لیڈی ولنگڈن ہسپتال کو بہتر بنایا جائے

لیڈی ولنگڈن ہسپتال کو بہتر بنایا جائے
لیڈی ولنگڈن ہسپتال کو بہتر بنایا جائے

  

13فروری2014ءبروز جمعرات روزنامہ ”پاکستان“ میں دریائے راوی کے کنارے شہنشاہ جہانگیر ان کی بیوی اور بیٹی کی قبریں موجود ہیں، اُن کی یاد کو تازہ کرنے کے لئے خادم اعلیٰ نے پروگرام بنایا ہے کہ شہنشاہ جہانگیر کے مقبرے کو مرمت کروایا جائے گا اور یہاں ایک پانی کی جھیل بھی بنائی جائے گی۔ گزشتہ ماہ سے دریائے راوی کے پل کی تعمیر کروانے اور سڑک کو چوڑا کرنے کے لئے فیروز پور روڈ جنرل ہسپتال سے لے کر شاہدرہ تک دونوں اطراف سڑک کے کنارے تمام کمرشل بلڈنگیں اور شادی ہال اور سرکاری دفاتر مسمار کروائے جا رہے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اس خطے میں ایک حکمران شیر شاہ سوری تاریخ رقم کر گیا، کیونکہ شیر شاہ سوری نے پشاور سے لے کر دہلی تک جی ٹی روڈ تعمیر کروائی تھی، جو آج تک قائم ہے۔

میاں برادران نے1997ءسے لے کر1999ءتک اپنی حکمرانی میں اسلام آباد سے لاہور تک موٹروے تعمیر کروائی تھی اور آج عوام مستفید ہو رہے ہیں۔ عین ممکن ہے عوام کی دعاﺅں کی وجہ سے دوبارہ پاکستان کی حاکمیت نصیب ہوئی ہے، ویسے بھی اللہ تعالیٰ جسے چاہے تخت و تاج عنایت کر دے اور جس کو چاہے زوال پذیر کر دے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے مینار پاکستان کی جھیل کو ختم کروا کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ لاہور کے بسنے والوں کے لئے ڈینگی مچھروں کی یلغار سے نجات دلوا دی ہے۔ اس کے علاوہ مینار پاکستان کی تعمیر کروانے پر حضرت قائداعظم ؒ بھی ضرور اپنی قبر میں خوش ہوئے ہوں گے اور آنے والی نسلیں بھی آپ کو سنہری حروف سے یاد کیا کریں گے۔

لیڈی ولنگڈن ہسپتال جس کو برطانیہ کی پیدائشی سماجی کارکن خاتون نے تعمیر کروایا تھا اور جب سے یہ ہسپتال تعمیر کروایا گیا ہے، آج تک اس ہسپتال میں کروڑوں بچوں کی پیدائش ہو چکی ہے۔ آپ ذرا سوچیں کہ اس ہسپتال میں کروڑوں بچوں کی پیدائش ہونے کے بعد تعلیم حاصل کر کے کن کن حکومتی عہدوں پر فائز ہو کر خدمت انسانیت کر چکے ہیں اور آئندہ کی نسل بھی ضرور جوان ہو کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعدمختلف عہدوں پر فائز ہوگی ،آپ اس لیڈی ولنگڈن ہسپتال کو مسمار کرانے کے بجائے ، اس کی بلڈنگ کو خوبصورت تعمیر کروا کر لیڈی ولنگڈن کی یاد کو تازہ کر کے تاریخ رقم کر دیں اور ہسپتال کے تمام ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں اور ہسپتال میں ادویات فراہم کریں۔ اس کے علاوہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی آخری آرام گاہ کو بھی مزید خوبصورت تعمیر کروایا جائے تاکہ لاہور کو اس کی اصلی شکل میں تعمیر کروایا جا سکے۔

مزید : کالم