لاہور میں ٹریفک اور تجاوزات مافیا

لاہور میں ٹریفک اور تجاوزات مافیا
لاہور میں ٹریفک اور تجاوزات مافیا

  

لاہور شہر کے چوکوں اور سڑکوں پر ٹریفک پولیس نے عجیب تماشا لگا رکھا ہوتا ہے، ہر چوک پر چار چار چھ چھ اہل کار موجود ہوتے ہیں، یہ عموماً اس وقت ہوتے ہیں جب ان خوش نصیب سڑکوں پر وی آئی پی شخصیت کا گزر ہونا ہوتا ہے ورنہ رش کے باوجود صرف ایک یا دو اہلکار موجود ہوتے ہیں،چھپ کر کھڑے ہوتے ہیں کہ کوئی موٹر سائیکل یا گاڑی والا ٹریفک اشارے کی خلاف ورزی کرے تو اس کا چالان کیا جائے، ورنہ مصروف چوکوں پر اشارے بند کر کے ہاتھ کے اشارے سے ٹریفک کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں خود کبھی ایک طرف ٹریفک کو زیادہ دیر تک روکے رکھتے ہیں، کبھی دوسری طرف اس کے نتیجے میں ہر طرف لمبی لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں ہارن پر ہارن بج رہے ہوتے ہیں۔ سڑکوں پر عجیب ہڑبونگ مچی ہوتی ہے، کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ موٹر سائیکلوں والے فٹ پاتھوں پر اپنی موٹر سائیکلیں دوڑاتے نظر آتے ہیں اول تو لاہور میں فٹ پاتھ ہی نہیں ہیں، اگر ہیں تو تجاوزات قائم کروانے والوں نے فروخت کر دیا ہے موٹر سائیکلوں والے ٹریفک کے قوانین کی پابندی کرنا اپنی توہین تصور کرتے ہیں اگر ٹریفک سگنل صحیح کام کر رہے ہیں تو پھر ٹریفک اہل کار ٹریفک سارجنٹ اپنی پوری توجہ ان قانون شکن اور ٹریفک رولز کی خلاف ورزیاں کرنے والوں کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں جنہوں نے سڑکوں پر اودھم مچا رکھا ہوتا ہے معذرت کے ساتھ ٹریفک قوانین کی سب سے زیادہ خلاف ورزی ٹریفک پولیس خود کرتی ہے چونکہ ان ملازمین کو موجودہ ٹریفک پولیس افسروں نے چالانوں کا ٹارگٹ دیا ہوتا ہے کہ سب نے روزانہ اتنی تعداد میں چالان جمع کروانے ہیں اس لئے جائز ناجائز عوام کے چالان کئے جاتے ہیں میرے خیال میں اگر ٹریفک پولیس چالان کرنے کا ٹارگٹ نہ دیا جائے بلکہ صرف اپنے اپنے علاقوں میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کا کہا جائے اور جو بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرے اس کا چالان کیا جائے لاہور میں ہیلمٹ پہننے کا سخت قانون ہے حالانکہ ہیلمٹ پہنے شخص کو رائٹ لفٹ کچھ نظر نہیں آتا لاہور میں ہیلمٹ کا قانون صرف ہیلمٹ بنانے والے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہے۔ فیکٹری مالکان سے ملی بھگت ہے لاہور میں موٹر سائیکل اور سکوٹر چلانے والوں کے لئے ہیلمٹ کی پابندی اور اس پر جرمانے کرپشن کا ایک ذریعہ ہے۔

سابقہ ادوار میں لاہور شہر کے لئے بڑے لکھنے نوجوانوں کو وارڈن پولیس (ٹریفک) کے لئے بھرتی کیا گیا، ڈائریکٹ سب انسپکٹر مگر بدقسمتی سے یا اسی وقت کے ذمہ دار پولیس آفیسر کی نا اہلی کی وجہ سے وہ ٹریفک وارڈن کے لئے سروس رولز نہ بنا سکا تمام سب انسپکٹر بھرتی نہ پروموشن کے لئے رولز بس اچھی تنخواہیں دے کر عام پولیس سے دوسرے ملازمین بھی وارڈنوں کے شعبے میں آ گئے۔ حوالدار، سپاہی، انسپکٹر، ڈی ایس پی وہی پرانی پولیس وہی طرز عمل، بے روز گار نوجوانوں کو نوکریاں تو مل گئیں اس کے بعد آنے والے پولیس آفیسروں کو محکمے کے لئے آمدنی کا ذریعہ بنا دیا جس قدر حکومت نے ٹریفک پولیس کو بہترین نظام مواصلات تیز رفتار اور مضبوط موٹر سائیکلیں اور کاریں دے رکھی ہیں ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی قانون شکن ایک چوک کا اشارہ توڑ کر نکل جائے تو اگلے چوک میں پکڑا نہ جائے قانون کا خوف ہی ٹریفک رولز کی پابندی کا ضامن ہو سکتا ہے لیکن افسوس ہے کہ ٹریفک اہل کار عوام کی بھلائی یا رہنمائی کم کرتے ہیں۔ لاہور میں چند جگہوں کی نشان دہی کر رہا ہوں جن پر صرف ٹریفک وارڈن چالانوں کی خاطر موجود ہوتے ہیں۔ نمبر 1 لاہور ایئرپورٹ کی حدود کے اندر جس سڑک پر ایئر پورٹ سے باہر نکلتے ہیں پانچ پانچ چھ چھ اہل کار ٹریفک وارڈن 20-20 گھنٹے کھڑے نظر آتے ہیں۔ ابھی لوگ پارکنگ سے گاڑی نکال کر چوک کراس کرتے ہیں صبح ہو یا رات شام ہو یا دوپہر یہ لوگوں کے چالان کرتے ہیں۔ غلطی کیا نکالتے ہیں، ڈرائیور بیلٹ چونکہ ابھی گاڑی ایئرپورٹ کی حدود کے اندر ہوتی ہے بے شک بیلٹ باندھنا اچھی بات ہے باقی لوازمات ٹریفک کے درست ہیں، بدقسمتی سے ٹریفک قانون ترقی یافتہ ملکوں والے اور سہولتیں اورسڑکیں سیکیورٹی ناقص ٹریفک پولیس کے ملازمین بے شک اسی معاشرے کے لوگوں کی اولادیں ہیں، بیٹے بیٹیاں ہیں، لیکن ٹریفک پولیس ملازمین کی ذمہ داریاں الگ قسم کی ہوتی ہیں دنیا کے بیشتر ممالک میں جانے کا موقع ملا ہے جن میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، سپین، انڈیا اور مڈل ایسٹ کے بیشتر ممالک شامل ہیں کسی بھی ملک کی ٹریفک کی روانی دیکھ کر ٹریفک قوانین پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کی ذہنی کیفیت اور سوچ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں کا معاشرہ کس طرح کا ہے ؟

لاہور سے زیادہ ٹریفک ان ملکوں میں ہوتی ہے اندرون شہر سڑکیں بھی اسی طرح کی ہوتی ہیں تمام ٹریفک اپنی اپنی لین میں چلتی ہے، ان ترقی یافتہ ملکوں میں عوام کے حقوق کا خیال اس طرح رکھا گیا ہے کہ بسوں اور ایمبولیسنوں کے لئے علیحدہ ٹریک بنایا گیا ہے، جس طرح لاہور میں میٹرو بس کا ہے کہ اس پر کوئی دوسرا نہیں جا سکتا یہ قانون کی سختی ہے، ورنہ لاہور میں بڑے بڑے بگڑے رئیس اور نئے دولتئے موجود ہیں یہ میٹرو بس ٹریفک پر کیوں نہیں آتے کسی بھی ترقی پذیر ملک میں اس قدر بجٹ صرف ایک فیصد لوگوں کے مفاد کے لئے خرچ کرنا افسوس ناک ہے، جس قدر میٹرو بس پر قومی سرمایہ لگایا ہے یا لگ رہا ہے۔ اس سے لاہور کی تمام ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لئے تمام سڑکوں کو کشادہ کیا جا سکتا تھا۔ بہرحال ٹریفک پولیس کو اپنے ہاتھوں کی بجائے ٹریفک اشاروں کی پابندی کروانی چاہئے اور کسی صورت میں بھی ٹریفک سگنل بند نہیں کرنے چاہئیں۔ وی آئی پی موومنٹ کے لئے فوری طور پر روٹ لگتے ہیں، اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر سڑکوں کی چوڑائی کم ہونے کا خیال آئے تو یہ غلط ہے۔ تمام شہر کی سڑکوں، بازاروں میں نا جائز تجاوزات سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اگر ناجائز تجاوزات ختم کر دی جائیں، جو بہت ہی مشکل ہے۔ لاہور میں ناجائز تجاوزات کا ایک طاقت ور مافیا ہے جو کرپشن کا قلعہ ہے اور تمام پنجاب میں ہے لیکن اس وقت اگر لاہور کو تجاوزات سے پاک کر دیا جائے تو پھر ٹریفک کی 95 فیصد مشکلات ختم ہو سکتی ہیں۔

ویگنوں میں گانوں کی ریکارڈنگ ہو رہی ہوتی ہے، حالانکہ فرنٹ سیٹوں پر عورتیں بیٹھتی ہیں، شہر میں رکشوں کی بھرمار ہے عوام کی ضرورت ہو گی مگر کوئی قانون نہیں، نہ کرائے کا نہ سٹاپ کا، بے روز گار اپنی روزی کما رہے ہیں، شہر میں پہلے ویگنوں کی لاقانونیت مشہور تھی، چند سال سے پاکستان میں چنگ چی رکشا آگیا ہے۔ موٹر سائیکل 100 سی سی، 70 سی سی اور سواریاں دس بارہ سے بھی زیادہ نہ نمبر پلیٹ، نہ کاغذ، نہ میٹر ، سارے شہر اور سڑکوں کے ماحول کو چنگ چی رکشا والوں نے گندہ کر دیا ہے، ان کے ڈرائیور نہ سکول دیکھتے ہیں، نہ کالج دیکھتے ہیں نہ ہسپتال دیکھتے ہیں، نہ ٹریفک اشارے کی پابندی کرتے ہیں۔ ٹریفک رولز کی دلیری سے خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ہر چوک پر دس دس پندرہ پندرہ چنگ چی رکشے سڑکوں کو بند کر کے کھڑے ہوتے ہیں۔ ٹریفک وارڈن کس طرح سارا دن ہر سڑک سے چنگ چی رکشاؤں کو ہٹاتے رہیں، جبکہ ٹریفک وارڈن اپنے چالانوں کی تعداد پوری کرنے تک سڑکوں چوکوں پر موجود ہوتے ہیں ۔ ہر یوٹرن پر وارڈن چالانوں کے لئے موجود ہوتے ہیں۔ پولیس اور وارڈن صرف ماڈل سڑکوں کا خیال رکھتے ہیں باقی لاہور شہر کو تجاوزات مافیا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ تجاوزات مافیا نے لاہور شہر کے تمام بازاروں، فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر قبضہ کر لیا ہے، عام بازاروں کو دکانوں میں تبدیل کر دیا ہے ٹاؤن شپ، اچھرہ، مزنگ، بیڈن روڈ، گلبرگ، کینال پارک، دھرم پورہ، مغل پورہ کرشن نگر غرضیکہ سارا شہر تجاوزات مافیا نے ایل ڈی اے اور دوسرے ذمہ دار اداروں سے روزانہ کے ٹھیکے پر لے رکھا ہے کیا ان اداروں کے بڑے بڑے آفیسروں کی یہ ذمہ داری نہیں کہ عوام کے مفاد کے لئے کسی سیاسی سفارش کو نہ مانیں اور اپنے ضمیرکو جگائیں، اپنا اپنا فرض نبھائیں اور تجاوزات مافیا اور قبضہ گروپوں سے لاہور شہر کی سڑکیں اور بازار آزاد کرائیں۔ آخر کب تک عوام کے حقوق تلف ہوں گے؟

مزید :

کالم -