دیکھنے اور دکھانے والے

دیکھنے اور دکھانے والے
دیکھنے اور دکھانے والے

  



کل جب مَیں اپنے دوست ایم آر شاہد اور بچوں کے مقبول رسالے”پھول“ کے مدیر شعیب مرزا کے ساتھ شاد باغ میں قائم آنکھوں کا ہسپتال،”محمدی کیئر سنٹر“ دیکھنے کے لئے مصری شاہ سے گزرا تو مجھے احمد ندیم قاسمی کا افسانہ ”سفارش“ یاد آگیا۔ اس کا سبب کیا تھا؟ یہ جاننے کے لئے اس افسانے کا خلاصہ پڑھ لیجئے۔

 ”فیکا کوچوان مجھے اکثر تانگے پر لاتا، لے جاتا تھا، لیکن ایک دن ا س نے تانگا نہیں جوڑا تومَیں بہت پریشان ہوا۔ فیکے سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس کے باپ صدیقے نے مصری شاہ سے گزرتے ہوئے ایک فٹ پاتھیے حکیم سے سرمہ لے کر آنکھوں میں لگا لیا، جس سے آنکھوں کی بینائی جاتی رہی، بہت چارہ کیا ،مگر آنکھیں ٹھیک نہ ہوئیں۔ صدیقے کو علاج کے لئے میو ہسپتال میں داخل کیا گیا، مگر ڈاکٹر اس پر توجہ نہیں دیتے تھے، چنانچہ فیکے نے مجھے سفارش کے لئے کہا، مَیں نے ڈاکٹر عبدالجبار کا نام لیتے ہوئے کہا کہ انہیں میرا سلام کہنا، وہ تمہارے باپ کا خیال رکھیں گے۔

”صبح فیکا دوبارہ ملاتو اس نے بتایا کہ ڈاکٹر جبار صاحب نہیں مل سکے، بابا صدیقا ساری رات دسمبر کی سردی میں برآمدے میں پڑا رہا۔ مَیں نے کہاکہ جب اس کی بینائی ختم ہوچکی ہے تو اسے کیوں گھسیٹتے پھرتے ہو؟ لیکن فیکے نے موہوم سی امید ظاہر کرتے ہوئے التجا کی کہ آپ میرے ساتھ چلیں، مگر مَیں نے اسے اپنا وزیٹنگ کارڈ تھمادیا اور اسے کہاکہ یہ دیکھ کر وہ تمہارے بابا کو وارڈ میں داخل کر لیں گے، مَیں انہیں فون بھی کردوں گا۔ دوچار دن کے بعد فیکا پھر ملا تو اس نے بتایا کہ اس کے باپ کو وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے، مَیں نے یہ سنتے ہی جھوٹ بولا کہ مَیں نے ڈاکٹر صاحب کو فون کر دیا تھا۔ اگلی صبح فیکا پھر آن موجود ہوا اور بولا کہ اس کے بابا کو ہسپتال والوں نے کوٹ لکھپت کے ایک ہسپتال میں بھیج دیا ہے۔ آنے جانے میں بہت دقت ہوتی ہے، آپ ایک بار پھر ڈاکٹر صاحب کو فون کردیں۔مَیں نے سوچا کہ ذرا سا وقت نکال کر ڈاکٹر صاحب کو فون کر دوں گا، لیکن اپنی مصروفیت کے باعث میں پھر فون کرنا بھول گیا۔

”پانچ چھ دن کے بعد مجھے فیکا پھر ملا، مَیں ابھی کوئی بہانہ سوچ ہی رہا تھا کہ فیکا بولا: بابو جی! آپ میرے محسن ہیں، آپ کے ایک فون سے بابا جی کو دوبارہ میو ہسپتال میں داخل کر لیا گیاہے۔ اب اسے بستر بھی مل گیا ہے اور ڈاکٹر صاحب مکمل توجہ دے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے بابا کا آپریشن بھی کردیا ہے، جمعے کے دن پٹی کھل جائے گی۔ جمعہ کی شام فیکا روتا دھوتا آیا کہ ایک آنکھ کی بینائی پہلے ہی ختم ہوگئی تھی، اب دوسری پر بھی اثر پڑ گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ ایک آنکھ کا زخم ٹھیک ہوتو دوسرا آپریشن ہوگا۔ مَیں نے پھر تسلی دی، اس کو ساتھ لے کر ایک دکان سے فون کیا، لیکن ڈاکٹر عبدالجبار سے بات نہ ہوسکی، مَیں نے وعدہ کیا کہ کل مَیں ڈاکٹر صاحب سے خود ملوں گا ،مگر ایسا نہ ہوسکا۔یوں پندرہ بیس دن گزر گئے، ایک دن اچانک دروازے پر دستک ہوئی، نوکر نے بتایا کہ فیکا آیا ہے، اب میری سوئی ہوئی انسانیت جاگی کہ ایک غریب کو مسلسل دھوکا دیتا چلا آرہا ہوں۔ مَیں اسے بتا دینا چاہتاتھا کہ مَیں نے تمہارے بابا کے لئے ڈاکٹر صاحب سے ایک بار بھی بات نہیں کی۔ فیکا سامنے آیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مَیں نے معذرت کرنے کی کوشش کی ، لیکن فیکے نے میری بات کاٹ دی، وہ تشکرآمیز لہجے میں بولا کہ بابوجی: میں کِس زبان سے آپ کا شکریہ ادا کروں؟ بابا صدیقا ٹھیک ہوگیا ہے۔ اس کی دونوں آنکھوں کی بینائی ٹھیک ہوگئی ہے، مَیں عمر بھر کے لئے آپ کا غلام ہو گیا ہوں“۔

وہی مصری شاہ جہاں کل تک بے بصیرت حکیم، لوگوں کی بصارت سے کھیل رہے تھے، آج وہ بے نور آنکھوں کو مفت نور تقسیم کرنے والے پرائیویٹ ہسپتال محمدی آئی کیئر سنٹر کا راستہ بن گیا ہے۔ مَیں شاد باغ کے گول چکر کی طرف جاتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ کل تک انسان کس طرح اپنی سب سے قیمتی شے، یعنی بینائی سے پلک جھپکتے ہی محروم ہوجاتا تھا اور پھر علاج کے لئے اسے کتنے پاپڑ بیلنا پڑتے تھے اور آج شفیق جنجوعہ جیسے صاحبِ دل شخص نے بغیر کسی سفارش کے ، غریبوں اور متوسط طبقے کے لوگوں کی بصارت کو بچانے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔ محمدی آئی کیئر سنٹر چلانے کے لئے انہوں نے محمدی میڈیکل ٹرسٹ بنا رکھا ہے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ آنکھوں کے علاج کے لئے بنائے جانے والے اس ٹرسٹ کے لئے وہ کسی سرکاری ادارے یا غیر ملکی منصوبے سے مدد نہیں لیتے۔ اس کے سارے وسائل آپ ہی آپ پیدا ہورہے ہیں۔

ہسپتال کے استقبالیہ پر ایک چھوٹا سا بکس پڑا ہوا ہے، جس کا دل چاہے۔ اس میں اپنی استطاعت کے مطابق کچھ نہ کچھ دال دیتا ہے، انہوں نے آج سے تیس سال پہلے ایک چھوٹی سی کرائے کی دکان میں جزوقتی ڈسپنسری بنا کر لوگوں کی آنکھوں کا علاج شروع کیا تھا ، آج یہ ڈسپنسری ایک مکمل ہسپتال بن چکا ہے، جس میں آنکھوں کے علاج کے لئے تمام ضروری مشینری بھی موجود ہے اور نہایت مستعد اور لائق عملہ بھی، جو لوگوں کی عزتِ نفس مجروح کئے بغیر انہیں بصارت لوٹانے میں مصروف ہے۔ یہاں صبح آٹھ بجے سے دوپہر ایک بجے تک اور پھر شام پانچ بجے سے رات دس بجے تک بغیر کسی وقفے کے کام ہوتا ہے۔ آنکھوں کے تمام امراض کی تشخیص اور علاج کیا جاتا ہے۔ عینک یا لینز لگانے کے لئے نظر کا معائنہ کیا جاتا ہے، امراضِ چشم میں مبتلا نوزائیدہ بچوں کے لئے الگ یونٹ ہے، آنکھوں کے معمولی آپریشن کئے جاتے ہیں، لیزر کے ذریعے، سفید موتیے کا آپریشن کیا جاتا ہے۔

اس ہسپتال نے سینئر آئی سرجنز کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں، ڈاکٹر رضوان سعید اور ڈاکٹر محمد اشہل پال یہاں مستقل طور پر کام کرتے ہیں۔ اس ہسپتال کا وزٹ کرتے ہوئے مَیں سوچ رہا تھا کہ ہم بعض اوقات خود کو مایوسیوں کے گڑھے میں گرتے ہوئے محسوس کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ہم ترقی کے بجائے تنزلی کی جانب رواں ہیں، لیکن ایسے اداروں کی موجودگی میں ہمارا یہ خیال غلط ثابت ہوجاتا ہے۔ اس ہسپتال میں داخل ہونے والے کسی فیکے کو اپنے بوڑھے باپ کو داخل کرانے کے لئے کسی سے سفارش کی ضرورت نہیں۔ یہا ں آنے والا ہر آدمی آپ اپنی سفارش ہے۔ چیئرمین محمد شفیق جنجوعہ کے فرزند ارجمند ندیم جنجوعہ نے مجھے بتایا کہ ہم یہاں سے صحت مند ہوکر جانے والوں سے کہتے ہیں کہ اگر آپ اپنے آس پاس، آنکھوں کے مرض میں مبتلا کسی شخص کو دیکھتے ہیں تو اسے ہماری اس علاج گاہ میں بھیجئے، گویا وہ چراغ سے چراغ جلانے کے آرزو مند ہیں۔

اس وزٹ کا حیرت ناک اور خوش گوار پہلو یہ ہے کہ جب مَیں ہسپتال کے استقبالیہ پر پہنچا تو مجھے بطور مریض، خوش آمدید کہا گیا۔ سب سے پہلے میرے نام کی پرچی بنائی ،اس کے بعد مجھے کئی مراحل سے گزارا گیا ،آخر میں مجھے عینک کا نمبر دے دیا گیا، ندیم جنجودعہ صاحب نے میری شوگر بھی چیک کرائی، صد شکر کہ شکر میرے خون سے برآمد نہیں ہوئی۔

آخر میں ایک غزل کے چند اشعار ملاحظہ کیجئے، جن میں بصارت اور بصیرت تلاش کی جاسکتی ہے:

ہم اپنے آپ ہی کو دکھائی نہیں دیئے

اس واسطے کسی کو دکھائی نہیں دئیے

کچلے ہوﺅں کو اور کچلتی چلی گئی

 ہم لوگ زندگی کو دکھائی نہیں دئیے

ہم نے اٹھا رکھا ہے جنہیں اپنے دوش پر

ہم لوگ بس اُنہی کو دکھائی نہیں دئیے

بارش میں بیھگتے ہوئے رونے کا فائدہ

آنسو مرے کسی کو دکھائی نہیں دئیے

کتنے جہان اور ہیں اس کائنات میں

اچھا ہے آدمی کو دکھائی نہیں دئیے

کچھ منزلوں کی کھوج میں نکلا نہیں کوئی

کچھ راستے کسی کو دکھائی نہیں دئیے

 ناصر بشیر وہ مرے حصے میں آگئے

کشکول جو سخی کو دکھائی نہیں دئیے

مزید : کالم


loading...