قائم مقام صدر کا استقبال!

قائم مقام صدر کا استقبال!
قائم مقام صدر کا استقبال!

  



صدر مملکت ممنون حسین دوست ملک چین کے دورے پر ہیں جو ان کا پہلا سرکاری دورہ ہے اس سے قبل وہ عمرہ کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب نجی طور پر گئے تھے۔آئین پاکستان کے مطابق صدر کی عدم موجودگی کے باعث چیئرمین سینیٹ قائم مقام صدر ہوتے ہیں۔ وہ بھی ملک سے باہر ہوں تو قومی اسمبلی کے سپیکر ازخود قائم مقام صدر بن جاتے ہیں،ان کو حلف بھی لینے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ یہ آئینی ضرورت ہے۔اسی طرح جب کسی صوبے کا گورنر باہر جائے تو اس صوبے کی اسمبلی کے سپیکر قائمقام گورنر بن جاتے ہیں۔یہ معمول کی بات ہے اس میں کوئی زیادہ عزت افزائی یا ترقی کا بھی مسئلہ نہیں ہوتا۔

قومی اسمبلی میں لاہور سے منتخب ہونے والے سردار ایاز صادق سپیکر ہیں جن کا تعلق گڑھی شاہو کے ایک مقامی معزز گھرانے سے ہے اور وہ دوسری مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، یہاں انہوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو ہرایا تھا، سپیکر محترم خود بھی بڑے سنجیدہ اور مہذب قسم کے کم گو راہنما ہیں اور وہ اپنے حلقے کے کارکنوں سے رابطہ بھی رکھتے ہیں، اسلام آباد میں قومی اسمبلی کا اجلاس نہ ہو رہا ہو تو وہ لاہور تشریف لے آتے ہیں اور کارکنوں کے لئے بھی وقت نکال لیتے ہیں۔

صدر ممنون حسین چین کے دورے پر روانہ ہوئے توسینیٹ کے چیئرمین ایران کے دورے پر تھے، اس لئے جونہی ان کا طیارہ فضا میں بلند ہوا،ایاز صادق آئینی طور پر قائم مقام صدر بن گئے۔خبر یہ تھی کہ آئینی ضرورت ہی کے تحت صدر مملکت کے سیکیورٹی انچارج حاضر ہوئے اور انہوں نے صدر کی مکمل سیکیورٹی والا سکواڈ بھی بلا لیا، تاہم سردار ایاز صادق نے تحمل کے ساتھ ان کو منع کیا اور کہا کہ ان کو مزید سیکیورٹی کی ضرورت نہیں، وہ ایک سادہ انسان ہیں اس لئے سپیکر کی حیثیت سے جو حفاظتی دیوار ان کے لئے ہے اتنی ہی کافی ہے۔یہ خبر شائع ہوئی تو اس کی تحسین بھی کی گئی، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے کارکنوں کو یہ ادا پسند نہیں آئی۔

ایاز صادق بدھ کو اسلام آباد سے لاہور آئے تو وہ قائم مقام صدر تھے۔ان کی پہلی عزت افزائی تو لاہور ایئرپورٹ پر ہوئی جب ان کے حلقہ انتخاب کے کارکنوں کی بہت بھاری تعداد ہوائی اڈے پہنچی اور ان کا پرجوش استقبال کیا، اس استقبال کی وجہ سے ایئرپورٹ کا نظام بھی درہم برہم ہوا اور کارکنوں کی ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس اور پولیس کے جوانوں سے جھڑپیں بھی ہو گئیں، الیکٹرانک میڈیا والے بھی کوریج کے لئے گئے ہوئے تھے۔یہ نظارہ بھی دکھا دیا گیا۔خیال تھا کہ کارکن معمول کے مطابق گئے ہوں گے اور جوش میں ذرا بدنظمی ہوگئی، لیکن جمعرات کو جب علامہ اقبال روڈ(گڑھی شاہو والی مرکزی سڑک) سے گزر ہوا تو تعجب ہوا اور احساس ہوا کہ ایئرپورٹ پر کارکنوں نے طے کرکے استقبال کیا تھا، کیونکہ ان کے حلقے میں بینروں کی بھرمار تھی جن میں قائم مقام صدر بننے پر مبارکباد دی گئی تھی اور بطور قائم مقام صدر لاہور آنے پر خوش آمدید بھی کہا گیا تھا۔معمول کے مطابق بینروں پر حامیوں کے نام بھی تحریر تھے۔ تعجب تو اسی پر ہو رہا تھا لیکن گورنر ہاﺅس کے سامنے سے گزر کر ایوان صنعت و تجارت کی طرف مڑے تو یہاں بھی ایئرپورٹ جیسا ماحول تھا۔گورنر ہاﺅس کے باہر بھی بینرز لگائے گئے تھے اور کارکنوں کی معقول تعداد باہر موجود تھی جس نے گورنر ہاﺅس کے اندر بھی جانا تھا،غالباً قائم مقام صدر گورنر پنجاب سے ملنے آ رہے تھے۔کارکنوں کو یہ موقع بھی ملا اور انہوں نے اپنی حمائت کا یقین دلانے کے لئے یہاں بھی بینرز اور استقبالیہ کا انتظام کردیا۔

جیسا کہ پہلے گزارش کی یہ ایک آئینی ضرورت ہے کہ صدر اور گورنر کا عہدہ خالی نہیں رہتا۔ صدر مملکت جب بھی بیرون ملک دورے یا چھٹی پر جائیں گے توسینیٹ کے چیئرمین قائم مقام صدر بن جاتے ہیں، وہ بھی نہ ہوں تو معزز سپیکر ازخود قائم مقام صدر بن جائیں گے۔اب یہاں تو مسئلہ ہی دوسرا ہو گیا اور محترم ایاز صادق کے حلقہ بگوش حضرات نے ان کو صدر مان لیا، یقینا یہ ان کے کارکنوں کا جوش اور ولولہ ہے کہ وہ خوشی سے پھولے نہیں سمائے اور عزت افزائی کے لئے نہ صرف ایئرپورٹ پر بدنظمی پیدا کی، بلکہ پورا پورا استقبال بھی کیا اور رائے دہندگان کو باور کرا دیا” میں ہوں ناں“....

سردار ایاز صادق کا اس قدر استقبال دیکھ لینے کے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال سے بڑی ہمدردی محسوس ہوئی کہ وہ دوسری بار بھاری اکثریت سے منتخب ہو کر سپیکر تو بن گئے لیکن ان کے چاہنے والوں نے ان (رانا) کے قائم مقام گورنر بننے پر ایسا استقبال نہ کیا اور نہ ہی خوشی منائی، حالانکہ وہ اکثر یہ فرائض انجام دیتے ہیں، جب سے چودھری غلام سرور گورنر بنے ہیں۔ رانا اقبال کو زیادہ مواقع دستیاب ہوئے ہیں کہ چودھری صاحب عموماً بیرونی دوروں پر جاتے رہتے ہیں۔یوں بھی ان کو سکاٹ لینڈ(برطانیہ) جانا ہوتا ہے کہ ان کے اہل خانہ وہاں ہیں، انہوں نے برطانوی شہریت چھوڑی ہے، آنا جانا نہیں چھوڑا۔ یہ ہمارے رانا اقبال یوں بھی ٹھیٹھ دیہاتی ہیں، ایل ایل بی اور وکیل ہونے کے باوجود اتنے سمارٹ نہیں ہوئے، وہ جہاں بھی جاتے ہیں خود کو نمایاں کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور گورنر ہاﺅس میں بطور قائم مقام گورنر دفتر میں بھی الگ میز کرسی پر بیٹھتے ہیں۔

مزید : کالم