امن کی تلاش میں

امن کی تلاش میں
امن کی تلاش میں

  



انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن لاہور کے صدر مرزا گل ریز اقبال میرے پاس بیٹھے تھے، ان کے ہمراہ پرانے کرم فرما آئی ایس ایف پنجاب کے صدر وقاص افتخار، اسی تنظیم کے جامعہ پنجاب میں نومنتخب صدر منیب علیم اعوان سمیت دیگر بھی موجود تھے، وہ پرسوں اتوار کی دوپہر لاہور کے دل اچھرہ سے نکالی جانے والی امن ریلی میں شرکت کی دعوت لے کر آئے تھے۔ میرے لئے یہ نوجوان بہت قابل احترام ہیں۔ا نہوں نے اپنے ملک میں تبدیلی کی خواہش میں عمران خان کے لئے دیوانہ وار کام کیا، مجھے ان پڑھے لکھے نوجوانوں پر یقین ہے کہ وہ پاکستان کو ایک جدید، ترقی یافتہ اور پرُامن ملک دیکھنا چاہتے ہیں ، انتخابی نتائج کے توقعات کے مطابق نہ آنے اور خوابوں کے ٹوٹ جانے کا دکھ ان کی باتوں سے نمایاں ہے، شائد کچھ مایوس بھی ہوئے ہوں مگر جو لوگ میرے سامنے موجود تھے وہ بہتری کی امید میں اپنی جدوجہد جاری رکھنا چاہتے ہیں، وہ عمران خان کی قیادت اور ان کی دی ہوئی پالیسیوں کو اب بھی ملکی مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔ مرزا گل ریز اقبال نے میرے سامنے اپنا پورا پروگرام رکھا ، مجھے شرکت کی دعوت دی تو میں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس ریلی میں شرکت سے معذرت کر لی اور یہیں سے میرے اور ان کے ڈائیلاگ کا آغاز ہوا۔ اگر آپ مفاہمت چاہتے ہوں تو ڈائیلاگ واقعی اچھی حکمت عملی ہے۔

اگر میں اپنے نوجوان دوستوں پر یہ واضح نہ کرتا کہ میں جناب عمران خان کی اس حوالے سے پالیسی سے اختلاف رکھتا ہوں تو یہ منافقت ہوتی، چیخ چیخ کر اظہار اس لئے نہیں کرتا کہ دل کے کسی گوشے میں یہ خواہش موجود رہی ہے کہ اگر میرے وطن میںگولی چلائے اور خون بہائے بغیر ہی امن کی منزل تک سفر طے ہوجائے تو اس سے اچھاکیا ہو سکتا ہے۔شروع ،شروع میں پاکستان کا آئین بھی متنازعہ ٹھہرا، لال مسجد والے مولوی صاحب نے شریعت کے نفاذ کا معاملہ بھی اٹھایا مگر پھر معاملات پٹڑی پر آ گئے۔ طالبان کی طر ف سے تین مطالبات پیش کئے گئے، اول یہ کہ ان کے قیدی رہا کر دئیے جائیں، دوم یہ کہ فوج قبائلی علاقوں سے نکل جائے،تیسرے یہ کہ پاکستانی حکومت نقصانات کا ازالہ کرے۔ ایک مہربان سے بات ہوئی تو اس نے ان مطالبات کو بہت سخت قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ اگر طالبان کے قیدیوں کو رہا کر دیا گیا تو انہیں اپنی وہ تمام قیادت واپس مل جائے گی جسے بہت مشکل سے اوربہت سارے جانی و مالی وسائل کی قربانی سے گرفتار کیا گیا ہے۔ مخالفین کو ان کی گرفتار قیادت واپس دینا ایسے ہی ہے جیسے آپ اپنے لئے وہی محاذ دوبارہ کھول رہے ہوں۔ دوم ، فوج کا قبائلی علاقوں سے نکلنا عملی طور پر ان علاقوں کو پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ سے باہر نکالنے کے مترادف ہو گا، طالبان ان علاقوں کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اپنی ریاست قائم کر لیں گے جہاں سے وہ دونوں ممالک کو کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ پہلے ہی ان علاقوں میں جرائم پیشہ افراد کی بہت بڑی اکثریت طالبان کا روپ دھار کے وارداتیں کر رہی ہے، خود طالبا ن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان میں بعض تو پیسے لے کر قتل کرنے کے دھندے میں بھی ملوث ہیں۔یہیں سے منشیات ، اغواءبرائے تاوان اورکارچوری جیسے دھندوں کے کارخانے چلتے ہیں، اگر پاکستان کو اپنی جغرافیائی حدود سمیت پوری دنیا کے امن کا خیال ہے تو اسے ان علاقوں کو اپنے آئینی و قانونی کنٹرول میں لانا ہو گا چہ جائیکہ انہیں طالبان کی عمل داری میں دے دیا جائے جن میں سے بہت سارے گروپ کسی نظم و ضبط کے پابند ہی نہیں۔ تیسرے انہیں نقصانات کا معاوضہ دینے کا مطلب یہ ہو گا کہ پاکستان کے ٹیکس دہندگان کی کمائی سے پاکستانی شہریوں کو ہی نشانہ بنانے والوں کو سہولیات فراہم کی جائیں۔ یہ تشریح یک طرفہ تھی اور یقینی طور پر پاکستان کی حکومت کی ترجمان نہیں تھی۔ گزشتہ ہفتے اسلام آباد جانا ہوا تو وفاقی کابینہ کے ایک تگڑے وزیر سے میں نے ان مطالبات پر رائے جانی، اس وقت ابھی کراچی میں بھی حملہ نہیں ہوا تھا اور نہ ہی مہمند شاخ نے ان ایف سی اہلکاروں کو قتل کرنے کا بیان جاری کیا تھا جنہیں چار برس پہلے انہوں نے اغوا کیا تھا۔

مَیں شخصیت بارے واضح اشارہ نہیں دینا چاہتاکہ میرے نزدیک یہ حکومت کا استحقاق تھا کہ وہ جب چاہتی، ان مطالبات پر اپنا باقاعدہ ردعمل سامنے لاتی، مگر اس وفاقی وزیر کے جواب نے مجھے حیران بھی کیا اور اس امر پر قائل بھی کہ حکمران مذاکرات کے ذریعے امن کے قیام میں بہت سنجیدہ ہیں حالانکہ میں یہی سمجھتا ہوں کہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو مذاکرا ت کی راہ پر تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے ہی دھکیلا، انتخابات سے قبل ہی عمران خان اس بارے بہت واضح لائن لے چکے تھے، بہت ساروں کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے ہی تراشے ہوئے طالبان سے لڑنا نہیں چاہتی، وہ ان سے مفاہمت چاہتی ہے لہذا عمران خان او رنواز شریف دونوں اسٹیبلشمنٹ کی زبان ہی بول رہے ہیں۔ میرا تجزیہ یہ رہا کہ نواز شریف وہ ووٹ بنک عمران خان کو نہیں دیناچاہتے جو شریعت کے نفاذ کے مطالبے سے ہم دردی رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بھی مذاکرات کی ہی رٹ لگا دی، یوں بنیادی طور پر مذاکرا ت سے اب تک پیدا ہونے والی صورت حال کا کریڈٹ اور ڈس کریڈٹ عمران خان کو ہی جاتا ہے۔ بات اس جواب کی ہو رہی ہے جو وفاقی کابینہ کے ایک طاقت ور رکن نے میرے سوال کا دیا،انہوں نے سب سے پہلے اس امر کی تعریف کی کہ طالبان نے آئین کو متنازعہ اور شریعت کو اپنی ضد نہیں بنایا، ان کا کہنا تھا کہ اگر طالبان اس روئیے کا مظاہرہ نہ کرتے تو ایک آئینی حکومت کے لئے بہت بڑی مشکل ہوجاتی کہ وہ آئین سے باہر کس طرح بات چیت کو آگے بڑھائے۔ طالبان نے حکومت کے لئے ڈیڈ لاک پیدا نہیں کیا۔ ان کی طرف سے اس خیر سگالی کا خیر مقدم کرنے کے بعد پہلے سوال کا جواب یہ تھا کہ اگر حکومت اور انتظامیہ کے پاس طالبان رہنماو¿ں کے خلا ف کسی جرم میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود نہیں، انہیں قانون کے مطابق سزا نہیں دلوا ئی جاسکتی تو پھر انہیں قید میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں، انہیں رہا کیا جا سکتا ہے۔ میرا گمان یہ ہے کہ ان کا یہ جواب صرف خواتین اور بچوں کے حوالے سے نہیں بلکہ تمام قیدیوں بارے میںتھا۔ قبائلی علاقوں سے فوج نکالنے بارے ان کا موقف تھا کہ اگر طالبان دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے ساتھ رہنے کا معاہدہ کر لیتے ہیں، تو وہاں فوج کی موجودگی کا جواز ہی ختم ہوجائے گا،کیونکہ فوج وہاں صرف امن و امان یقینی بنانے کے لئے ہے ورنہ وہاں معمول کی انتظامی ایجنسیوں کے ذریعے معاملات چلائے جا سکتے ہیں۔ تیسرے انہوںنے کہا کہ آپریشن کی وجہ سے جہاں مکانات گرے اور عام لوگوں کا نقصان ہوا تو وہاں ریاست کو ان کے مکانات اور سڑکوں وغیرہ کی تعمیر کر کے دینے سے انکار نہیں کرنا چاہئے۔ یہ جوابات اگر باقاعدہ حکومتی موقف کی صورت اختیار کر جاتے،میرا صحافتی تجربے کی بنیاد پر دعویٰ ہے کہ ایسا ہی ہونا تھاتو،آگے کی بات تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، وقتی طور پر یہ طالبان کے لئے حقیقی کامیابی کی سند بن جاتے، مگر پھر کراچی میں تیرہ پولیس کمانڈوز کی شہادت، 23مغوی ایف سی اہلکاروں کے قتل کا دعویٰ اور پھر سب کچھ چوپٹ ہو گیا۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ ان واقعات کے بعد بھی نہ صر ف حکومت نے نرمی کا مظاہرہ کیا ہے، بلکہ تحریک انصاف بھی معتدل مقام پر آ کھڑی ہوئی ہے۔

 انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے دوستوں کے ساتھ ڈائیلاگ کا آغاز ہوا تو میرا کہنا تھا کہ وہ جتنی دیانتداری کے ساتھ مذاکرا ت کو حل سمجھتے ہیں ہوسکتا ہے کہ دوسری طرف اتنی ہی دیانتداری کے ساتھ آپریشن کو پائیدار امن کی راہ سمجھا جا رہا ہو ، ان دونوں دھڑوں کو کسی طور بھی ملک دشمن نہیں سمجھا جا سکتا۔ مرزا گلریز اقبال نے کہا کہ یہاں ایک مقصد تو مشترک ٹھہرا کہ ہم سب صرف اور صرف امن چاہتے ہیں چاہے وہ مذاکرا ت کے ذریعے آئے یا کسی آپریشن کے ذریعے .... مَیں نے اثبات میں سر ہلایا تو انہوں نے کہا کہ و ہ مذاکرات یا آپریشن کے حق میں نہیں، صرف اورصرف امن کے لئے ریلی نکال رہے ہیں، وہ امن جوہم سب کی خواہش ہے، لہٰذا مجھے اگر کوئی اختلاف ہے بھی تو وہ کم از کم امن کی خواہش کے ساتھ ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ میں ہنس دیا اور کہا کہ اس ملک میںامن اور معمول کی ہنستی مسکراتی زندگی میری بہت بڑی خواہش ہے، مرزا گل ریز اقبال مسکرائے اور بولے پھر تو آپ کو امن کی تلاش میں ہمارے ساتھ ضرور نکلنا چاہیے ، چاہے اس کے قیام کا ذریعہ کوئی بھی ہو اور مَیں نے ان سے وعدہ کر لیا !

مزید : کالم