ایم فِل کانسٹیبل کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے دُہائی اور پھر ٹھکائی

ایم فِل کانسٹیبل کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے دُہائی اور پھر ٹھکائی
 ایم فِل کانسٹیبل کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے دُہائی اور پھر ٹھکائی

  

گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر ایک چاق و چوبند ہیڈ کانسٹیبل کی دس پندرہ منٹ کی بات چیت کے حوالے سے ایک ایسی ویڈیوچل رہی تھی، جس میں وہ میاں شہباز شریف سے کافی گلے شکوے کرتا دکھائی دیتا تھا۔ نہ تو کسی کو اس کا نام معلوم تھا اور نہ ہی پتہ۔ البتہ اب جب اس کے اپنے پولیس والوں نے اس کی نسبتاً صحیح طریقے سے ٹھکائی کی تو پتہ چلا کہ وہ بہاول پور میں پولیس کی ملازمت کر رہا ہے۔ چونکہ اس سے پہلے محکمہ تعلیم سے اور تدریس کے شعبے سے وابستہ رہا ہے اس لئے تمام تر سرکاری قواعد و ضوابط کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نے اپنے ساتھ روا رکھی جانے والی محکمانہ زیادتیوں کی روداد اور شکایت اپنے کسی بڑے افسر کو نہیں بلکہ کسی بے وقوف پولیسئے کی طرح اپنے سینئر افسروں کو برا بھلا کہنے کی بجائے صرف وزیر اعلیٰ پنجاب سے ہی اپنی تمام تر گزارشات کیں اور صرف سسٹم کا ہی رونا نہیں رویا بلکہ بتایا کہ گزشتہ سات ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں۔ کریانہ فروش اور دودھ کی دکان والے ادھار بھی نہیں دیتے اور جس محکمے میں وہ کام کرتا ہے یا اس نے سروس کی ہے اس کے اعلیٰ حکام کوئی نہ کوئی عذر بیان کر کے اُسے تنخواہیں نہیں دے رہے اور اسے بھوکا مارا جا رہا ہے۔ ایسے شوشے سامنے آئیں تو آج کل کے ٹی وی چینلوں کے لئے بھی یہ چٹکلوں کی حیثیت رکھتے ہیں لہٰذا ایک آدھ ٹی وی چینل نے اس عنوان کے ساتھ اس کی کتھا بیان کی ہے کہ آواز اُٹھانے پر ضمیر نامی کسی ڈی ایس پی نے اس کی ایسی ٹھکائی کرائی کہ دین محمد نامی اس سپاہی کو سرکاری ہسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ (طفرل ضمیر کا اگر ضمیر اچھا ہے تو اس ٹھکائی کے بعد وہ دین محمد کو اس کے واجبات بھی چندہ جمع کر کے دلوائے گابہر حال جو بھی ہوا اس سے اب ٹی وی چینل والے وزیر اعلیٰ پنجاب کو خواہ مخواہ گھیٹنے میں مصروف ہیں۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس کی ورکنگ کے بارے میں یہ خادم بہت قریب سے واقف ہے کیونکہ برس ہا برس تک اسے نوکری کے زمانے میں قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا رہا ہے لہٰذا میں قطعاً یہ بات تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ میاں شہباز شریف اس قسم کی چھوٹی موٹی ذاتی قسم کی شکایات یا باتوں پر کسی کو کارروائی کے لئے کہیں گے۔ اس سے کہیں زیادہ تابڑ توڑ حملے (بلکہ ذاتی حدود بھی پھلانگ کر) اُن پر پنجاب اسمبلی میں مخالف ارکان اسمبلی کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کبھی ایسی باتوں کا بُرا نہیں منایا بلکہ رانا ثناء اللہ ایسی تمام حرکات کا خود ہی ان کی طرف سے جواب گھڑ کر دیتے ہیں۔ یہ جو دین محمد نامی شخص کا معاملہ ہے، یہ ہو سکتا ہے کہ تین چار بچوں اور بیوی سمیت وہ بے چارہ واقعی کسی مشکل میں ہو اور اسے اس کے حل کرانے میں آسانی صرف اسی صورت دکھائی دی ہو کہ وہ اسے سوشل میڈیا پر لے آئے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وزیر اعلیٰ کی والدہ محترمہ کو ہی دین محمد کی مشکلات کا احساس ہو جائے اور وہی کچھ امداد اُنہیں بھجوا دیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی اور کار خیر میں دل چسپی رکھنے والا نیک دل شخص اس کی بھوک کو ٹالنے کے لئے اس کی کوئی مدد کر دے ۔ایسا بھی ممکن ہے کہ اس کے اپنے پیٹی بھائی یعنی پولیسئے پوری بہاولپور پولیس لائن اور رینج سے دین محمد کے لئے کچھ امداد اکٹھی کر کے اس کی امداد کو پہنچ جائیں۔ بہر حال یہ کام اور اس موضوع پر بہت سے مزید کالم شائع ہونے تک کوئی نہ کوئی مدد ضرور اس مار کھانے والے زخمی تک بطور زخموں کا مداوا پہنچ جائے گی۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اس نے جو گلے شکوے اپنے وڈیو پیغام میں کئے ہیں ان کی طرف توجہ کون دے گا۔

اس نے اپنے مختصر پیغام میں کہا ہے کہ پورے پنجاب میں میرٹ نہیں ہے۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں سے ڈگریاں حاصل کرنے والے فارغ پھر رہے ہیں اور سرکاری اداروں میں جو بھرتیاں کی جا رہی ہیں وہ سیاسی بنیادوں اور طاقتور سفارشیوں کی مرضی سے ہو رہی ہیں۔ افسر شاہی جسے کسی زمانے میں موجودہ وزیر اعلیٰ اور ان کے بڑے بھائی ہتھکڑیاں بھی لگوا دیتے تھے اب آہستہ آہستہ اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ سیکرٹری لیول کے لوگ بھی اب ذہنی سطح پر کلرکوں سے بھی کم تر حیثیت کی باتیں کرتے ہیں۔ انتظامی افسروں کی کمی تو 2008ء میں اس روز سے ہی شروع ہو گئی تھی جب موجودہ وزیر اعلیٰ نے چھ ہزار کے قریب اعلیٰ افسروں (18 سکیل سے 21 سکیل) کو جو صوبہ بھر میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر خدمات انجام دے رہے تھے ایک سیکنڈ میں فارغ کر دیا تھا۔ یہ کمی آنے والے دس برس میں شاید پوری ہو جاتی اگر اسی رفتار سے نئے افسران (سی ایس پی۔ پی سی ایس) باقاعدگی سے بھرتی کئے جاتے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ سی ایس پی کے امتحانات اور پی سی ایس کے سالانہ امتحانات کے نتائج اس قدر ہولناک آنا شروع ہو چکے ہیں کہ 30 فیصد لوگ بھی امتحان پاس نہیں کرتے۔ جتنی تعداد میں ہر سال افسروں کی ضرورت پڑتی ہے، اس سے آدھی تعداد میں بھی نئے افسران بھرتی نہیں ہو پاتے۔ وفاقی یا کوئی بھی صوبائی حکومت اس ضمن میں کوئی ایمرجنسی قدم بھی نہیں اُٹھا رہی، ورنہ جب 1971ء میں جنگ کے بعد پاک فوج کے ہزاروں جوان اور افسران بھارت کی قید میں چلے گئے تھے تو اس اڑھائی برس کے عرصے میں فوج نے ایمرجنسی کے طور پر فوج میں کافی نئی بھرتیاں کی تھیں اور بھرتی شدہ نئے جوانوں کے لئے تربیت کا عرصہ بھی ڈھائی برس سے کم کر کے ایک برس کر دیا تھا تاکہ کمی فوراً پوری کی جا سکے۔

صوبہ پنجاب کی آج کی حالت یہ ہے کہ ایک افسر کئی کئی آسامیوں پر بطور ایڈیشنل چارج کام کر رہا ہے اور پھر بھی بہت سے نئے محکمہ جات وجود میں آنے کی بدولت افسروں کی سخت کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے لئے نہ تو ہنگامی حالات پر غور کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ہنگامی طور پر کوئی قدم اٹھا کر اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔سوشل میڈیا پر تو شاید دین محمد جیسے اور بھی بہت سے سرکاری ملازمین اپنی ملازمت کو خطرے میں ڈال کر اپنے ساتھ روا رکھی جانے والی نا انصافیوں کو سامنے لاتے رہیں گے لیکن حکومت کم از کم اس ہیڈ کانسٹیبل کے ایم فل ہونے کے حوالے سے اسے تو کوئی ڈھنگ کی نوکری دے دے۔ جس صوبے میں 25 ہزار پرائمری سکولوں میں میٹرک اُستاد ہیں، کم از کم وہاں ایسے کسی شخص کو افسر ہی بنا دیں یا پولیس میں ہی کوئی بہتر آسامی پر اسے لگا دیں تاکہ یہ عمر بھر نہ تو یہ رونا رو سکے کہ بجلی کٹ گئی ہے، گیس کٹ گئی ہے۔ سکولوں سے بچوں کو نکالنے کا نوٹس آگیا ہے اور محلے کا دودھ والا یا کریانہ والا، سودا سلف نہیں دے رہا۔ اگر کوئی ڈھنگ کا شخص اچھے مشورے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں اُنہیں دے رہا ہے تو اس سے ہی مشورہ کر کے دین محمد کے حوالے سے ہی کوئی نام کمالیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔۔۔ میاں نواز شریف تو 80کی دہائی میں مری آتے جاتے پتھر توڑنے والے مزدوروں کے ساتھ بھی روٹی کھانے بیٹھ جاتے تھے۔ (جب دوپہر کو روٹی کے وقت مزدور اکٹھے ہو کر ساتھ ساتھ روٹی کھا رہے ہوتے اور اتفاق سے اس وقت میاں نوازشریف وہاں سے گزر رہے ہوتے تھے۔) آج بھی سارے مری کے لوگ اس حوالے سے انہیں یاد کرتے ہیں، بلکہ نسل در نسل یاد کرتے آ رہے ہیں۔

مزید :

کالم -