شاہدرہ میں پولیس کے بلا جواز ناکوں سے شہری پریشان ہونے لگے

شاہدرہ میں پولیس کے بلا جواز ناکوں سے شہری پریشان ہونے لگے

  



لاہور (کرائم سیل) شاہدرہ ٹاﺅن پولیس نے ”خانہ پری“کے ناکے لگا کر شریف شہریوں کو پریشان کرنا معمول بنالیا،صحافیوں کو بھی تنگ کیا جانے لگا ۔تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او شاہدرہ ٹاﺅن شاہد گجر کی زیر قیادت سنگیت سینما کے قریب ریلوے پھاٹک کے قریب بدھ کی رات 10بجے ناکہ لگا کر خانہ پری کیلئے موٹر سائیکل سواروں کو روک کر تنگ کیا جاتا رہا ۔مقامی صحافی ڈیوٹی سے واپس گھر جارہے تھے تو ان کو بھی روک کرموٹر سائیکل کے کاغذات طلب کئے گئے بطور سینئر صحافی تعارف کراتے ہی پولیس کے شیرجوانوں نے غصہ میں آ کر مختلف سوالات کی بوچھاڑ کر دی اورصحافی کو چند فاصلے پر موجود ان کے گھر سے کاغذات لانے کی بھی اجازت نہیں دی گئی ۔ایس ایچ اونے پنجاب گورنمنٹ کی جانب سے سینئرصحافیوں کو دوران ڈیوٹی تمام سہولیات دینے کیلئے جاری کردہ کارڈ دیکھنے کی بھی زحمت گوارہ نہ کی اور شناختی کارڈ پکڑ کر سڑک پر مجرموں کی طرح آدھ گھنٹہ سے زائد کھڑا کئے رکھا اور جب ان سے کہا گیا کہ آپ شناختی کارڈ واپس کریں تو انہوں نے کہا کہ آپ موٹر سائیکل لے جائیں اور تھانے آ کر صبح کارڈ لے جائیں ۔ جس جگہ پر پولیس نے ناکہ لگا کر خانہ پر ی مکمل کی اس جگہ ناکہ لگانے کا جواز ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ناکے تک پہنچنے سے قبل تین چار پوائنٹ ایسے بھی ہیں جن کو استعمال کر کے پولیس سے بچاجا سکتا ہے پولیس کو ناکہ گورنمنٹ ہائی سکول یا انڈر پاس کے ٹرننگ پوائنٹ پر لگانا چاہیے تاکہ عوام کو تحفظ پہنچنے کے ساتھ جرائم پیشہ عناصر کا سدباب ہو سکے سینئر صحافی نے سی سی پی اوسے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناکوں پر شریف اور ذمہ دار شہریوں کو تنگ کرکے عوام اور صحافیوں کو پولیس سے بد ظن کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔

اور متعلقہ پولیس کو ہدایت کی جائے کے گلی محلوں میں ناکے لگانے کی بجائے حساس مقامات کا انتخاب کیا جائے۔

مزید : علاقائی


loading...