حمید رضا صدیقی کی منفرد تصنیف

حمید رضا صدیقی کی منفرد تصنیف
حمید رضا صدیقی کی منفرد تصنیف

  



آج کا نوجوان دور جدید کی ایجادات کے باعث جہاں بہت ذہین ہے، وہیں وہ ادب سے، یعنی کتاب سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ، فیس بُک، ٹوئیٹر ، موبائل اور سکائپ نے ہماری نئی نسل کو ایسا مصروف کیا ہوا ہے کہ کتاب تو وہ نصاب کی بھی مشکل سے ہی پڑھتے ہیں، اس پر کِسی معلوماتی یا اسلامی کتاب کا مطالعہ بہت دور کی بات ہے۔ آج ہمارا نوجوان مہنگے سے مہنگا موبائل، لیپ ٹاپ، آئی پیڈ اور نت نئی ایجادات کی مشینیں تو بہت ذوق و شوق سے لیتا ہے ۔ سپورٹس بائیک اور سپورٹس کار پر ریس کا رسیا ہے۔ دوستوں کے ساتھ مل کر ہوٹلنگ کا دلدادہ ہے، مگر بانی ¿ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح ؒ سے متعلق جاننے کے لئے صرف ایک کتاب خرید کر پڑھنے کا روا دار نہیں، لیکن آج معاشرے میں ہونے والی بحث میں حصہ لینا بھی اپنا فرض سمجھتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے نئی نسل کو دو قومی نظریہ کی اصل روح سے روشناس ہی نہیں کروایا اور نہ ہی اپنے عظیم قائد حضرت محمد علی جناحؒ کی سوچ و فکر کے ساتھ ساتھ ان کی دور اندیشی اور حکمت سے آگاہی دی۔ ایسے میں پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے قابل تحسین کام کیاہے۔ انہوں نے قائداعظم ؒ کے سچے سپاہی اور محب وطن پاکستانی ہونے کا عملی مظاہرہ کیا اور خصوصی طورپر نئی نسل کے لئے ایک بامقصد کتاب ”قائداعظم ؒ کیسا پاکستان چاہتے تھے“ تخلیق کی۔ انہوں نے اس کا انتساب نوجوانوں کے نام کرتے ہوئے لکھا کہ ”انتساب: نسل نو کے نام، جسے قائداعظم ؒ کے افکار و تصورات سے ابھی تک نا آشنا رکھا گیا ہے“۔

کتاب کی تقریب رونمائی میں اظہر سلیم مجوکہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم روایات کو چھوڑ کر مسائل میں گھر گئی ہے ۔ ہم آج تک قوم نہیں بن سکے۔ نئی نسل کی سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انجینئر سید طاہر حسن نے کہا پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے کتاب کے ذریعے نوجوان نسل کو سبق دیا۔ ڈاکٹر خالد اعجاز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر حمید رضا صدیقی کی کتاب نئی نسل کے لئے تحفہ ہے۔ انہوںنے وقت کی نزاکت کو سمجھا اور نئی نسل کو اپنے عظیم قائد سے روشناس کروانے کا بہترین انتظام کیا۔ پروفیسر حمید رضا صدیقی کے چھوٹے صاحبزادے انجینئر دانیال صدیقی نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے علمی گھرانے میں پیدا کیا۔ قائداعظمؒ کیسا پاکستان چاہتے تھے؟ وہ آج نہیں تو انشاءاللہ کل کا پاکستان ہو گا۔ چودھری ذوالفقار علی نے کہا کہ نئی نسل کو درست سمت پر چلانے کی ضرورت ہے۔ مسائل از خود ختم ہو جائیں گے۔ ایم اے جہانگیر نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے پاکستانیت اور پاکستانی قوم کو بیدار کرنے کے حوالے سے تاریخی کارنامہ سر انجام دیا ہے۔

 اگر ہم قائداعظمؒ کی ذاتی زندگی پر نظر ڈالیں تو کئی واقعات ملتے ہیں، جن سے ان کی اسلام دوستی اور مذہب سے محبت چھلکتی ہے۔ قائداعظم ؒ کے کردار سے واقف ہر شخص کا کہنا ہے کہ قائداعظم ؒ کے قول و فعل میں کہیں تضاد نہیں تھا۔ یہی میرے قائدکا کر دار تھا ،مَیںاس بات سے ان کا بڑے سے بڑا مخالف بھی انکار نہیں کر سکتا ہے، تو پھر ہم کیوں اپنے عظیم رہنما کے بارے میں غیروں کی باتوں پرکان دھرتے ہیں۔ خدارا پاکستانی قوم پرظلم مت کیجئے۔ اس پر رحم کھایئے، یہ بہت معصوم ہے۔ اس کو اس کے ٹریک سے ہٹانے کی کوشش مت کیجئے۔ اسی لئے ہم ڈاکٹر حمید رضا صدیقی کی منفرد اور نایاب تخلیق پر انہیں مبارک باد پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ نوجوانان پاکستان اس کتاب سے استفادہ کریں گے اور قائد کے افکار پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کو عظیم تر مملکت بنائیں گے۔

مزید : کالم