خطرات اور خدشات کا حکمت و دانائی سے مقابلہ کیا جائے

خطرات اور خدشات کا حکمت و دانائی سے مقابلہ کیا جائے

  



وزارت داخلہ نے اسلام آباد کو انتہائی خطرناک شہر قرار دے دیا ہے۔ قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ برائے امور داخلہ میں ملک میں دہشت گردوں کی موجودگی کے حوالے سے رپورٹ پیش کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد انتہائی خطرناک شہر ہے۔ وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں القاعدہ، طالبان اور لشکر جھنگو ی کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے،جبکہ پنجاب اور سندھ کو بھی ان دہشت گرد تنظیموں سے خطرات لاحق ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ لوگ اسلام آباد کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔ پاکستان میں مغربی اور مشرقی سرحدوں سے اسلحہ اور دہشت گرد داخل ہو رہے ہیں، جبکہ سرحد پار بھی دہشت گرد متحرک ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم از کم بلوچستان اور آزاد کشمیر میں بھارت دہشت گردی کروا رہا ہے۔ کراچی اورسندھ میں طالبان کے علاوہ مختلف قوم پرست جماعتیں بھی دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ بلوچستان میں قوم پرستوں کے علاوہ لشکر جھنگوی بھی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ پنجاب میں بھی کچھ کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ گلگت بلتستان میں بھی لشکرجھنگوی کے سیل موجود ہیں۔ کمیٹی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے نبیل گبول نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورت حال خراب ہے، اس لئے ایمرجنسی نافذ کی جائے۔ صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے ریڈ الرٹ کیا جائے۔ حکومت مذاکرات کی بات کرتی ہے، جبکہ طالبان انسانو ں کا قتل عام کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے علاوہ جے یو آئی نے بھی ایمرجنسی کے مخالفت کی۔

مذاکرات کے دوران دہشت گردی کے واقعات کے بعد حکومت نے مذاکرات معطل کر دیئے ہیں اور طالبان سے کہا ہے کہ ان کی طرف سے پہلے دہشت گردی کی کارروائیاں ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے، جبکہ طالبان کی طرف سے جنگ بندی کے لئے یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی طرف سے ان کے ساتھیوں کی گرفتاریاں بند کی جائیں، بوری بند نعشیں پھینکنا اور پولیس مقابلے میں مارنا بند کیا جائے۔ ادھر وزیراعظم کی رہائش کے قریب سے دھماکہ خیز مواد کے ساتھ ایک دہشت گرد گرفتار کیا گیا ہے۔

طالبان کی طرف سے جنگ بندی کے لئے جو شرائط لگائی گئی ہیں ، وہ دراصل کوئی خاص شرائط نہیں ۔ حکومت پاکستان کی اور پاکستان کے تمام امن پسند شہریوں کی یہ شدید خواہش ہے کہ ملک میں امن قائم ہو۔ نہ حکومت کو کسی پر حملہ کرنے کی ضرورت رہے اور نہ کوئی دہشت گردی اور جرائم کی وارداتوں میں ملوث ہو، لیکن اگرطالبان کی طرف سے ایف سی اہلکاروں اور پولیس والوں کو شہید کر کے ان کی ذمہ داری قبول کی جاتی ہے، تو پھر حکومت کی طرف سے بھی ان کے ساتھ سخت ہاتھوں سے نمٹاجائے گا، لیکن مذاکرات کے دوران ہونے والے ان بڑے واقعات کے پیچھے طالبان کی صفوں میں چھپے ہوئے ان لوگوں کا ہاتھ ہونے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہ گیا، جن لوگوں کو غیر ملکی امداد ملتی ہے اور جو پاکستان کے دشمنوں سے ملے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں مذاکرات کے آغاز ہی میں طالبان سے کہہ دیاگیا تھا کہ وہ اپنی صفوں میں چھپے ہوئے ان لوگوں کو پہچانیں۔

اس بات کا امکان ماضی کے طویل تجربات کی بناءپر پہلے ہی موجود تھا۔ اب پاکستانی ایف سی کے قیدیوں کو ہلاک کر کے اس کی ذمہ داری طالبان کی طرف سے فی الفور قبول کرنے اور اس کے پیچھے محرک ہاتھوں کو پہچاننے میں غلطی کی گئی ہے۔ ان دونوں واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے کا صاف مطلب اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ ان کے کم از کم بعض گروہوں کی طرف سے مذاکرات کو مذاق بنایا جا رہا ہے اور اپنی ہٹ دھرمی اور انتشار پسندی پر قائم رہنے کا رویہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومتی سطح پر بھی اس شکایت کا پوری طرح جائزہ لیا جانا چاہئے کہ کیا مذاکرات کے دوران کسی جگہ کسی بھی طرح قیدی طالبان کو ہلاک کر کے ان کی نعشیں طالبان میں اشتعال پھیلانے کے لئے پھینکی گئی ہیں؟ طالبان کے لئے یہ سوچنے کی بات ہے کہ حکومت اور حکومتی اداروں کی ذمہ داری پورے ملک میں امن وامان قائم کرنا اور ہر طرح کی قانون شکنی کرنے والوں پر ہاتھ ڈالنا ہے۔ کسی کو قانون شکنی پر گرفتار کرنے کا عمل اس دوران رک نہیں سکتا۔ خاص طور پر ایسے لوگوں کو کسی وقت اور کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جو دہشت گرد کارروائیوں سے ملک کی بربادی کے درپے ہوں۔ بہتر یہی ہے کہ حکومت کی طرف سے طالبان کو یہ بتا دیا جائے کہ مذاکرات کے دوران قید طالبان سے کسی کو ہلاک نہیں کیا جائے گا اور دوسری طرف سے کارروائی کے بغیر کسی طرح کا آپریشن نہیں کیا جائے گا، لیکن طالبان کو مذاکرات کے دوران اپنی ہر طرح کی دہشت گرد کارروائیاں روکنے کی یقین دہانی ضرور کرانی چاہئے، لیکن حکومت کو اپنے طور پر بھی قیدی ایف سی اہلکاروں کی شہادت کے ذمہ داروں کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ کا سراغ لگانا چاہئے اور پھر اس گروپ کو یا اس کے لیڈروں کو طالبان سے الگ کرنا چاہئے۔

ہمارے دارالحکومت کو دہشت گردی کے امکانات کے پیش نظر انتہائی خطرناک قرار دیا جانا ایک غیر معمولی بات ہے۔ وزارت داخلہ کی طرف سے مختلف دہشت گرد تنظیموں کی مختلف علاقوں میں موجودگی کی جو رپورٹ پیش کی گئی ہے، اس کے بعد حکومتی اداروں کی طرف سے ان کے خلاف کارروائی کرنا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ ایسی رپورٹ میں اگر تمام ضروری تفصیلات بھی ہوں، یہ بہت عمومی نوعیت کی نہ ہوں، اسلحہ جمع کرنے اور کارروائیاں کرنے والوں کی خفیہ اداروں کی طرف سے ٹھیک ٹھیک نشاندہی بھی کر دی جائے تو ان پر قانون نافذ کرنے والے ادارے باآسانی ہاتھ ڈال سکتے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کے پکڑے جانے کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی جلد نمٹا کر انہیں سزائیں دینے کے کام کو بھی موثر بنایا جانا ضروری ہے۔ تاہم مختلف فقہی گروہوں کو اپنے مذہبی انتہاءپسندی کے رجحانات کی وجہ سے بلا سبب دہشت گردوں میں شامل کرنے سے اجتناب برتنا ضروری ہے۔ حالات اس سلسلے میں بہت زیادہ محتاط ہونے اور صرف دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے یا اپنے پاس دہشت گردی کے آلات اور ہتھیار رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔

افسروں کے تقرر میں سیاسی مداخلت اور سفارش کے کلچر کا خاتمہ

سول سروس آف پاکستان (تناسب و کیڈر) رولز 2014ءکے اجراءکے لئے جو ایس آر او اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے جاری کیا ہے اس کے تحت جو نئے قوانین وضع کئے گئے ہیں اُن کے تحت یہ بنیادی تبدیلی آئی ہے کہ اب صدر پاکستان صرف فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی سفارشات پر ہی تعیناتی کریں گے۔ اس سے قبل صدر پاکستان کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی سفارشات کے بغیر بھی تعیناتی کا اختیار حاصل تھا۔ اس ایس آر او کے اجراءسے ہر کسی کو فائدہ ہو گا۔ نئے رولز کے تحت وفاقی سیکرٹریٹ میں تمام پوسٹیں مختلف سروسز گروپس بشمول پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، سیکرٹریٹ گروپ وغیرہ کے درمیان ایک مخصوص تناسب سے تقسیم کی گئی ہیں۔ اس کے دو نمایاں فائدے ہیں اس طرح تمام گروپس کی تیز ترقی ممکن ہے، کیونکہ اب ان کی ویکنسی پوزیشن کا تعین کرتے ہوئے محکمانہ پوسٹوں کے ساتھ وفاقی سیکرٹریٹ میں موجود آسامیوں کو بھی مدِنظر رکھا جائے گا۔ دیگر سروسز کے افسران کی سیکرٹریٹ میں موجود کوٹے کے حوالے سے تعیناتی کو ان قوانین کی قانونی پوزیشن کا فائدہ بھی پہنچے گا۔ گریڈ20اور21میں ترقی کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ جائنٹ سیکرٹری کی 65فیصد آسامیاں سیکرٹریٹ گروپ اور دیگر سروسز کے افسران کے لئے مختص کی گئی ہیں۔ اسی طرح سینئر جائنٹ سیکرٹری کی تمام آسامیاں سیکرٹریٹ گروپ اور دیگر سروسز کے افسروں کے لئے66 اور 33فیصد فارمولے کے تحت مختص کی گئی ہیں۔

ان قوانین کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار صوبائی سول سروس کے افسروں کو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس میں شمولیت کا حق دیا گیا ہے۔ مختلف آسامیوں کی سروسز میں تقسیم کے حوالے سے سپریم کورٹ میں صوبائی سول سروسز اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے درمیان قانونی لڑائی جاری رہی ہے، لیکن اس ایس آراو کے اجرا سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ اب اس لڑائی کا خاتمہ ہو گا، کیونکہ صوبائی سول سروس کے افسران کا ہمیشہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ ان کی سروس کے افسران کو 1954ءکے اصل کیڈر رولز کے مطابق فیڈرل سروس میں شامل کیا جائے۔ کیڈر رولز 1954ءکے حقیقی مسودے کے مطابق صرف20فیصد آسامیوں پر ہی شمولیت اور انجذاب ممکن تھا، لیکن موجودہ ایس آر او کے تحت اب گریڈ19میں صوبائی سول سروس کے افسران کا کوٹہ 30فیصد رکھا گیا ہے۔ مزید خوش آئندہ بات یہ ہے کہ یہ افسران فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مقابلے کا امتحان دے کر اب پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس میں میرٹ پر شامل ہو سکیں گے۔

ہماری دانست میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا یہ ایس آر او موجودہ حکومت کا ایک اہم اور ضروری قدم ہے، جس سے تمام وفاقی و صوبائی سروسز کے افسران کو فائدہ پہنچے گا۔ اس طرح سیاسی مداخلت و سفارش کے منفی کلچر کا خاتمہ ہو گا، اب لائق اور محنتی افسران میرٹ پر مبنی نظام کے ذریعے فیڈرل سروس میں شامل ہو سکیں گے۔ اس طرح سول سروس میں صحت مند مقابلے کی فضا پروان چڑھے گی اور صوبائی سول سروس میں موجود اضطراب ہمیشہ کے لئے ختم ہو گا، کیونکہ اب وہ مقابلے کا امتحان دے کر پاکستان ایڈمنسٹریٹو میں شامل ہونے کے دیرینہ خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں گے۔

مزید : اداریہ


loading...