غیرملکی سرمایہ کاری:پاکستان کا چھٹا نمبر

غیرملکی سرمایہ کاری:پاکستان کا چھٹا نمبر

  

پاکستان میں دہشت گردی، معاشی بدحالی، توانائی بحران ، آئے روز کی ہڑتالوں، احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کے باعث جہاں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کار بے یقینی کی صورت حال سے دوچار تھے، وہیں اس تذبذب کا بھی شکار تھے کہ حکومت کی بدلتی پالیسیاں انہیں عمر بھر کی کمائی سے محروم نہ کر دیں، اسی خوف کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان آنے سے گھبرا رہے تھے اور ملکی تاجر اپنا سرمایہ لپیٹ کر دیگر ممالک کا رخ کر رہے تھے جس سے ملک کے بڑے اقتصادی شعبوں میں سرمایہ کاری نہ ہونے سے ملکی معیشت دیوالیہ پن کا شکار ہو گئی، تاہم موجودہ حکومت کی ٹھوس اقتصادی پالیسیوں ،امن و امان میں بہتری اور چینی سرمائے کی آمد سے معاشی ماحول ساز گار ہوا، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پُرکشش ترغیبات دی گئیں، جس سے نہ صرف چین کی نجی کمپنیوں، بلکہ دنیابھر کے نامورسرمایہ کاروں نے پاکستان کا رخ کیا جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔سی پیک کے تحت 54ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے بعد حال ہی میں چین کی نجی کمپنیوں نے بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ یہ کمپنیاں سیمنٹ، فولاد، توانائی، ٹیکسٹائل اور رئیل ا سٹیٹ جیسے دیگر اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہاں ہیں جو تقریباً 270ارب ڈالر پر محیط ہے اورپاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔اس سے قبل ایک چینی کنسورشیم کمپنی نے پاکستان سٹاک ایکس چینج کے 40 فیصدحصص خریدے اور شنگھائی الیکٹرک پاورکی توانائی تقسیم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک میں شراکت داری دی، جس سے 1.8ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، جبکہ چین کا باؤسٹیل گروپ، پاکستان سٹیل ملز کو 30 سال کے لئے لیز پر لینے کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے ۔علاوہ ازیں چینی کمپنی ’’علی بابا‘‘ کا شمار دنیا کی چند بڑی ای کامرس کمپنیوں میں ہوتا ہے جو ہر سال اربوں ڈالر کا کاروبار کرتی ہے۔ کمپنی کے چیئرمین جیک ما نے پاکستان کی چھوٹی صنعتوں کی معاونت سے ای کامرس پلیٹ فارم کی تشکیل میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے۔چینی کمپنیاں ٹیلی کام اور آٹو سیکٹر میں بھی سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہی ہیں اور’’ فا‘‘ اور’’ فوٹون‘‘موٹر گروپ پاکستانی مارکیٹ میں قدم رکھنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

پاکستان میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب اور آٹو پالیسی میں دی جانے والی مراعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے بڑے کاروباری گروپ عالمی کار ساز ادارے کے ساتھ اشتراک کرتے ہوئے ملک میں نئی گاڑیاں متعارف کرانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ملک کے ممتاز کاروباری ادارے ’’نشاط گروپ آف کمپنیز ‘‘نے جاپانی کمپنی Sojitzکے ساتھ معاہدے کے بعد جنوبی کوریا کی ’’ہنڈائی موٹر کمپنی ‘‘ (ایچ ایم سی) کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت طے کی ہے ،جس کے تحت پاکستان میں ہنڈائی کی پسنجر کاروں کے ساتھ ساتھ ایک ٹن کی رینج پر مشتمل کمرشل گاڑیاں بھی تیار کی جائیں گی۔ اس پراجیکٹ میں150سے 200ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے ۔علاوہ ازیں فرانسیسی کار ساز کمپنی ’’رینالٹ‘‘ بھی پاکستان میں گاڑیاں اسمبل کرنے کا پلانٹ نصب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے پرامریکہ کی جانب سے پاکستان کو طویل مدت کے کاروبار کے لئے سب سے موزوں ملک قرار دیا جا رہا ہے اور امریکہ کی 78فیصد کمپنیوں نے پاکستان میں نئی سرمایہ کاری کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ عالمی بینک نے بھی مالیاتی شعبے میں عوامی شرکت میں اضافے کے لئے حکومتی اصلاحات کو سراہتے ہوئے پاکستان کے تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اگر دوست ملک متحدہ عرب امارات کی بات کی جائے تو معروف تجارتی گروپ ’’الزرونی فاؤنڈیشن ‘‘ پاکستان میں مختلف منصوبوں میں 2.2ارب درہم کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، علاوہ ازیں اس گروپ نے پاکستان میں دبئی طرز کا ’’گولڈ ہاؤس سٹی ‘‘ اور ’’لائٹنگ سٹی‘‘ بنانے کے لئے پاکستان کے صف اول کے تعمیراتی ادارے ’’ڈی ایم گروپ ‘‘ سے باضابطہ اشتراک کر لیا ہے۔ پاکستان اپنے بہترین محل وقوع کی وجہ سے کاروباری حب بنتا جا رہا ہے اور پاکستان کا امیج بہتر ہو رہا ہے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کار خصوصاً یورپی ممالک پاکستان پرتوجہ مرکوز کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے جرمنی نے آٹو موبائل اور انرجی کمپنیوں کے لئے پاکستان کو موزوں ترین ملک قرار دیتے ہوئے پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

ڈچ کمپنی پاکستان کی ڈیری انڈسٹری کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے ، شعبے کی ترقی اور غذائیت سے بھرپور پراڈکس کی فراہمی کے لئے اینگرو فوڈز کے 51 فیصد حصص خریدکر 44کروڑ 80لاکھ کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ترکی نے پاکستان کو جنوبی ایشیا میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے بہترین ملک قرار دیا۔ فیصل آباد اور اسلام آباد ریجن میں مشروب تیار کرنے والے نئے پلانٹس کے قیام کے لئے 20کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ہے، جبکہ ترک کمپنی آرسلک بھی پاکستانی برانڈ ڈاؤلینس میں 28کروڑ 80لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کررہی ہے۔ گذشتہ مالی سال میں چین کے بعد پاکستان میں دوسری بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری ناروے کی جانب سے کی گئی ، تاہم اٹلی ، ہانگ کانگ سمیت دیگر یورپی ممالک کی طرف سے بھی براہ راست سرمایہ کاری میں کروڑوں ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ سپین سیاحت کے حوالے سے دنیا کا دوسرابڑا ملک ہے، جہاں ہر سال تقریباًساڑھے 7کروڑغیر ملکی سیاح جاتے ہیں ۔ سپین نے پاکستانی انفراسٹرکچر کو بہتر بناکر سیاحت کو فروغ دینے کے لئے سرمایہ کاری کی پیش کش کی ہے ۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے بعد بڑھتے ہوئے کاروباری رجحانات کے باعث 2007-08ء کے مقابلے میں 2015-16ء میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں تقریباً 14ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جس کے باعث آج دنیا کی معروف فنڈ مینجر ایمی کیمپینن۔۔۔ Fund Manager Emi Companion۔۔۔نے پاکستان کو سرمایہ کار کے لئے بہترین 6ممالک میں شامل کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی پُرکشش پالیسیوں سے غیر ملکی سرمایہ کاری فروغ پا رہی ہے ۔ سی پیک اور صنعتی زونز کے قیام سے جہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کا رخ پاکستان کی طرف ہوا، وہاں دنیا بھر کی بڑی بڑی اور معروف کمپنیاں یہاں اپنا سرمایہ لگانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ ان کامیابیوں کے باوجود ضرورت اس امر کی ہے کہ چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لئے مقامی تاجروں کو بھی پُرکشش مراعات اور ترغیبات فراہم کی جائیں تاکہ ان کو بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں سے شراکت داری کے مواقع میسر آسکیں۔

مزید :

کالم -