انقلابی دور کاآغاز

انقلابی دور کاآغاز
انقلابی دور کاآغاز

  

سینکڑوں لاکھوں لوگوں کی طرح مَیں بھی محترم سید جاوید علی شاہ کے لئے اپنے دل میں بے پناہ عزت و احترام اور محبت کے جذبات رکھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں ہزاروں خوبیوں سے نوازا ہے۔وہ انسانیت کا درد رکھنے والے انسان ہیں۔ بہترین منتظمہیں، لاکھوں، کروڑوں کے وسائل پر دسترس کے باوجود درویشوں کی سی زندگی گزارتے ہیں۔ سادہ غذا انہں مرغوب ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی کامیاب ہوئے تو مزید سادگی کا نمونہ بن گئے۔وہ اسراف کو اپنی ذات کے لئے ناپسندیدہ عمل سمجھتے ہیں۔وہ اپنی ذات پر توجہ دینے کے بجائے مقصد کی لگن میں مست رہتے ہیں۔خدمت خلق کے دعویدار اور بھی بہت سے لوگ ہیں،ان کی کارکردگی پر بھی حرف گیری مناسب نہیں، مگر یہ بات کہنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ ان لوگوں کے مقاصد کا حصول سب جانتے ہیں اور یہ لوگ اسی دنیا کے نظر آتے ہیں، مگر سید جاوید علی شاہ دوسری دنیا کے آدمی ہیں۔مَیں انہیں بچپن سے جانتا ہوں۔وہ اپنے کام پر ذات کو مقدم رکھنے سے انکار کی علامت ہیں۔ یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان اور سرکاردوعالم کا اسوہ¿حسنہ ہے،جس پر دل و جان سے عمل نے محترم سید جاوید علی شاہ کو مخلوق کی توجہ و اعتبار و اعتماد کا مرکز بنا دیا ہے۔وہ دنیا سے کسی اجر کے طالب نہیں۔وہ حیات مستعار میں دائمی زندگی کا سامان کررہے ہیں۔ان کا گھرانہ بھی اسی عزت و احترام کا مستحق ہے۔محترم سید جاوید علی شاہ، سید مجاہد علی شاہ، سید واجد علی شاہ اور ان کے ہزاروں لاکھوں بے نام کارکنوں کو سلام! وہ خدمت کرکے مخدوم ہوگئے اور ان نام نہاد مخدوموں سے ہزار درجہ بلند مقام پر پہنچ گئے جو اللہ کے بندوں کو اپنے سامنے سجدہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔خدمت کرنے والے اپنی محنت کا صلہ مانگنے کی جرات سے بھی عاری ہیں۔حضرت احسان دانش نے ایسے ہی مخدوموں کے طرزعمل کی اپنے شعر میںاس طرح تصویر کشی کی ہے۔شاعر مزدور اپنے تجربے کی بنیاد پر یہی کہہ سکتے تھے:

محنت کا صلہ اہل خیانت سے نہ مانگو

مردے کبھی قبروں کی کھدائی نہیں دیتے

کہتے ہیں کہ محترم سیدجاوید علی شاہ شجاع آباد کی تعمیر و ترقی کے لئے ہمہ تن مصروف ہیں۔انہوں نے ملتان سے جلال پور پیروالا تک ایکسپریس وے کے لئے مبلغ 2ارب 30کروڑ روپے کا فنڈ حکومت سے منظور کرایا ہے۔ ایکسپریس وے کی تعمیر کے لئے ٹینڈر بھی ہو چکے ہیں اور اس منصوبے پر بہت جلد کام شروع ہو جائے گا۔ شجاع آبادکے عوام کے لئے یہ واقعی خوشخبری ہے۔اس سلسلے میں سید جاوید علی شاہ کے عقیدت مندوں نے تھانہ چوک پر اپنے ڈیروں کے دروازوں پر بڑے بڑے بینر لگا رکھے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پیپلزپارٹی کا تھا اور سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سابق رکن قومی اسمبلی نواب لیاقت علی خان کی مشاورت سے بنایا تھا، کام بھی شروع تھا، ڈبل پھاٹک، فلائی اوور اور ناگ شاہ فلائی اوور کی تعمیر کے بعد ایکسپریس وے پر کام شروع کرنا تھا کہ پیپلزپارٹی انتخابات میں ہار گئی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت آ گئی، لیکن موجودہ حکومت کی یہ ایک اچھی روایت ہے کہ پچھلی حکومت کے جاری منصوبوں کو ختم نہیں کیا، بلکہ ان کو صحیح طریقے سے جاری کیا جا رہا ہے۔میاں محمد نوازشریف سے اختلاف رکھنے والے ممکن ہے کہ اس حقیقت سے بھی انکار کریں کہ ان کا آئیڈیل پاکستان مہذب اور ترقی یافتہ ملکوں کی مثبت روایات والا پاکستان ہے۔ان کے ذہن میں موجودہ آئیڈیل پاکستان کا نقشہ ہے،جس کا تعلق پاکستان کے عوام کو بھی ترقی یافتہ ملکوں کے عوام جیسی سہولتیں دینے سے ہے ،جس کے لئے وہ رات دن کوشاں ہیں۔

 ایکسپریس وے ہو یا میٹروبس سروس کے منصوبوں کی منظوری، ایک خوش آئند اقدام ہے، اس سے پنجاب حکومت کے تمام شہروں کو یکساں سہولتیں فراہم کرنے کے عزم کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے، اس لئے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کی میٹروبس منصوبے اور ملتان تا شجاع آباد ایکسپریس وے کے تعمیراتی منصوبے کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ بلاشبہ جب تک معاشرے کو بدلتے ہوئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک ترقی کی دوڑ میں خود کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔ایکسپریس وے اور میٹروبس منصوبوں سے جہاں ملتان شجاع آباد اور دیگر شہروں میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی، وہیں عوام میں ان منصوبوں کے بارے میں بہت زیادہ جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ ان کے خیال میں اس سے ان کے ٹریفک کے مسائل حل ہو جائیں گے۔حکومت پنجاب صوبے کے تمام شہروں کی ترقی و خوشحالی کے لئے کوشاں ہے۔ اس کی ایک مثال لاہور میں میٹروبس سروس کا کامیابی سے جاری رہنا ہے۔اب ملتان، فیصل آباد اور راولپنڈی میں میٹروبس سروس کے تعمیراتی کام کے افتتاح سے یقینا ایک انقلابی دور کا آغاز ہوگا۔

بہتر تو یہ ہے کہ ضلع ملتان کی سڑکوں کو اس منصوبے کے شروع ہونے سے قبل ہی نہ صرف چوڑا کر لیا جائے، بلکہ ان کی دیکھ بھال کو بھی یقینی بنایا جائے۔بصورت دیگر میگاپراجیکٹس سے عوام پوری طرح مستفید نہیں ہو پائیں گے۔ پاکستانی عوام خوب جانتے ہیں کہ میاں محمد نوازشریف نے موٹروے بنائی، جسے اب پورے پاکستان تک پھیلائے جانے کا منصوبہ ہے۔بیرون ملک سے پاکستان آنے والے پاکستانیوں اور غیر پاکستانیوں کے ساتھ ایئرپورٹ پر مہذب رویہ اپنائے جانے کے لئے گرین چینل کا آغاز کیا۔ملک کی معاشی ترقی کے لئے ماڈرن ایئرپورٹس بنائے۔گوادر کی بندرگاہ تعمیر کی، جس کا پاکستانی عوام کی معاشی فلاح و بہبود کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ کراچی سے پاکستان تک بائی روڈ سفر کرنے والے عوام کو قدم قدم پر محصول چنگی کے نام پر بھتہ مافیا کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ میاں محمد نوازشریف نے عوام کو ریلیف دینے کے لئے محصول چنگی کا سلسلہ ختم کروایا۔

سرائیکی علاقوں میں ایک عرصے سے سائیکل رکشہ چلتا تھا، جن کے ڈرائیور بالآخر ٹی بی جیسے موذی کا شکار ہوجاتے ہیں۔یہ بات انسانیت کے خلاف تھی کہ دو چار آدمی پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوں اور ایک کمزور ونحیف انسان شہر بھر میں انہیں جانوروں کی طرح کھینچتا پھرے۔میاں محمد نوازشریف نے اپنے گزشتہ دور حکومت میںیہلعنت بھی ختم کردی اور سائیکل رکشے کی جگہ انہیں موٹرسائیکل رکشا دے دیئے گئے۔اسی طرح انہوں نے مہذب اور ترقی یافتہ ملکوں کے عوام کی طرح ان ٹیکسیوں میں سفر کی سہولت دینے کا نظام بنایا جو ایئر کنڈیشنڈ تھیں اور جن میں میٹر لگے ہوئے تھے، مگر یہ منصوبہ خود ان لوگوں نے ناکام بنا دیا، جن کے لئے سہولت مہیا کی گئی تھی۔ کچھ تو ٹیکسی ڈرائیوروں نے جو خود بھی عوام ہی میں شمار ہوتے ہیں، ان کے میٹر اتار دیئے۔پیلا رنگ ختم کرکے دوسرا پینٹ کروا لیا ۔ اس کے علاوہ کچھ بدنیت اور بے ایمان لوگوں نے خود کو ٹیکسی ڈرائیور ظاہر کرکے یہ گاڑیاں حاصل کرلیں اور انہیں ذاتی استعمال میں لے آئے۔

سارا قصور حکمرانوں کا نہیں ہوتا۔ہمیں اپنے گریبان میں بھی ضرور جھانکناچاہیے۔ میاں محمد نوازشریف نے سندھ میں ہاریوں کو زمینیں تقسیم کیں۔پاکستان کے کئی شہروں میں بے گھر لوگوں کے لئے فلیٹ بنائے،جو ان کی حکومت ختم ہوتے ہی پرویزمشرف حکومت نے ایک کمپنی کو فروخت کر دیئے۔اس کے علاوہ بے شمار کام ایسے ہیں جو ان کے کریڈٹ پر ہیں جو پاکستانیوں کو عزت وقار سے زندہ رہنے کے حوالے سے ان کی خواہش کے مظہر ہیں۔یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ میاں محمد شہبازشریف جیسا انقلابی سوچ کا حامل اور انتہائی متحرک شخص ان کا دست و بازو ہے۔آج کے میاں محمد نوازشریف 15برس پہلے سے قطعی مختلف دکھائی دیتے ہیں۔حالات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ میاں محمد نوازشریف ایک طاقت ور وزیراعظم ہیں۔

میاں محمد نواز شریف کی ٹیم میں سید جاوید علی شاہ سمیت عمر رسیدہ تین تجربہ کار افراد شامل ہیں جو مصیبتوں کے پہاڑوں کو جھیلنا جانتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان کے 70فیصد عوام میاں محمد نواز شریف کی حکومت سے مطمئن ہیں اور ان سے اچھی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ مسلم ریاستیں بھی مسلم لیگ(ن) کی حکومت سے معاملات طے کرنے کی خواہاں ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی طرح میاں محمد نواز شریف بھی کوئی شدت پسند مذہبی شخصیت نہیں ہیں ،لیکنمذہبی زعماءسے نمٹنے کی صلاحیت ان میں موجود ہے۔ ان کی پارٹی کی منظم مشینری اور خود ان کی سحر انگیز شخصیت انہیں اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ شدت پسند مذہبی گروپوں سے بھی بات کرسکتے ہیں۔نہ صرف میاں محمد نواز شریف بذاتِ خود بردباری کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں، بلکہ دوسروں کو بھی اس بات کا درس دیتے نظر آتے ہیں ، انتخابات جیتنے سے اب تک انہوں نے بجلی بحران سے لے کر دہشت گردی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لئے بہترین پالیسی ظاہر کی ہے۔ اگلے انتخابات تک نواز شریف 68برس کے ہوجائیں گے اور ان کے قریبی ساتھی بھی 60کی پیٹے میں ہوں گے، کوئی بھی وفاقی حکومت اب تک یکے بعد دیگرے دو مرتبہ منتخب نہیں ہوسکی ،اگرمیاں محمد نواز شریف 2018ءکے انتخابات میں بھی کامیاب ہوگئے تو یہ پاکستان میں ایک نیا ریکارڈ ہوگا۔

 پارٹی کے جونیئر رہنماﺅں کو بھی اپنے جذبات قابو میں رکھ کر میاںمحمد نواز شریف سے لیڈر بننا سیکھنا ہوگا۔ پارٹی کو اب عابد شیر علی کے لہجے میں نہیں بلکہ پرویز رشید کے لہجے میں آگے بڑھنا ہوگا۔ کاروباری ذہن رکھنے والے میاں محمد نواز شریف کو بخوبی اندازہ ہے کہ انہیں طویل المیعاد کاروباری دوست اور مضبوط معاشی منصوبے بنانے ہیں۔ ہمارے ملک کو سرمایہ کاروں کی ضرورت ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے جتنے بڑے پیمانے پر معاشی منصوبے ترتیب دئیے ہیں، ان کے لئے بھاری غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، ان کا ترکی کا حالیہ دورہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

پاکستان میں ایسے بہت سے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے موجود ہیں جو معیشت اور معاشی سرگرمیوں پر گہری نطر رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں ،لیکن ان اداروں میں ذہانت، تجربے اور غیر جانبداری کا فقدان نظر آتاہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو چاہئے کہ اس قسم کے ریگولیٹری اداروں کو ایک جانب کرکے نظام کو پیچیدگیوں سے پاک کرنے کے لئے قانون سازی کریں۔ حکومت کو چاہئے کہ کاروباری حلقوں کے لئے کاروباری قوانین تشکیل دے۔ گزشتہ برسوں کے دوران آپس کے لڑائی جھگڑوں نے پاکستانی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان کا کاروباری شخص بھارت کی کاروباری شخصیات سے جائز طور پر حاسدنظر آتاہے، کیونکہ بھارت میں کاروباری افراد کو بطور قومی ہیرو پیش کیا جاتاہے۔ کاروباری دنیا میں ایک دوسرے کو بدنام کرنے کے خلاف بھاری جرمانوں کے لئے بھی قانون سازی کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی اہم ہے کہ تیزی سے ترقی کرنے والے آزاد میڈیا کو بھی ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔

میاںمحمد نواز شریف کے وزیراطلاعات کو چاہئے کہ برطانیہ کی لیوس رپورٹ کا مطالعہ ضرور کریں۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی خواہش ہے کہ امریکہ ڈرون حملوں کو ختم کر دے اور امریکہ کو افغانستان سے انخلا کے لئے محفوظ راستہ فراہم کیا جائے۔ بہت ممکن ہے کہ امریکی انخلاءکے بعد افغانستان ایک بار پھر خانہ جنگی کی نذر ہوجائے، گو کہ میاںمحمد نواز شریف کو امریکہ سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔ حکومت اور طالبان سے مذاکرات ایک اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔یہ بات ہر کوئی جانتاہے کہ جب معاملہ خارجہ پالیسی کا ہو اور وہ بھی بھارت اور امریکہ کے حوالے سے تو خارجہ پالیسی میں حکومت کا ماہرانہ کردار ہوتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں گرم جوشی نظر آرہی ہے، تاہم امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون اور سی آئی اے کی جانب سے جن خدشات کا اظہار کیا جارہاہے، اس کے بعد پاک امریکہ تعلقات کے درمیان حائلخلیج کو پاٹنا میاں محمد نواز شریف کے لئے ایک بڑا چیلنج تو ہے ، لیکن اسے حل کرنے میں وہ ضرور کامیاب ہوں گے۔ایک اور بات یہ کہ میاں محمدنواز شریف ذاتی طور پر شاہانہ زندگی گزارتے ہیں، لیکن سرکاری سطح پر چادر کے مطابق پاﺅں پھیلانے لگے ہیں۔ وہ ایک خدا ترس اور دردِ دل رکھنے والے انسان ہیں۔ میری ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنی کابینہ کی سہ ماہی کارکردگی رپورٹ جاری کریں، بیورکریسی میں موجود بے چینی کو ختم کرائیں، آپ جو آڈر جاری کریں تو ان کی تعمیل کو بھی یقینی بنائیں، جن شہروں میں مسلم لیگ(ن) کی گروپ بندیاں ہیں، ان میں اتفاق کرائیں، آپ اپنے کاموں سے لوگوں کے دل جیت رہے ہیں، شجاع آباد کے عوام شجاع آباد سے رکن قومی اسمبلی سید جاوید علی شاہ سمیت پاکستان کے عوام آپ سے محبت کرتے ہیں، بس اس محبت کو اپنا قیمتی سرمایہ سمجھیں۔

مزید : کالم