محکمہ تعلیم میں ہنگامی بنیادوں پرکام کی ضرورت

محکمہ تعلیم میں ہنگامی بنیادوں پرکام کی ضرورت
محکمہ تعلیم میں ہنگامی بنیادوں پرکام کی ضرورت

  

 سندھ فیسٹیول کی سرگرمیوں کے دوران پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری سے ایک وفد نے ملاقات کی۔ وفد نے انہیں صوبہ سندھ میں تعلیم کی ابتر صورت حال سے آگاہ کیا اور اسے بہتر بنانے کے لئے درخواست کی۔ آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ بلاول نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا اور وعدہ کیا کہ وہ تعلیم کی بہتری کے لئے بھر پور نگرانی کریں گے، جس کے لئے اگر ایمرجنسی لگانا پڑی تو وہ بھی لگائی جائے گی۔ فیسٹیول کی بنیاد کلچرل کو (coup)بنا اور انہوں نے خود کہا کہ وہ کلچرل کو کا اعلان کرتے ہیں۔ پندرہ روزہ کلچرل کو کے لئے صوبہ سندھ نے 75 کروڑ روپے کی رقم مختص کی ۔ اب وہ ایجوکیشن ایمرجنسی نافذ کر کے صوبہ سندھ میں تعلیم کے شعبے میں اصلاح کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں۔

بلاول ایمرجنسی لگانے کی بات کرتے ہیں۔ اس نظام یا طریقہ کار کو کیا ہوگیا، جو اِسی صوبے میں 25یا 30 سال قبل قائم تھا۔ سکولوں کی نگرانی کا ایک ایسا مربوط طریقہ کار تھا کہ طلباءاور اساتذہ کے ساتھ ساتھ محکمہ تعلیم کے افسران چوکس رہا کرتے تھے۔ سکولوں کے معائنہ کے دوران بچوں کا اچانک ٹیسٹ لیا جاتا تھا۔ معائنہ کرنے والے افسران بھانپ لیا کرتے تھے کہ سکول میں تعلیم کا کیا معیار ہے۔ سوال یہ ہے کہ سندھ کے وزیر تعلیم کیا کرتے ہیں۔ ان کی کارکردگی کیا ہے ؟ وہ کارکردگی سامنے کیوں نہیں آتی یا لائی جاتی ؟ اسی صوبے میں مرحوم حسن علی آفندی نے، جو بلاول کے والد آصف علی زرداری کے نانا تھے، سندھ مدرسہ قائم کرنے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کئے تھے۔ اس کا سبب یہی تھا کہ انہیں احساس تھا کہ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔

 اسی زمانے میں ٹنڈ وباگو جیسے دور افتادہ علاقے میں مرد قلندر میر غلام محمد خان تالپور نے اپنی زمین پر اپنے پیسے سے 1920ءمیں سکول قائم کیا، ہاسٹل تعمیر کیا، ہاسٹل کے اخراجات کے لئے بنک میں رقم جمع کرائی ۔ نو شہرو فیروز میں الہندو شاہ مرحوم نے مدرسہ قائم کیا۔ اس کے اخراجات خود برداشت کیا کرتے تھے۔ اسی فروری کے مہینے میں سائیں جی ایم سید نے 1929ءمیں گوٹھ سدھار مہم کا آغاز کیا۔ اس مہم کا مقصد دیہاتوں کی حالت بہتر کرنے کے علاوہ شرح خواندگی میں اضافہ بھی تھا۔ یہ بھی اعلان کیا گیا تھا کہ رات کے وقت ایسے سکول قائم کئے جائیں گے،جہاں تعلیم بالغان کا بندوبست ہو گا۔ ہاریوں کو منظم کیا جائے گا۔ جب وہ وزیر تعلیم مقرر ہوئے تو انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔

سندھ میں کئی وزیر تعلیم ایسے آئے، جنہوں نے تعلیمی میدان تک ہی خود کو محدود رکھا اور تن دہی کے ساتھ کام کیا۔ ان ہی لوگوں کاکام تھا کہ سندھ سے تعلیم حاصل کرنے والوں کی وقعت ہوا کرتی تھی۔ صوبہ سندھ کی طرح خیبر پختونخوا ہو یا پنجاب، ماضی میں وہاں بھی لوگوں نے تعلیم کے فروغ کے لئے ایسے ایسے کام کئے، جن کے نتائج سامنے آئے۔ خیبر پختونخوا میں کون اعتراف نہیں کرے گا کہ صاحبزادہ عبدالقیوم خان نے تعلیم کے شعبے میں گراں قدر منصوبہ بندی کی تھی اور اس کی ایک سمت اسی طرح مقرر کی تھی، جیسے برصغیر کی تقسیم کے فوری بعد بھارت کے مرکزی وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد نے تعلیمی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ بھارت آج بھی اسی پالیسی پر گامزن ہے۔ حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں، لیکن مولانا آزاد کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی۔ مولانا کی دی گئی تعلیمی پالیسی میں بھارت کے عجائب گھروں کی دیکھ بھال، آثار قدیمہ پر تحقیق اور ترقی ، ذرائع ابلاغ، بشمول فلم کے ذریعے تعلیمی شعبے میں مدد لینا شامل تھا۔ بھارت کے کٹر مذہب پرست ہندو سیاسی رہنماﺅں نے بھی مولانا کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

سوال پھر یہ اٹھتا ہے کہ صوبہ سندھ میں جو بھی وزیر تعلیم آئے، وہ کرتے کیا رہے ہیں؟ 14 فروری کو سندھ میں اراکین کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیر تعلیم بتا رہے تھے کہ صوبے میں 49 ہزار سکول ہیں، جن میں سے 11ہزار سرکاری سکول بند ہیں۔ 659 ایسے سکول ہیں، جہاں کوئی بچہ نہیں ہے۔ 49ہزار سکولوں میں سے43 ہزار پرائمری سکول ہیں۔ ساڑھے پانچ ہزار ایسے سکول ہیں، جو بند پڑے ہیں یا غیر فعال ہیں۔ غیر فعال سکولوں کے بارے میں ماضی میں پانچ سال تک وزیر تعلیم رہنے والے پیر مظہر الحق بھی بار بار گفتگو کیا کرتے تھے۔ انہوں نے ان ہی باتوں میں پانچ سال گزار دیئے۔ نثار کھوڑو کو بھی دو ماہ بعد ایک سال ہو جائے گا۔ آخر یہ لوگ کیوں ناکام ہیں کہ غیر فعال سکولوں کو فعال نہیں کر سکے؟ اگر فعال نہیں کر سکتے یا اس میں ایسی سیاسی اور غیر سیاسی رکاوٹیں ہیں تو ان عمارتوں کو نیلام کر دیا جائے، اس کے بعد ایسے لوگ سامنے آئیں گے جو تعلیم کا کاروبار کریں گے۔ کم از کم بچوں کو تعلیم تو مل سکے گی۔ تعلیم کے شعبے میں دلچسپی رکھنے والے لوگ ہوں یا وہ لوگ، جن کا دل صورت حال پر دھڑکتا ہے ، کہتے ہیں کہ اصل معاملہ وزراءکی اپنے محکمہ میں دلچسپی کا ہے۔

بھارت میں ایک بار وزیراعظم نہرو کو کسی سیاسی معاملے پر مولانا آزاد سے مشورہ کرنا تھا۔ مولانا سے رابطہ کیا گیا تو مولانا نے اپنی وزارت میں جاری سرگرمی کا بتاتے ہوئے کہا کہ فی الحال ان کے پاس وقت نہیں ہے۔ جب وقت ملے گا تو اس مسئلے پر، جس کا ذکر نہرو کر رہے تھے، گفتگو کر لی جائے گی۔ اسے کہتے ہیں اپنے کام کو اہمیت دینا یا اپنی ترجیحات پر قائم رہنا۔ صوبہ سندھ میں پیر مظہر الحق ہوں یا نثار کھوڑو ، انہیں سیاست پر گفتگو کرنے کی اس لئے فرصت ہی فرصت ہے کہ وہ وزیر تعلیم کے عہدے سے مطمئن نہیں ہیں، بلکہ وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے خواہش مند ہیں۔ وزیر تعلیم اپنے محکمے میں اس دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتے،جس کا اظہار وہ سیاست کے شعبے میں کرتے ہیں۔ اسمبلی میں یہ کہنا کہ سکول غیر فعال ہیں، وزیر تعلیم کا خود اپنی کارکردگی پر انگلی اٹھانے کے برابر ہے۔ کسی بھی وزیر کے لئے ایسے اساتذہ کو فار غ کرنا کیوں ممکن نہیں ہے،جو اپنی ڈیوٹی سر انجام دینے سکول نہیں آتے۔ جہاں جہاں اساتذہ غیر حاضر ہوتے ہیں اور جہاں جہاں یہ مصدقہ اطلاعات موجود ہیں کہ محکمہ تعلیم کے سپروائزر حضرات اساتذہ سے ان کی تنخواہ کا 25 فیصد لے کے ان کی غیر حاضری کو حاضری میں تبدیل کر دیتے ہیں ، ان کے خلاف کارروائی میں کون رکاوٹ ہے؟

ایسے اساتذہ جو واقعی عملاً ناخواندہ ہیں، جنہیں دست خط کرنا نہیں آتے، انہیں فارغ کرنے میں کیا قباحت ہے؟ محکمہ تعلیم کے بدنام، بدعنوان، راشی اور اخلاق باختہ ان مٹھی بھر افراد نے پورے محکمہ تعلیم کی کارکردگی کو متاثر اور بدنام کیا ہوا ہے، انہیں فارغ کیوں نہیں کیا جاتا؟....ایک ملاقات کے دوران ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن محمد عالم تھہیم شاہ پور جہانیاں کے لڑکوں کے ایک سکول اور مانجھند میں لڑکیوں کے ایک سکول کی کارکردگی کا فخریہ طور پر ذکر کر رہے تھے ۔ ان سکولوں میں تعلیمی معیار کے بارے میں جو کچھ انہوں نے بتایا، وہ واقعی باعث فخر ہے۔ ایسا ہر ضلع اور ہر سکول میں کیوں نہیں ہو سکتا؟ محکمہ تعلیم میں ایسے افراد کی تقرریاں وقت اور حالات کا تقاضہ ہیں جو تعلیم اور اپنے کام سے مخلص ہوں۔ اساتذہ کی ان تمام سرگرمیوں پر سختی سے پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی ،جو سکولوں میں تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ سکولوں میں تعطیلات کے کیلنڈر پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور ماسوائے عیدین اور محرم الحرام ، باقی تمام تعطیلات منسوخ کی جائیں ۔ قائداعظم ؒ، علامہ اقبال ؒ، شہید بے نظیر بھٹو کے حوالے سے تعطیل کو سکولوں میں ایسی حاضریوں میں تبدیل کیا جائے کہ بچوں کو آگاہی دی جائے۔

محکمہ تعلیم نے ایک سکیم شروع کی تھی کہ لوگ سکول گود لے لیں اور انہیں چلائیں۔ تعلیم کے میدان میں دلچسپی رکھنے والے لوگ آگے آئے، انہوں نے سکول گود لئے، لیکن پھر وہ لوگ تائب ہو گئے۔ کہیں اساتذہ اور کہیں محکمہ تعلیم کے افسران، بلاوجہ رکاوٹون کا باعث بنتے رہے۔ اگر کسی کو سکول گود دینا بھی ہے تو اساتذہ کو بھی ان کے زیر انتظام دینے میں سکول کو کامیابی سے چلانے کا دخل ہے، وگر نہ یہ تو ایساہی ہے کہ بچہ کسی سوتیلی ماں کی گود میں زبردستی ڈال دیا جائے۔ یہ تو شکر ہے کہ ورلڈ بینک نے محکمہ تعلیم میں بھرتیوں پر پابندی لگائی اور اپنی شرائط پر یونین کونسل کی سطح پر اساتذہ کی بھرتی کے لئے ٹیسٹ کرائے۔ یونین کونسل کی بنیاد پر ایسے افراد کی بھرتی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، جو ان علاقوں میں رہائش رکھتے ہوں، جہاں سکولوں میں اساتذہ کی ضرورت ہے۔ ورلڈ بینک نے چونکہ قرضہ دیا ہے، اس لئے انہیں بھی فکر ہے کہ قرض دی گئی رقم کا استعمال بہتر ہو اور مقصد حاصل کیا جا سکے۔ ورلڈ بینک کو تو قرض کی فکر ہے، ہمارا تو مستقبل داﺅ پر لگا ہوا ہے۔ ہمارے وزراءکی عدم دلچسپی، افسران کی دیگر کاموں میں دلچسپی اور اساتذہ کی اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے علاوہ دیگر کاموں میں دلچسپی نے ہماری دو تین نسلوں کو تباہی سے دوچار ہی کر دیا ہے، کسی بھی بچے کی بنیاد اس کی عمر کے چار سے دس سال تک کے دوران رکھی جاسکتی ہے، بعد میں تو کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔

مزید : کالم