کوئی بات پلّے تو پڑے

کوئی بات پلّے تو پڑے

  



کسی بڑی اخباری تنظیم کے سربراہ کا وقت کے حکمران سے اپنی تنظیم کا دفتر قائم کرنے کی خاطر قطعہ زمین کے مطالبے اور خوشامدی کالم کے عوض کسی سیاست دان سے دیسی مرغیاں طلب کرنے میں کتنا فرق ہے، اس کا اندازہ تو قارئین خود کریں۔ یہ عاجز تو یہی عرض کر سکتا ہے کہ یہ اپنے اپنے ظرف اور اوقات کی بات ہے اور سیاسی رہنما سے کالم کے ذریعے دیسی مرغیاں طلب کرنے والے کا یہ حق کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ پاکستانی جرائد کے مدیران کی تنظیم کے صدر کے اس مطالبے پر معترض ہوا کہ حکومت سی پی این ای کا دفتر قائم کرنے کے لئے زمین کا ٹکڑا الاٹ کرے، لگی لپٹی رکھے بغیر بات کی جائے، تو سی پی این ای نے ’’میٹ دی ایڈیٹرز‘‘ کے عنوان سے ایک تقریب کا اہتمام کیا، اس تنظیم کے سربراہ محترم مجیب الرحمن شامی ہیں۔ ہم حاضر نہ تھے تاہم اس تقریب کے حوالے سے بہت کچھ اخبارات میں پڑھنے اور چینلوں پر دیکھنے اور سننے کو ملا۔ تنظیم کے صدر کی حیثیت میں محترم شامی صاحب نے اپنے منفرد اندازِ تحریر اور تقریر کے جوہر دکھائے اور مہمان خصوصی کے طور پر وزیراعظم محمد نواز شریف نے بہت کھلے ڈلّے انداز میں مطالبات کی منظوری کے ساتھ مدیران جرائد کے سامنے دِل کی کتاب کھول کر رکھ دی۔ مُلک کو درپیش مشکل حالات اور حالات کو بہتر بنانے کی خاطر اپنی کوششوں اور مدیران جرائد سے تعاون کی بات بھی کی اور عامل صحافیوں والے ’’حسن کارکردگی ایوارڈ‘‘ والی نقدی کو دوگنا کرنے کی تجویز بھی وزیراعظم کے سامنے رکھی۔ ایک اضافی بات یہ ہوئی کہ شامی صاحب نے آئندہ ماہ جن صحافیوں کو یہ ایوارڈ ملنے والا ہے، ان میں دو ناموں کا تذکرہ بھی کر دیا یہ کوئی ایسی قابل اعتراض بات بھی نہ تھی کہ محترم عطا الرحمن اور برادرم روف طاہر کے نام ایوارڈ یافتگان میں شامل ہیں۔ دوسرے جن احباب کو اس ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا ہے ان میں جناب ادریس بختیار منے پرمنے صحافی ہیں۔ محترم ڈاکٹر اطہر مسعود نہ صرف ممتاز اخبار نویس ہیں، بلکہ سینکڑوں اخبار نویسوں کے استاد بھی ہیں۔ جناب صدیق بلوچ بھی اپنے زور پر ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں سے ہیں۔ اب خدا جانے اقلیم صحافت کے خود ساختہ خلیفہ صاحب اس پوری تقریب پر کیوں تیش کھائے بیٹھے ہیں۔

برادر عزیز روف طاہر اور محترم عطا الرحمن صاحب کے حوالے سے عباسی خلیفہ کے ہم نام کالم نگار کا غصہ بھی یوں قابل فہم نہیں کہ حسن کارکردگی ایوارڈ کا حصول قبلہ خلیفہ صاحب جتنا آسان سمجھتے ہیں۔ اتنا ہے نہیں! ایک طویل عمل ہے، جس سے گزرنا پڑتا ہے اور حکومت کی حمایت کا وصف ان خوبیوں میں قطعاً شامل نہیں، جو کسی فرد کو اس ایوارڈ کا مستحق بناتی ہیں۔ ایسا ممکن ہوتا تو ہر دور کے مدح خواں کئی کئی بار یہ ایوارڈ حاصل کر چکے ہوتے اور جنرل ضیا الحق مرحوم جو ہم قبیلہ ہونے کے ناطے ہر وصف سے عاری شخص کی جھولی میں ایوان بالا کی رکنیت ڈال گئے وہ لازماً اپنے تمام حامیوں میں یہ ایوارڈ بانٹنے سے نہ چوکتے اور آپ جناب سے بڑھ کر اس کا مستحق کون تھا؟ چلئے روف طاہر اور جناب عطا الرحمن صاحب کی ایک خوبی کا اعتراف تو جناب والا کو بھی ہے کہ ’’اچھی تحریر لکھتے ہیں‘‘۔

محترم مجیب الرحمن شامی صاحب کی تقریر میں جناب والا نے املا، اندازِ بیان اور عرض مدعا کی جن اغلاط کی نشاندہی کی ہے اسے گلہری کے چٹان سے جپھے کی کوشش ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس شعر سے بھی صورت حال کی وضاحت کی جا سکتی ہے اور محترم شامی صاحب کہہ سکتے ہیں:

جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں

جب بولنے لگے تو ہمیں پر برس پڑے

مگر شامی صاحب کا کہنا ہے کہ بس پڑھتا جا مسکراتا جا۔ یہ بھی ایک انداز بے پرواہی، ہی تو ہے ورنہ محترم شامی صاحب یہ شعر بھی گنگنا سکتے تھے:

بات کرنی بھی نہ آتی تھی تمہیں

یہ ہمارے سامنے کی بات ہے

وزیراعظم کے اس جملے پر اعتراض ہے کہ ’’ آزادئ صحافت کے مخالف نہیں‘‘ پھر ایک سادہ سا سوال بھی ہے کہ جب پہلی اور دوسری بار وزیراعظم تھے تو ٹی وی پر حزب اختلاف کی خبروں پر پابندی کیوں تھی؟ مگر ایک بہت ہی سادہ سا سوال ہمارا بھی ہے کہ جناب والا آپ بھی تو حنیف رامے مرحوم کے ہفت روزہ ’’نصرت‘‘ میں اس وقت کی حزب اختلاف کو مغلظات سے نوازتے تھے اور اس سے قبل جماعت اسلامی کے روزنامہ ’’کوہستان‘‘ میں قائدین جماعت اسلامی کی قصیدہ خانی کرتے تھے اور مارشل لاء لگا تو یہی مجیب الرحمن شامی تھے،جنہوں نے جناب کے سارے ’’تحریری جرائم‘‘ کی سزا سے آپ کو بچایا تھا، پھر تجھے لے گئی نہ کہاں کہاں یہ جو روشنی تھی کہیں کہیں۔ اب رہا حکومت سے یہ سوال کہ کیا پیشہ ورانہ اہلیت اور کردار کی بنا پر تحسین کا فیصلہ کیا گیا یا اس لئے کہ حکومت کے حامی ہیں؟ اس اعتراف کے بعد کہ روف طاہر اور عطا الرحمن صاحب ڈھنگ کی عبارت تو لکھ سکتے ہیں۔ یہ سوال کتنا بامعنی ہے؟ اس کا فیصلہ خود کر لیں۔ اب رہ گئی یہ بات کہ آزاد ٹی وی چینل ایک آمر کی عنایت ہیں، تو یہی کہا جا سکتا ہے مجھے احساں جو نہ کرتے تو یہ احساں ہوتا۔ یہ آزادی ذلت کے جس مقام تک لے آئی ہے اس پر بھی تو غور کر لیا جائے اور پھر کون سا آمر ہے، جس نے اپنے دور میں کچھ نہ کچھ اس قوم کو عنایت نہیں کیا؟ کیا ایوب خان نے مُلک کو صنعتی دور میں داخل نہیں کیا؟ کیا یحییٰ خان نے بلوچستان کو صوبے کا درجہ دے کر پہلے شفاف انتخابات نہیں کرائے؟ کیا سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام کا آغاز نہیں کیا؟ کیا آپ کی برادری سے تعلق رکھنے والے جنرل ضیا الحق نے افغانستان میں روس کی شکست کا سامنا نہیں کیا؟ کیا ضیا الحق نے میاں یاسین کے کہنے پر سینیٹ کی ایک نشست آپ کے گھر انے کو الاٹ نہیں کی؟ اب چینلوں کی آزادی کوئی اچھا تحفہ ہے تو اس کی بدگوئی کہاں تک واجب ہے؟ اب اگر ڈاکو سارا گھر لوٹ کر مالکان کو بے دست و پا کر کے کوئی ایک اچھا کام بھی کر دے اس کے سارے گناہ آپ ہی معاف کر سکتے ہیں اور آپ کے ممدوح عمران خان ریفرنڈم میں اس کی حمایت کا اعزاز بھی پا سکتے ہیں۔

جناب والا! زیاں بہت ہے خدا کی زمین پر زیاں بہت انسانی ریاضت کا بڑا حصہ برباد ہو جاتا ہے۔ اپنی نہیں دوسروں کی خامیوں پر ہم سوچتے رہتے ہیں۔ میڈیا کا مال بھی وہی ہے جو سرکار کا، اگر قبلہ اپنے اس مقالے پر تحریر کرنے کے بعد ایک نظر خود ڈال لیتے تو اوپر کی پوری تحریر دُنیا کے سامنے لانے سے پہلے ہی ردی کی ٹوکری کی نذر کرتے! اب درد کے ٹھہرنے اور رات کے اختتام کی جو آرزو آپ نے ظاہر کی ہے اس کا آسان نسخہ یہی ہے، جو عباسی خلیفہ کی اہلیہ محترمہ نے بیان کیا ہے۔ اسے ازبر کر لیں تو درد بھی ٹھہر جائے گا اور رات بھی چین سے بسر ہو جائے گی۔ دِلوں کی کشادگی خود ستائی اور نرگسیت کے ذریعہ حاصل نہیں ہوتی۔ بیوی کو ملکہ بنانے والے ہارون الرشید سے گزر کر عمر بن عبدالعزیز پر نظر ڈالنے اور اس کے کردار کو عزیز سمجھنے پر مل سکتی ہے۔دل میں دمشقی قسم کے صنم کدے تو ڈھانے ہی پڑتے ہیں۔ دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت بننے سے کام نہیں چلتا۔ کون ہے، جس کا آپ نے قصیدہ نہیں لکھا اور کون ہے جو آپ کی ہجو نگاری سے محفوظ رہا اور جن جن اخبارات میں آپ کے فرمودات شائع ہوئے فرصت ملے ان کی پرانی فائلوں پر ایک نظر ڈال لیں۔ احباب کے پاس آپ کے بقلم خود معذرت نامے بھی موجود ہیں اور آپ کی تحریریں بھی ذہن میں ہیں۔ ممتاز اہلِ قلم کی مسکراہٹوں کو ناز کا ٹکہ سمجھئے۔ کوئی دل جلا دستار فضیلت کی جانب ہاتھ بڑھا بیٹھا تو کیا ہو گا؟ محترم نذیر ناجی، میاں عامر محمود سے آپ کے قبیلائی تعلقات کے سبب خاموش ہوں تو الگ بات ہے ورنہ اصولاً تو چھپنے سے پہلے آپ کی تحریر انہیں پڑھ لینی چاہئے۔ محمد صلاح الدین اور برادرم مختار حسن تو اب اس دُنیا میں نہیں،مگر ان کے بارے میں آپ کے زورِ قلم کے شاہکار تو محفوظ ہیں۔

کس کس کی زباں روکنے جاؤں تیری خاطراور مَیں کیوں جاؤں؟ آپ کا یہ کرم کیا کم ہے کہ مَیں نے اپنی تحریروں کا جو پلندہ آپ کو برائے انتخاب دیا تھا وہ تک آپ نے ردی میں بیچ دیا اور چار پانچ برس سے سلام دعا سے بھی گئے۔ قرآنی آیات، امام ابو حنیفہ ؒ کے اقوال اور عباسی بادشاہوں اور ان کی ملکہ کے تذکرے اخرت میں نجات کا ذریعہ نہیں ہو سکتے، انسانوں سے برتاؤ کی پرسش میں یہ بچت کا سامان نہیں بن سکتے، ہم تو سائیں عنایت کے پرستار ہیں اور بلھے شاہ کے مقلد ہیں، چپ ہی رہیں گے، مگر کوئی تو بھید بھاؤ بتانے والا بھی اللہ میاں بھیج ہی دیں گے، مشورے سننے کا مقام تو آپ بہت پیچھے چھوڑ آئے۔ ذرا صبر اور تحمل کا مظاہرہ کریں، کسی اور کی نہیں تو گوجر خان کے رفیق اختر کی ہی بات سُن لیں، جن کا فرمان ہے کہ ’’ہر وہ عالم جو قرآن کی ایک آیت بھی سمجھتا ہے۔ مفسر بنا ہوا ہے‘‘ آپ جس کام میں مہارت رکھتے ہیں اسی پر توجہ رکھیں۔ جناب اکرم اعوان، میاں اظہر اور عمران خان کی خاطر انسانوں کے سمندر کو طوفان بننے پر اکساتے رہیں، مگر یاد رکھیں ذرا سی گنجائش ملنے پر سیاست کا ہر کھلاڑی عمران خان کی طرح بارہ پتھر کا فاصلہ بنانے میں چند منٹ بھی نہیں لیتا۔ فیض احمد فیض کے شاعرانہ انداز میں پانچ جملے سُن لیں، جو انہوں نے داغستانی خاتون اور شاعر بیٹے کے عنوان سے لکھے:

اس نے جب بولنا نہ سیکھا تھا

اس کی ہر بات مَیں سمجھتی تھی

اب وہ شاعر بنا ہے نام خدا

لیکن افسوس کوئی بات اس کی

میرے پلے ذرا نہیں پڑتی

جناب والا۔ اس میدان میں آپ تنہا نہیں ہیں، جو اپنے دور کے بڑے لوگوں کی تذلیل کر کے اپنی بلند قامتی ثابت کرنے کو ہی وقت کا بہترین وصف سمجھتے ہیں۔بے چارہ غالب تک اس شر سے محفوظ نہیں رہا، مگر شعرو ادب میں چنگیزی انداز اختیار کرنے والے کے پورے نام سے بھی کوئی آگاہ نہیں اور غالب شاعری میں حیات جاوید رکھتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’ہر عہد کے بونے اپنے عہد کے بڑے آدمی کو اپنے حسد کی بوتل میں بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘‘ مگر اس سے بلندئ قدو قامت کا حصول ممکن نہیں! حضور ذرا بلھے شاہ کے کلام پر نظر ڈالئے جو آپ کے قبیلے کے ایک بزرگ کی پرستاری میں تمام حدوں کو پار کر گیا۔ اسی بلھے شاہ کا فرمان یہ بھی ہے:

بلھے شاہ پتھر کدھے گلاب نئیں ہوندے

سادہ ورق کدھے کتاب نئیں ہوندے

اگلے دو مصرعے ہمارے مطلب کے نہیں، سو ان پر نظر ڈالنے کی زحمت آپ خود کر لیں۔ تھوڑے کو بہت جانیں ورنہ اور بہت کچھ بھی ہے۔

مزید : کالم