درپیش چیلینجز سے نمٹنے کےلئے قوم کو متحد کرنا وقت کی ضرورت ہے،ایس ایم ظفر

درپیش چیلینجز سے نمٹنے کےلئے قوم کو متحد کرنا وقت کی ضرورت ہے،ایس ایم ظفر

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر)معروف قانون دان سینیٹر ایس ایم ظفر نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش سنگین مسائل اور چیلینجز سے نمٹنے کے لئے قوم کو متحد کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی پاکستان سٹڈی سنٹر کے زیر اہتمام "پاکستان کو درپیش سنگین چیلنجز"کے موضوع پر منعقدہ خصوصی سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پرسابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، جسٹس ریٹائرڈمیاں محبوب احمد،جنرل ریٹائرڈنصیر اختر ، ائیر مارشل ریٹائرڈانورمحمود ، ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینیٹیئز پروفیسر ڈاکٹر مسرت عابد، ایڈوائزر ٹو وائس چانسلر کرنل ریٹائرڈ اکرام اللہ خان، فیکلٹی ممبران اور طلباءو طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر ایس ایم ظفر نے کہا کہ ہمارے معاشرے سے سچ غائب ہو چکا ہے اور قومی یکجہتی کو سنگین مسائل درپیش ہیں اور ہمیں بطور ایک قوم اپنی شناخت پر فخر کرنا چاہیے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر مسرت عابدنے کہا کہ قائداعظم پاکستان کو ایک مضبوط اور خوشحال ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے ۔

اور اس کے لئے افسر شاہی، فوج اور سیاستدانوں کا کردار کا تعین بھی کیا۔ ان اصولوں سے روگردانی کی وجہ سے پاکستان موجودہ حالات کا سامنا کر ر ہا ہے۔جسٹس ریٹائرڈمیاں محبوب احمدنے اس موقع پر کہا کہ ریاستی عملداری کی کمزوری پاکستان کو درپیش سب سے سنگین مسئلہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ قومی وحدت کے جذبے کافروغ ہی پاکستان کو مسائل کی دلدل سے نکا ل سکتا ہے۔ جنرل ریٹائرڈنصیر اختر نے بدعنوانی کو پاکستان کا اہم مسئلہ قرار دیا اور پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشمیر اور پانی کے مسائل کو امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا اور پاکستان کی اندرونی سلامتی کو درپیش اہم مسئلہ قرار دیا۔ ، ائیر مارشل ریٹائرڈانورمحمود نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کرنل (ر) اکرام اﷲنے جامع حکمت عملی کی غیر موجودگی کو مسائل کی اہم وجہ قرار دیا۔ مہمان خصوصی سینیٹر ایس ایم ظفر نے صدارتی خطبہ میں قومی شناخت کے بحران کو پاکستان کا سنگین ترین مسئلہ قرار دیا اور قومی وحدت اور ہم آہنگی کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ مزید برآں انہوں نے معاشرے میں حق اور سچائی کی قلت کو بھی مسائل کی جڑ قرار دیا۔سیمینار میں مختلف شعبہ جات کے اساتذہ اور طلباءنے بڑی تعدداد میں حصہ لیا اور سوال و جواب کی نشست کے ساتھ سیمینار کا اختتام ہوا۔

مزید : میٹروپولیٹن 4