دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے اجتماعی اقدامات

دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے اجتماعی اقدامات

  

افغانستان میں نیٹو مشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی میں اضافہ باعثِ تشویش ہے دونوں ممالک مل کر دہشت گردی کے خلاف کام کریں انہوں نے یہ بھی کہا کہ داعش کے ستر فیصد دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے پاک افغان سرحد کے قریب داعش کے متعدد دہشت گرد موجود ہیں۔ اجتماعی کوششوں سے ہی دہشت گردی کے خلاف کام کر سکتے ہیں۔نیٹو مشن کے ترجمان کی پاک افغان تعلقات میں کشیدگی میں اضافے پر تشویش اپنی جگہ ہے لیکن اگر امریکی اور نیٹو افواج چاہیں تو محض زبانی کلامی تشویش سے آگے بڑھ کر بھی عملی کردار ادا کرسکتی ہیں اور اگر افغانستان آمادہ ہو تو پاکستان کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات بھی کر سکتا ہے جو دہشت گردی کے استیصال میں معاون ہو سکتے ہیں۔ دہشت گردی اب کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں دنیا بھر میں اس پر تشویش موجود ہے اور دنیا کے طاقتور ممالک مل کر ان اقدامات پر غور کر رہے ہیں جن کے ذریعے دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ، میونخ میں جو سیکیورٹی کانفرنس ہو رہی ہے اس کا مدعا و مقصود بھی یہی ہے کہ دہشت گردی پر کس طرح قابو پایا جا سکتا ہے، اس کانفرنس میں امریکہ اور یورپی ملکوں سمیت پاکستان اور افغانستان بھی شریک ہیں۔ عیسائی دنیا کے مذہبی اور روحانی رہنما پوپ فرانسس بھی یہاں موجود ہیں اور انہوں نے مغربی ملکوں کے سربراہوں کی موجودگی میں کھل کر کہا ہے کہ اسلامی دہشت گردی کا کوئی وجود نہیں۔ انہوں نے اسلام اور دوسرے مذاہب کے خلاف منفی پروپیگنڈے کی مذمت کی اور کہا کہ عیسائی و یہودی دہشت گردی کی طرح اسلامی دہشت گردی کا بھی کوئی وجود نہیں۔ پوپ فرانسس نے کہا کہ تمام مذاہب امن کی تبلیغ کرتے ہیں۔ مذہب کے خلاف اس طرح کا پروپیگنڈہ بند ہونا چاہیے۔ہر مذہب کے ماننے والوں میں انتہا پسندی کی جانب رجحان پیدا ہونے کا امکان پایا جاتا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ تشدد کے واقعات میں ملوث لوگوں کو یہ سمجھ آ جائے کہ خدا کو رحم اور ہمدردی پسند ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کی عیسائی برادری سے بھی اپیل کی کہ پاکستانی عوام کے لئے دعا کرے۔

پوپ فرانسس نے میونخ کی سیکیورٹی کانفرنس میں انتہائی مثبت اظہار خیال کیا ہے جس میں بطور مجموعی انسانیت کی فلاح کا جذبہ جھلکتا ہے گزشتہ روز جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور دہشت گردی کا منبع نہیں ہے۔ یہ سوچ اگر پوری دنیا میں پھیل جائے تو دہشت گردی پر قابو پانے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہے لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ دہشت گردی میں جو لوگ ملوث ہیں انہوں نے اپنا چہرہ بھی بگاڑا ہے اور اسلام کی روشن تعلیمات کو بھی دھندلانے کا باعث بنے ہیں لیکن اطمینان کا مقام یہ ہے کہ دنیا میں حالات کو سمجھنے والے رہنماؤں کی کمی نہیں اور وہ عالمی فورم پر کھل کر اس پر اظہار خیال بھی کرتے ہیں۔افغانستان اور پاکستان دومسلمان ہمسایہ ملک ہیں، دونوں کا کلچر بھی مشترک ہے۔ دونوں کی معیشت و معاشرت کا انحصار بھی ایک دوسرے پر بہت زیادہ ہے۔ سرحد کے دونوں جانب ایسے خاندان بھی بستے ہیں جن کی آپس میں رشتے داریاں بھی ہیں۔ پشتو زبان بھی افغانستان اور پاکستان کے ایک صوبے میں بولی جاتی ہے، اتنے زیادہ مشترکات کے باوجود اسے بدقسمتی ہی کہا جائے گا کہ دونوں ملکوں میں کشیدگی بڑھے۔ نیٹو کے ترجمان نے توجہ دلائی ہے کہ سرحد کے ساتھ ساتھ داعش کے ٹھکانے موجود ہیں اب سوال یہ ہے کہ ایسے ٹھکانے ختم کرنا کس کی ذمے داری ہے؟ اگر تو یہ ٹھکانے سرحد کے ساتھ افغان علاقے میں موجود ہیں تو ان کا خاتمہ کرنا افغان فورسز کا کام ہے اور اس جانب پاکستان نے کئی بار افغان حکام کی توجہ دلائی ہے لیکن یا تو افغان فورسز نے کوئی موثر کارروائی کی نہیں یا پھر اس سلسلے میں دانستہ تساہل برتا ہے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو ان لوگوں کا قلع قمع کرنا جو پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر ٹھکانے بنا کر بیٹھے ہیں دونوں ملکوں کا فرض ہے اور اگر دونوں تعاون کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان ٹھکانوں کا خاتمہ نہ ہو سکے، دہشت گردوں کو اسی وقت کامیابی ہوتی ہے جب ان کی سرگرمیوں سے صرفِ نظر کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے اندر حال ہی میں دہشت گردی کے جو واقعات ہوئے ہیں یا 2014ء اور 2015ء میں خیبرپختونخوا میں ہو چکے ہیں ان کے متعلق ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ ان میں افغان باشندے ملوث ہیں اور افغان سرزمین اس مقصد کے لئے استعمال ہوتی رہی اور ہو رہی ہے۔ پاکستان نے بار بار واضح کیا ہے کہ افغانستان کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے اور پاکستان افغانستان میں استحکام کے لئے کام بھی کر رہا ہے لیکن اس کے جواب میں پاکستان کو جو تعاون افغانستان سے ملنا چاہیے تھا وہ نہیں مل رہا۔ صدر اشرف غنی بھارت کی زبان بول رہے ہیں بلکہ انہوں نے تو امرتسر کانفرنس میں بھی پاکستان کے خلاف ایسی باتیں کر دی تھیں جنہیں نہ صرف کانفرنس کے دوسرے شرکاء نے تسلیم نہیں کیا تھا بلکہ بھارت اور افغانستان کے اس مشترکہ موقف کو رد کر دیا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کروا رہا ہے۔روس کے مندوب نے اس سلسلے میں یہاں تک کہا کہ پاکستان تو خود دہشت گردی کا شکار ہے اس لئے وہ ایسا کچھ نہیں کر سکتا، لیکن اب یہ بات کافی حد تک واضح ہو چکی ہے کہ بھارت نے اپنا اثرورسوخ کابل میں بہت زیادہ بڑھا لیا ہے اور مختلف افغان شہروں میں بھارتی قونصل خانے پاکستان میں تخریب کاری کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور تربیت یافتہ لوگ طورخم یا چمن کی سرحد سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، اسی وجہ سے لاہور، پشاور اور سیہون شریف میں دہشت گردی کے بعد یہ دونوں سرحدیں وقتی طور پر بند کرنا پڑیں۔ اب اس کا حل یہ ہے کہ دونوں ملک مل کر ایسا میکانزم طے کریں جس کے ذریعے دہشت گردوں پر نظر رکھی جا سکے اور وہ کسی بھی ملک میں کوئی کارروائی نہ کر سکیں۔

دہشت گردی کا مسئلہ اب دنیا کے ہر ملک کو درپیش ہے اور بظاہر جو ملک اب تک محفوظ چلے آ رہے ہیں انہیں بھی کسی وقت ایسا خطرہ ہو سکتا ہے اس لئے متحد ہوکر ہی کوئی اقدام کیا جا سکتا ہے۔ علاقائی ممالک کا اتحاد تو اس سلسلے میں بہت ضروری ہے۔ پاکستان اور بھارت بھی سارک کانفرنس کے رکن ہیں اور سارک میں دہشت گردی پر بھی بات چیت ہوتی رہتی ہے لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا معروضی حالات میں یہ بہت ضروری ہے کہ نہ صرف افغانستان اور پاکستان مل کر دہشت گردوں کا قلع قمع کریں بلکہ بھارت بھی اس سلسلے میں کردار ادا کرے۔ الزام تراشی کی روش سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اس سے دہشت گرد ہی فائدہ اٹھائیں گے۔ دہشت گردی اگر مشترکہ مسئلہ ہے تو پھر اس کا مقابلہ بھی متحد ہو کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ نیٹو ترجمان نے اس سلسلے میں افغانستان کو درست مشورہ دیا ہے اب نیٹو کے جرنیلوں کو چاہیے کہ وہ افغانستان میں اپنی موجودگی کا فائدہ اٹھا کر افغان حکام کو اس جانب راغب کریں تاکہ دہشت گردی پر مل کر قابو پایا جا سکے۔

درختوں کی کمی سے فضائی آلودگی کی خطرناک صورت حال

مزید :

اداریہ -