حکومت ٹیکسٹائل انڈسٹری پرسیلز ٹیکس کی شرح بڑھا رہی ہے: چیئرمین اپٹما

حکومت ٹیکسٹائل انڈسٹری پرسیلز ٹیکس کی شرح بڑھا رہی ہے: چیئرمین اپٹما

کراچی (اکنامک رپورٹر)چیئرمین آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن یاسین صدیق نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح بڑھانے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جس کے تحت سیلزٹیکس کو مرحلہ وار دو فیصد سے بڑھا کر سترہ فیصد کیا جائے گا،ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیہ میں کہا گیا کہ پہلے مرحلے میں سیلز ٹیکس کی شرح دو سے پانچ فیصد اور آئندہ تین سال میں سترہ فیصد کرنے سے ٹیکسٹائل انڈسٹری بری طرح متاثر ہوگی۔ یاسین صدیق نے کہا کہ سیلز ٹیکس کی شرح بڑھانے سے تاجر یورپی یونین کی طرف سے فراہم کی جانیوالی جی ایس اپی پلس کی سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے،

 سیلز ٹیکس کی شرح دو سے پانچ فیصد کرنے سے تاجروں کے 74 ارب روپے ایف بی آر میں پھنس جائیں گے جب کہ کمرشل بنکس قرضے بھی فراہم کرنے سے انکار کردیں گے۔ یاسین صدیق نے کہا کہ ایف بی آر کا ری فنڈ سسٹم بری طرح ناکام ہوچکا ہے، اگر حکومت نے سیلز ٹیکس کی شرح بڑھائی تو تاجروں کے لیے ری فنڈ حاصل کرنامشکل ہوجائے گا اور ایف بی آر میں کرپشن عروج پر پہنچ جائے گی۔ یاسین صدیق نے مطالبہ کیا ایف بی آر ریفنڈ سسٹم کو بہتر بنائے اور ٹیکسوں میں اضافے کی بجائے ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھائے۔ انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے کا نوٹس لیں اور کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کریں۔

مزید : کامرس