درختوں کی کمی سے فضائی آلودگی کی خطرناک صورت حال

درختوں کی کمی سے فضائی آلودگی کی خطرناک صورت حال

  

وطن عزیز میں آلودگی کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے،خصوصاً فضائی آلودگی میں اضافے کے باعث کئی مسائل بھرپور توجہ کے متقاضی ہوچکے ہیں۔ فضائی آلودگی کا مسئلہ بنیادی طور پر اس لئے اہمیت حاصل کر گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں درختوں کی کٹائی کے مقابلے میں درخت لگانے کی شرح میں فرق بہت زیادہ ہو چکا ہے۔ ہمارے ہاں روایتی انداز میں سال میں دو مرتبہ شجر کاری کا انتظام کیا جاتا ہے اور ملک بھر میں کروڑوں پودے لگانے کا اعلان کیا جاتا ہے جبکہ عوام کے تعاون کے بغیر لگائے جانے والے پودوں کی تعداد کافی کم ہوتی ہے۔سرکاری محکمے محض خانہ پرُی کرتے ہیں اور جو پودے لگائے جاتے ہیں ان کی دیکھ بھال کا فریضہ ادا نہیں کیا جاتا چنانچہ درختوں کی کمی پوری نہیں ہوتی۔ درختوں کی کمی کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ٹمبر مافیا سرکاری افسروں اور اہلکاروں سے مک مکا کر کے درختوں کی کٹائی کرتا رہتاہے۔اس کے علاوہ جنگلات سے لکڑی چوری کرنے والوں کی بھی کمی نہیں، اس کام میں بھی سرکاری افسر اور اہلکار اُن کی سرپرستی کرتے ہیں۔اصولی طور پر ہمارے ملک میں چار سے پانچ فیصد رقبے پر درخت موجود ہونا ضروری ہے لیکن اس وقت صرف دو سے اڑھائی فیصد رقبے پر جنگلات ہیں۔ گذشتہ پندرہ سولہ سال کے دوران ٹمبر مافیا نے خیبر پختونخوا میں بڑی بے دردی سے جنگلات کی کٹائی کر کے صوبے میں کئی پہاڑ یاں درختوں سے صاف کر دی تھیں جس پر عوامی اور سیاسی سطح پر آواز بلند کی گئی مگر حکومتی سطح پر اس کا نوٹس نہیں لیا گیا۔اسی طرح اسلام آباد میں بھی پہاڑیوں سے درختوں کی بہت زیادہ کٹائی ہوئی تو اعلیٰ عدلیہ نے سختی سے اس کا نوٹس لیا ،اس کے بعد کٹائی بند ہوئی۔ خیبر پختونخوا میں جنگلات کا صفایا ہونے پر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بہت احتجاج کیا تھا۔ گذشتہ سال انہوں نے اپنی پارٹی (تحریک انصاف) کی حکومت والے صوبے میں ایک ارب درخت لگانے کا اعلان کیا تاہم شجرکاری مہم کے دوران لگائے جانے والے نئے پودوں کی تعداد کم رہی۔آج اگر ان پودوں کو تلاش کیا جائے تو بہت کم تعداد میں دیکھے جاسکیں گے۔ درختوں کی کمی سے فضائی آلودگی کے علاوہ بارشوں کی کمی اور سیلاب سے بچاؤ نہ ہونے جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ لہٰذا شجر کاری پر بھرپور توجہ کی ضرورت ہے، کیونکہ فضائی آلودگی میں اضافے سے مختلف وبائی امراض کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔گردوغبار اور کاربن وغیرہ کی وجہ سے شہری مختلف امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ اس مسئلہ کوحکومتی سطح پر مکمل عوامی تعاون کے ساتھ پوری سنجیدگی سے توجہ دیتے ہوئے حل کرنے کی ضرورت ہے ۔

مزید :

اداریہ -