یواکرائن میں صدر کا جنگ بندی کا اعلان ، مذاکرات ہوں گے

یواکرائن میں صدر کا جنگ بندی کا اعلان ، مذاکرات ہوں گے
Cease fire announced

  



 کیف(مانیٹرنگ ڈیسک)یوکرائن کے صدر اور اپوزیشن کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق رائے ہوگیا۔غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرائنی صدر وکٹور یانوکووچ اور اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کے درمیان ملاقات ہوئی، جس کے بعد صدر کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا کہ اپوزیشن رہنماو¿ں کے ساتھ معاہدے پر اتفاق ہو چکا ہے۔ یہ اتفاق بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے اور محاض آرائی کے خاتمے پر ہوا۔ بعد ازاں اپوزیشن رہنما آرسینی یاٹسینی یک نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا کہ اب آزادی چوک پر مظاہرین کے خلاف پولیس دھاوا نہیں بولے گی۔ بیان میں کہا گیاہے کہ جنگ بندی کے ذریعے ریاست کی صورتحال کو مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی ہیں۔یہ جنگ بندی اس وقت ممکن ہوئی جب صدر نے مسلح افواج کے سربراہ کو برطرف کر دیا تھا۔یوکرائن میں خون ریز مظاہروں کے دوران 26 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مرنے والے کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس دوران سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یوکرین کے صدر یانوکووچ نے احتجاجی مظاہرین کو انسانی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔یورپی یونین نے کہا ہے کہ احتجاجی مظاہرین کے خلاف تشدد کے استعمال پر یوکرین کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ دریں اثناءجرمنی، فرانس اور پولینڈ کے وزرائے خارجہ یوکرائن پہنچ رہے ہیں جبکہ یورپی یونین کی ایک ہنگامی میٹنگ بھی طلب کر لی گئی ہے اور اس میں یوکرائن کی موجودہ صورت حال کو زیر بحث لایا جائے گا۔واضح رہے کہ تین ماہ سے جاری اس بحران میں شدت اس وقت آئی جب کیف میں مظاہرین پر پٹرول بم،ربڑ کی گولیاں برسائی گئی۔ عین اس وقت جب لوگ اپنے حق کے لئے مرکزی آزادی چوک پر جمع ہوئے تھے۔ اس دوران مظاہرین نے مرکزی پوسٹ آفس پر قبضہ پر کرلیا تھا۔یورپی یونین کے اجلاس میں کئی یورپی رہنماوں نے یوکرائن کے خلاف پابندی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ جبکہ فرانسیسی ،جرمن اور پولش وزرائے خارجہ نے پر تشدد واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت بھی کی تھی۔

مزید : بین الاقوامی


loading...