غداری کیس: مقدمہ فوجی عدالت منتقلی کی پرویز مشرف کی درخواست مسترد، فردجرم عائد ہوگی

غداری کیس: مقدمہ فوجی عدالت منتقلی کی پرویز مشرف کی درخواست مسترد، فردجرم ...

رانااعجاز کا فیصلہ ماننے سے انکار، فیصلہ سرپرائز پلس ہے: احمد رضاقصوری

غداری کیس: مقدمہ فوجی عدالت منتقلی کی پرویز مشرف کی درخواست مسترد، فردجرم عائد ہوگی

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) غداری کیس کی سماعت کرنیوالی خصوصی عدالت نے مقدمہ ملٹری کورٹ منتقل کرنے کی پرویز مشرف کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزم کو11مارچ کو طلب کرلیا اور قرار دیا ہے  کہ سابق فوجی صدر کی ریٹائرمنٹ کے مطابق ملٹری کورٹ مقدمہ نہیں سن سکتا، 1977ءکا آرمی ایکٹ بھی 1981ءمیں ختم ہوچکاہے جبکہ ججوں کے متعصب ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ رکھا جو چار مارچ کو سنایا جائے گا۔ جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ نے غداری کیس میں عدالت کے دائرہ اختیار سے متعلق فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں قراردیاہے کہ جس آرمی ایکٹ کا حوالہ دیاگیا، وہ ختم ہوچکا،1977ءکا آرمی ایکٹ 1981ءمیں ختم ہوچکا،پرویز مشرف 2007ءسے ریٹائرڈ ہوچکے ہیں اور وہ فوج کا حصہ نہیں رہے ، ملٹری کورٹ میں اُن کا مقدمہ نہیں چل سکتا، سنگین غداری کا مقدمہ صرف اور صرف خصوصی عدالت ہی سن سکتی ہے ، یہ مقدمہ چلانے کا کسی اور عدالت کو اختیارنہیں ۔ عدالت نے ججوں کے متعصب ہونے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ رکھاجو چارمارچ کو سنایاجائے گا اور ملزم پرویز مشرف کو 11مارچ کو طلب کرلیا اور امکان ہے کہ پیشی کے موقع پر پرویز مشرف پر فردجرم عائد کردی جائے گی ۔ فیصلہ سن کر پرویز مشرف کے وکیل رانااعجاز آپے سے باہر ہوگئے اور روسٹرم پر آگئے ۔ رانا اعجاز کاکہناتھاکہ عدالت نے کرائے کے قاتل جیساکردار اداکیاجس پر جسٹس فیصل عرب نے رانا اعجاز کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ بیٹھ جائیں ، اگر فیصلہ منظو رنہیں تو اپیل کریں ۔بعدازاں میڈیا سے گفتگومیں رانا اعجاز کے لہجہ سے متعلق سوال کے جواب میں احمد رضاقصور کاکہناتھاکہ ہر شخص کا الگ ردعمل ہوتاہے ، رانااعجاز کا ردعمل بھی قدرتی ہے ، وہ درست نہیں کہہ رہے ، قدرتی کا لفظ استعمال کیا۔اُن کاکہناتھاکہ خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں حقائق کو مسخ کردیا، مشرف نے ایمرجنسی بطور آرمی چیف لگائی ، فیصلہ اُن کے لیے سرپرائز پلس ہے ، مشرف کامقدمہ اس ملک کا ایشونہیں ۔

مزید : قومی /Headlines