تجزیہ :چودھری خادم حسین ہٹ دھرمی سے بالآخر ٹارگیٹڈ آپریشن شروع، نیٹو اور امریکہ کا مکمل تعاون حاصل ہو گا

تجزیہ :چودھری خادم حسین ہٹ دھرمی سے بالآخر ٹارگیٹڈ آپریشن شروع، نیٹو اور ...

  



آخر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا، کالعدم تحریک طالبان کی طرف سے وزیر اعظم کی مذاکرات والی خواہش کا ویسا احترام نہ کیا گیا جس کی ضرورت تھی، وہ ایک طرف بات چیت میں شامل تھے تو دوسری طرف اپنی شدت پسندانہ کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے تھے، حتیٰ کہ ٹی ٹی پی کی مذاکراتی ٹیم اور اس کے ترجمان نے خود کو فاتح کی مسند پر بٹھا لیا اور میڈیا میں ہر روز رونمائی کو اپنا فرض جان کر دعوے کرنے لگے۔ اس سلسلے میں حکومت کی شکایت اور عسکری قیادت کے جذبات کا احترام بھی نہ کیا گیا۔ کراچی میں سپاہیوں کے قتل اور ایف سی کے اہلکاروں کی شہادت کو بھی تیسری قوت کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی۔اس پر حکومتی کمیٹی نے ہاتھ کھینچا تو اسے بھی انا کا مسئلہ بنانے کی کوشش کی۔ مولانا سمیع الحق، ان کے ترجمان مولانا سید یوسف شاہ اور جماعت اسلامی کے محترم ابراہیم نے اگر مگر کر کے ملبہ حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی۔ دوسری طرف کالعدم تحریک طالبان کی طرف سے جو مطالبے پیش کئے گئے وہ بادی النظر میں ہی ناقابل قبول تھے بلکہ ان سے تو یہ ثابت ہوتا تھا کہ کراچی اور دوسرے شہروں میں کالعدم تحریک طالبان کا مکمل نیٹ ورک موجود ہے۔ یوں دھماکوں اور شدت پسندی کی دوسری کارروائیوں کو کسی اور قوت سے کیسے منسوب کیا جا سکتا تھا اور پھر اسی پر اکتفا نہ کیا گیا بلکہ ایک راہ چلتی گاڑی پر حملہ کر کے میجر جہاں زیب کو شہید کر دیا گیا شاید یہ اس لئے تھا کہ دہشتگردی جاری رہنے کے باوجود حکومت کی طرف سے مذاکرات سے انکار اور فوجی آپریشن کا فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن یہ ان سب کی غلط فہمی تھی، ریاست کو کمزور جان لیا گیا تھا۔ سوات کے تجربے کو فراموش کر دیا گیا۔ نتیجہ وہی ہوا کہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم نے ہاتھ اٹھا لئے اور ایک جائز مطالبہ پیش کیا کہ پہلے غیر مشروط طور پر شدت پسندانہ کارروائیاں رد کی جائیں اور میجر شہید کر دیئے گئے، برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔

کور کمانڈر میٹنگ میں بھی ان حالات پر غور کیا جا چکا تھا اور بعض فیصلے بھی کئے گئے تھے، جو حکمت عملی کے تحت افشاءنہیں کئے گئے تھے، تازہ ترین وارداتوں کے نتیجے میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی اس میں جو بھی فیصلہ ہوا وہ انہی تک محدود ہے۔ سرکاری پریس نوٹ بھی جاری نہیں کیا گیا تھا۔

گزشتہ شب (بدھ + جمعرات) فوج کی طرف سے جوابی کارروائی ہوئی اور بھرپور طریقے سے کی گئی۔ ائیرفورس کو بھی استعمال کیا گیا، اطلاع کے مطابق ایسے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں غیر ملکی شدت پسند موجودتھے،یوں ایک ٹارگیٹڈ آپریشن ہوا جیسا پہلے بھی کیا گیا تھا اور اس کے بعد ہی مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

سوال صرف یہی ہے کہ اس پورے عمل میں ایک خاص ذہن کے حضرات نے قوم کے جذبات کو بھی نظر انداز کیا وفاقی وزیر اطلاعات کو جذباتی طور پر مجبور کر دیا کہ وہ تقابل کریں اور انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس 94ہزار جنگی قیدی تھے اس نے تو گلے نہیں کاٹے طالبان بتائیں کہ انہوں نے کس شریعت کی رو سے مسلمان بھائیوں کے گلے کاٹے، اب تو وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف بھی شدت پسندی کے خلاف ڈٹ گئے ہیں۔

بہتر عمل یہ تھا کہ مولانا سمیع الحق اور ان کے ساتھی اس سارے عمل کو اپنی ذات کے لئے کیش کروانے کا عمل نہ کرتے، کالعدم تحریک طالبان والوں کو سمجھاتے وہ یکطرفہ طور پر ہی سہی شدت پسندانہ کارروائیاں بند کر دیتے تو یہ نوبت نہ آتی، ماضی قریب کی تاریخ شاہد ہے کہ سابقہ حکومت اور جنرل کیانی پر بہت زیادہ دباﺅ تھا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کیا جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا یہ کسی حذف کے باعث نہیں تھا بلکہ اس میں بھی امن کی خواہش چھپی ہوئی تھی اب اگر دوسری مرتبہ ٹارگیٹڈ آپریشن کیا گیا ہے تو یہ بھی مجبوری ہی کے تحت ہوا جواب نہ دیا جاتا تو ملکی دفاع کے لئے جانیں قربان کرنے کا عزم رکھنے والوں کے یقین متزلزل ہوتے، اس حوالے سے یہ بھی عرض ہے کہ اب نیٹو اور امریکہ کی طرف سے یہ یقین بھی دلایا گیا ہے کہ پاکستان کی سرحد سے افغانستان میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کو روکا جائے گا، حکومت کو بہرحال افغان صدر حامد کرزئی سے کھل کر بات کرنا ہو گی، اس لئے کہ اب صورتحال مختلف ہے۔

جہاں تک ہماری اپنی طالبان نواز جماعتوں کا تعلق ہے تو ان کو بھی اپنے رویئے اور حکمت عملی پر از سر نو غور کرنا چاہئے۔ اگر وہ شدت پسندوں کی کھلی مخالفت نہیں کرنا چاہتے تو پھر ان کو سمجھانے کا فریضہ تو ادا کریں کہ وہ یہ بات مان لیں اور اپنی کارروائیاں روک دینے کا غیر مشروط اعلان کریں اور اس پر عمل بھی کریں، وزیر اعظم اب بھی مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کے حق میں ہیں۔

تجزیہ

مزید : صفحہ اول


loading...