن مےں70ہزار، جرمنی مےں75ہزار، اٹلی مےں70ہزار، جاپان مےں15ہزار، ہالےنڈ مےں 35 ہزار، نےوزی لےنڈ مےں5ہزارپاکستانی مقےم ہےں۔ہر سال تقرےباً 13بلےن ڈالر کے قرےب رقم اوورسےز پاکستانی پوری دنےا سے کما کر پاکستان بھےجتے ہےں جو پاکستان کی اےکسپورٹ کے بعد پاکستان مےں زرِ مبادلہ کی آمد کا سب سے بڑا ذرےعہ ہے۔ دوہری شہرےت کے حامل پاکستانیوں نے پاکستان مےں بڑے پےمانے پر سرماےہ کاری کر رکھی ہے۔ دوہری شہرےت والے پاکستانیوں کے فلاحی ادارے اور تنظےمےں پاکستان مےں اربوں روپے کے فلاحی منصوبے چلارہی ہےں۔ بےرون ممالک مےں مقےم دوہری شہرےت والے پاکستانی اپنے آبائی وطن کے سفےر بن کر پاکستان کے لئے لابنگ کرتے ہےں۔

آج دُنےا کے مختلف ممالک مےں دوہری شہرےت والے پاکستانی کئی شعبوں مےں اپنا نام اور مقام پےدا کر کے پاکستان کی نےک نامی کا باعث بن رہے ہےں۔ دوہری شہرےت کوئی جرم نہےں۔16ممالک مےں مقےم پاکستانیوں کو دوہری شہرےت رکھنے کاحق پارلےمنٹ اور آئےن نے دےا ہے اور پاکستانی آئےن اور قوانےن کے مطابق دوہری شہرےت والے پاکستانیوں کو سوائے پارلےمنٹ کا رکن بننے کے تمام حقوق حاصل ہےں۔

بہت سے پاکستانی دوہری شہرےت رکھنے کے باوجودبرطانےہ، کےنےڈا، سوےڈن، اٹلی، امرےکہ، سوئٹزرلےنڈ، بےلجےئم ، آئرلےنڈ، ہالےنڈ، نےوزی لےنڈ، فرانس، آسٹرےلےا سمےت کئی ممالک کے اہم عہدوں پر فائز اور وہاں کے منتخب اداروں مےں موجود ہےں۔ ان تمام ممالک مےں ان کی دوہری شہرےت کہےں بھی رکاوٹ نہےں بنتی اور نہ ہی دوہری شہرےت کی وجہ سے ان پاکستانیوں کے ساتھ وہاں امتےازی سلوک ہوتا ہے، مگر جس ملک کی شہرےت انہےں پےدائشی طور پر حاصل ہے وہاں انہےں کم تر شہری بناےاجارہا ہے۔آج برطانےہ مےں 300پاکستانی نژاد مختلف شہروں مےں کونسلر منتخب ہوکر خدمات سر انجام دے رہے ہےں۔ برطانےہ کے سات شہروں بلےک برن، نےلسن، برےڈ فورڈ، والتھم سٹو، ہائی وےکمب، برمنگھم اور مےڈن ہےڈ کے لارڈ مےئر پاکستانی ہےں۔ اس کے علاوہ 6پاکستانی نژاد (خالد محمود مرزا، صادق خان، رحمن چشتی، شبانہ محمود، ےاسمےن قرےشی اور انس سرور ) برطانوی پارلےمنٹ کے ممبر ہےں اور پانچ پاکستانی نژاد ہاﺅس آف لارڈز کے معزز اےوان مےں پہنچ چکے ہےں، جن مےں لارڈ نذےراحمد، لارڈ قربان حسےن، لارڈ محمد شےخ، لارڈ طارق علی اور بےرونس سعےدہ وارثی شامل ہےں۔ پاکستانی نژاد سجاد کرےم ےورپےن پارلےمنٹ کے ممبر بن چکے ہےں۔ پاکستانی نژاد محترمہ بےرونس سعےدہ وارثی برطانےہ کی حکمران جماعت کی چےئرپرسن کی ذمہ دارےاں بھی نبھا چکی ہےں اور پہلی پاکستانی نژاد خاتون مسلمان وزےر بننے کا اعزاز بھی انہےں حاصل ہے۔ لندن پولےس مےں پاکستانی نژاد طارق غفور اہم عہدے پر فائزرہے ہےں۔ برطانوی باکسر عامر خان بھی پاکستانی نژاد ہےں اور عالمی سطح پر پاکستان کی پہچان بن چکے ہےں۔

 برطانےہ کے فارن آفس ، ہوم آفس اور دوسرے سرکاری اور نجی اداروں مےں پاکستانی نژاد ماہرےن کام کر رہے ہےں اور برطانوی حکومت ان پاکستانیوں کی مہارتوں اور قابلےتوں سے استفادہ کر رہی ہےں۔ مَےں نے اوپر کی سطور مےں، جن قابل فخر پاکستانیوں کا ذکر کےا ہے، ےہ سب برطانوی معاشرے مےں پاکستان کا روشن چہرہ اور پاکستان کی پہچان ہےں ۔ برطانےہ کے علاوہ ناروے کے شہر اوسلو کی مےونسپل کمےٹی کے آٹھ منتخب رکن پاکستانی نژاد ہےں، جبکہ اختر چودھری، طارق شہبازاورمحترمہ افشاں رفےق ناروے کی پارلےمنٹ کے رکن رہ چکے ہےں۔ پہلی مسلمان پاکستانی ہادےہ تاجک نے ناروے کی کلچر منسٹر بننے کا اعزاز حاصل کرلےا ہے۔ اسی طرح واجد خان اور رحےم جعفر کےنےڈا کی پارلےمنٹ کے ممبر رہ چکے ہےں۔ پاکستانی نژاد اشرف چودھری نےوزی لےنڈ کی پارلےمنٹ کے رکن ہےں اور اٹلی کی تارےخ مےں پہلی بار پاکستانی نژاد اطالوی مسلمان سےّد غےاث شاہ اٹلی کی دوسری بڑی جماعت پی ڈی کے ٹکٹ پر انتخابات مےںحصہ لے رہے ہےں۔ پاکستانی نژاد ےاسر نقوی کےنےڈا کے پہلے وزےر برائے لےبر بن گئے ہےں۔

مےرپور آزاد کشمےر سے تعلق رکھنے والے لارڈ نذےر احمد نے ہمےشہ ہرعالمی فورم پر پاکستان کی وکالت کا حق ادا کےا ہے۔ لارڈ نذےر احمد فرےنڈز آف کشمےر کمےٹی کے چےئرمےن ہےں۔ ان کی پاکستان کے لئے بے پناہ خدمات کسی آنکھ سے اوجھل نہےں ہےں۔ اسی طرح ےورپےن پارلےمنٹ کے ممبر پاکستانی نژاد سجاد کرےم ےورپےن پارلےمنٹ مےں فرےنڈز آف پاکستان کے چےئرمےن ہےں۔ پاکستان کے اس قابل فخر فرزند سجاد کرےم نے ےورپےن ےونےن مےں پاکستان کی ٹرےڈ بحال کرنے مےں اہم کردارا دا کےا۔ اسی طرح پاکستان کے شہر گوجرخان سے تعلق رکھنے والے سرانور پروےز کا شمار برطانےہ کے امےر ترےن افراد مےں ہوتا ہے۔ سرا نور پروےز نے پاکستان مےں بےسٹ وے سےمنٹ فےکٹری لگا کر اربوں روپے کی سرماےہ کاری کی ہے اور ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کےا ہے۔ وہ ےونائےٹڈ بےنک کے شےئر ہولڈر بھی ہےں۔ اس ناقابل تردےد حقےقت کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ پاکستان کے اکثر بڑے سےاسی رہنماﺅں کی جائےدادےں اور اولادےں پاکستان سے باہر ہےں۔ برطانےہ مےں پاکستانی ہائی کمشنر سےّدواجد شمس الحسن دوہری شہرےت رکھتے ہےں۔

آج اوورسےز پاکستانیوں کو الےکشن مےں حصہ لےنے کی بھی اجازت نہےں دی جارہی، اوور سےز پاکستانیوں کو الےکشن مےں حصہ لےنے کا حق ملنا چاہیے اور پارلیمنٹ اس سلسلے میں آئین میں ترمیم کرے۔    ٭

مزید :

کالم -