حکومت نے ایڈ نہیں ٹریڈ کے دیرینہ نعرے کو سچ کردکھایا : خرم دستگیر

حکومت نے ایڈ نہیں ٹریڈ کے دیرینہ نعرے کو سچ کردکھایا : خرم دستگیر

  



کراچی (اکنامک رپورٹر)وفاقی وزیر تجارت و صنعت انجینئر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے ایڈ نہیں ٹریڈ کے دیرینہ نعرے کو سچ کردکھایا ہے۔ پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس ملنا اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے ۔بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار کرنے سے قبل ملکی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا ۔ایف پی اے اور پی ٹی اے کے معاہدے ہمارے مسائل کا حل نہیں ہیں ۔دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں میں کمرشل قونصل تعینات کیے جائیں گے ۔ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا نیا چیئرمین جلد تعینات کیا جائے گا جس کا اعلان جلد وزیر اعظم کریں گے ۔ایس آر او اور نئی ٹیکس پالیسیوں میں تبدیلی کا اعلان جون میں کیا جائے گا ۔وہ جمعرات کو وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت (ایف پی سی سی آئی) کے ہیڈ آفس فیڈریشن ہاو¿س کے دورے کے موقع پر تاجر و صنعتکاروں سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کررہے تھے ۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر ذکریا عثمان ،پاک انڈو چیمبر آف کامرس کے صدر ایس ایم منیر سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا ۔وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ گزشتہ 10سالوں سے ایڈ نہیں ٹریڈ کا نعرہ لگایاجارہا تھا لیکن اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی ۔موجودہ حکومت نے سب سے پہلے ترجیحی بنیادوں پر اس حوالے سے اپنی کوششیں تیز کیں اور پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس کا درجہ دلوایا ۔انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کو یومیہ بنیادوں پر مانیٹر کرنے کے لیے اقدامات کو حتمی شکل دی جاچکی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ آئٹمز کوبرآمد کیا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت سے متوازی بنیاد پر غیر امتیازی رسائی کے اصولوںکے تحت تجارت کو فروغ دیا جائے گا اور جب تک اپنے ملکی مفادات کا درست انداز میں تحفظ نہیں کریں گے اس وقت تک بات آگے نہیں بڑھے گی ۔انہوں نے کہا کہ آزاد تجارت کے معاہدوں سے معاشی مسائل حل نہیں ہوسکتے ۔کیونکہ ہر ملک کے ساتھ آزاد تجارت کا معاہدہ کرنا درست نہیں ہے ۔تاجروں،صنعتکاروں اور عوام کو حکومت کے شانہ بشانہ درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا ۔اسی طرح معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار ماہ سے ٹریڈ آرگنائزیشنز زراعت ،فارماسیوٹیکل سمیت دیگرشعبوں سے مشاورت کی جارہی ہے ۔جمہوریت کا مطلب یہ نہیں کہ کچھ لوگ وزیر بن جائیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ تمام فیصلوں میں عوام کی رائے کو مقدم تصور کیا جائے ۔ایک سوال کے جواب میںانہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے ساتھ مل کر ٹیکس وصولی کا ایک نیا میکنزم وضع کررہے ہیں تاکہ ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنایا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کامیاب معاشی سفارت کاری کی ہے ،جس کے نتیجے میں آئندہ دس سال کے لیے معیاری تجارتی مراعات حاصل ہوئی ہیں ،جن سے مکمل استفادہ حاصل کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک میں کمرشل قونصلیٹ کا تقرر شفاف بنیادوں پر کیا جائے گا تاکہ وہ ملک کی تجارت کو فروغ دینے کے حوالے سے اپنا کردار احسن طریقے سے انجام دے سکے ۔انہوں نے کہا کہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان نے ٹی پی اوز ماڈل کی اسٹڈی کی بنیاد پر ری اسٹرکچرنگ کی جائے گی ۔ایس ایم منیر نے کہا کہ سیلز ٹیکس اور کسٹمز ری فنڈز کو جلد از جلد چھوٹے تاجروں کو ادا کیا جائے تاکہ ملک میں تجارت کی حوصلہ افزائی ہوسکے ۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ تجارت کو فروغ دیا جائے گا تو اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت کو بیوروکریسی کے چنگل سے مکمل آزادی حاصل کرنا ہوگی ۔ایف پی سی سی آئی کے صدر ذکریا عثمان نے کہا کہ صنعت و تجارت کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے ۔کیونکہ معیشت کے بغیر نیشنل سکیورٹی کے درپیش مسائل حل کرنا ناممکن ہے ۔

مزید : کامرس


loading...