ہمیشہ دیر کر دیتے ہیں ہم!

ہمیشہ دیر کر دیتے ہیں ہم!
 ہمیشہ دیر کر دیتے ہیں ہم!

  

جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں لاہور کا وہ خودکش دھماکا جس میں 15افراد شہید ہوئے اور جس میں پولیس کے دو سینئر آفیسرز بھی شامل تھے، پنجاب میں انسدادِ دہشت گردی کے پرانے اور نئے ڈاکٹرنیز کے درمیان ایک واٹرشیڈ تھا۔پرانا ڈاکٹرین وہی تھا جس کی طرف میں نے گزشتہ کالم میں اشارہ کیا تھا کہ صوبائی حکومت اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان ایک ’’خاموش سمجھوتہ‘‘ تھا جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ تم ہمیں نہ چھیڑو، ہم تمہیں نہیں چھیڑیں گے۔۔۔ لیکن نیا ڈاکٹرین یہ ہے کہ تم نے ہمیں چھیڑا ہے اس لئے ہم بھی اب تمہیں چھیڑیں گے۔ وگرنہ صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کیا پہلے نہیں ہوتے تھے؟ اب اس اجلاس میں اچانک یہ فیصلہ کرنا کہ وزیراعلیٰ پنجاب رینجرز کو بھی طلب کریں گے اور ضرورت پڑی تو ریگولر فوجی دستوں کو بھی ’’برداشت‘‘ کیا جائے گا، ایک صریح واٹر شیڈ اور ایک واشگاف خطِ تقسیم ہی تو ہے!

لاہور کے سانحہ میں ایک ڈی آئی جی اور ایک ایس ایس پی کا شہید ہو جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ دہشت گرد تنظیمیں اپنے ان خوابیدہ گروپوں (Sleeping Cells) کو جگا چکی ہیں جن کو اسی لمحے کے لئے تیار رہنے کو کہا گیاتھا۔ بعض لوگ اسے حافظ سعید کی نظر بندی کے شاخسانے کی طرف لے جاتے ہیں اور بعض جماعت الاحرار کی طرف۔ لیکن سہیون شریف کے دھماکے میں 88لوگوں کا مارا جانا اور 350 کا زخمی ہو جانا اور اس کی ذمہ داری کو آئی ایس (داعش) کی طرف سے قبول کیا جانا ایک ایسے بڑے خطرے کی طرف اشارہ ہے جو گزرے کل میں اگر سندھ میں ہوا تو آنے والے کل میں پنجاب میں بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ داعش قبل ازیں اکا دکا اور معمولی قسم کے دھماکوں میں ملوث رہی ہے لیکن لال شہبازقلندرؒ کی دھمال والے حملے کی پلاننگ محض پاکستانی داعش کی پلاننگ نہیں کہی جا سکتی۔ میرے خیال میں یہ کئی دہشت گرد تنظیموں کا اجتماعی منصوبہ تھا جسے بڑے غور و فکر کے بعد بروئے عمل لایا گیا۔

لاہور والے حملے کے سہولت کاروں اور ماسٹر مائنڈوں کا تعلق دیر اور باجوڑ سے ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ دہشت گردی افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر واقع افغانستان کے تین چار صوبوں میں اجتماعی طور پر پلان کی گئی ایک سکیم کے تحت عمل میں آئی۔ آرمی چیف کا بیان کہ وہ ان حملوں کا انتقام لیں گے،پھر ان کا کابل میں جنرل نکلسن کو فون کرنا اور پھر پاکستان آرمی کی طرف سے یہ دعویٰ کرنا کہ افغانستان کے اندر سرجیکل سٹرائیک کرکے 100 سے زیادہ دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا جا چکا ہے اور پھر میڈیا پر پاکستان کی طرف سے افغانستان کے علاقوں پر بمباری کرنا اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کے بعد گردوغبار کے مرغولے اٹھتے دکھانا اور افغان دہشت گردی کی لاشوں کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا ایسے واضح ثبوت ہیں کہ قبل ازیں اسی قسم کے شواہد میڈیا پر کم کم دیئے اور دکھائے جاتے تھے۔ اب پاک فوج کے اعلیٰ ترین حلقوں کی جانب سے ان کارروائیوں کا مطلب یہ ہے کہ وہ لمحہ آن پہنچا ہے جب پاکستان کو خواہی نخواہی یہ تلخ گولی نگلنا ہی پڑے گی۔

پاکستان کو پہلے بھی معلوم تھا کہ کابل، قندھار اور ہلمند وغیرہ میں امریکن ٹروپس موجود ہیں، پہلے بھی معلوم تھا کہ افغان نیشنل آرمی کو جدید امریکی اسلحہ پر ٹریننگ دی جا رہی ہے، پہلے بھی معلوم تھا کہ امریکہ اس جنگ میں کئی بلین نہیں کئی ٹریلین ڈالرز جھونک چکا ہے اور اپنے ہزاروں ٹروپس مروا چکا ہے، پہلے بھی معلوم تھا کہ افواجِ پاکستان، امریکن افواج کا مقابلہ نہیں کر سکتیں تو اب اگر پاک آرمی نے اپنے بوٹ سرحد کے پار نہیں بھیجے اور صرف گولہ باری پر اکتفا کی ہے تو کیا یہ ایک بہت بڑا، خطرناک اور تخت یا تختہ والا اقدام نہیں ہو سکتا؟۔۔۔ ہماری سرحد کے اس پار انڈیا، امریکہ اور افغانستان کے ٹروپس، سرمایہ اور اسلحہ و گولہ بارود سب کچھ موجود ہے۔ اگر کل کلاں پاکستان کی طرف سے یہ ’’سرجیکل سٹرائیک نما‘‘ حملے جو لانچ کئے گئے ہیں، ان کا جواب آتا ہے تو کیا یہ سرجیکل سٹرائیک ایک بڑی جنگ میں تبدیل نہیں ہو سکتی؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان نے یہ گولہ باری آنے والے طوفان کو ذہن میں رکھ کر کی ہے؟۔۔۔ اگر ایسا ہے تو ہم پاکستانیوں کو خوابِ غفلت سے بیدار ہونا ہو گا۔ ہمارے اس خطے میں اگر امریکہ نے انڈیا اور افغانستان کے ترازو میں اپنا عسکری وزن بھی ڈال دیا تو اس کے نتائج ناقابل بیان ہو سکتے ہیں۔ مجھے شک سا ہے کہ اپیکس کمیٹی میں یہ مباحث اور امکانات ضرور زیر بحث لائے گئے ہوں گے۔ اور میرا شک یہ بھی ہے کہ انہی امکانات کے پیش نظر پنجاب حکومت نے بالآخر رینجرز اور آرمی دستوں کی امکانی انڈکشن کا عندیہ دیا ہوگا۔

جنرل راحیل شریف کے ریٹائر ہونے کے بعد اور ضربِ عضب کی جزوی کامیابی کے بعد،خودکش دھماکوں کی یہ نئی لہر جو 13فروری والے لاہوری دھماکے سے شروع ہوئی ہے وہ ضرب عضب دوم کی شروعات ہو سکتی ہیں۔ لیکن ضرب عضب اول میں شمالی وزیرستان کی آبادیوں کو جس کرب و بلا کا سامنا کرنا پڑا تھا اس سے ہم سب واقف ہیں۔ اور اگر ان زخموں کا اندمال اب تک نہیں ہوسکا تو یہ ضرب عضب دوم اگر شروع ہوگیا تو اس کی زد میں ایسے گنجان آباد شہری علاقے بھی آئیں گے جو شمالی وزیرستان کے کوہستانی اور کم گنجان علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدت سے متاثر ہوں گے اور تباہی و بربادی کا ایک نیا سکیل دیکھنے کو ملے گا۔۔۔۔ انڈیا اور افغانستان شائد اس لمحے کو دیکھنے کے انتظار میں ہیں!

مجھے حیرت ہے کہ جب لاہور کا دھماکا ہوا تو پنجاب پولیس نے فوراً ہی ملزم کا ’’کھُرا‘‘ نکال لیا اور دہشت گردی کے نیٹ ورک کو توڑ (Busted) ڈالا۔ جناب وزیر اعلیٰ نے جمعہ کو اپنے ماڈل ٹاؤن والے دفتر میں ایک طویل پریس کانفرنس بھی کی جس میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی (CTD) اور انٹیلی جنس بیوروکے افسروں اور اہلکاروں کو دل کھول کر داد دی کہ انہوں نے بڑی ’’سرعت اور پیشہ ورانہ تندہی‘‘ سے اس حملے کے مقامِ تولید کا سراغ لگالیا ہے جو افغانستان میں تھا اور اس انوار الحق کا اعترافی بیان بھی اخباری نمائندوں کے سامنے پردۂ سکرین پر دکھا دیا گیا جو اس سانحہ کا ہینڈلر بتایا جاتا ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ وزیر اعظم جلد ہی ملک کے وزرائے اعلیٰ کا ایک مشترکہ اجلاس بلائیں گے اور ایک مشترکہ حکمت عملی طے کریں گے۔۔۔۔

یہ سب اقدامات بے شک جرات آزما اور امید افزا ہیں۔ خدا کرے ایسا ہو اور پاکستان بہت جلد دہشت گردی کی چنگل سے نجات حاصل کرے۔ لیکن میرے ذہن میں بار بار سوال اٹھتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہم پاکستانی ایک بڑے حادثے اور عظیم سانحے کے بعد ہی ایسی ’’پھرتیاں‘‘ دکھاتے ہیں اور ایسے امید افزا اور حوصلہ بخش بیانات دیتے ہیں۔ ۔۔۔ کیا وہ بد نصیب جو لاہور اور سہیون شریف کے حادثوں میں شہیدہوئے وہ واپس آسکتے ہیں ؟۔۔۔ کیا وہ زخمی جو موت و حیات کی کشمکش میں گرفتار ہیں کیا ان کے دکھ کا مداوا ہو سکتا ہے؟ ۔۔۔کیا وزیر اعظم، آرمی چیف اور نیوی چیف، ہسپتالوں میں جاکر جاں بلب زخمیوں کو پھر سے وہی صحت اور توانائیاں لوٹا سکتے ہیں جو ان سانحات سے پہلے ان کے جسم و جاں کا حصہ تھیں؟۔۔۔ کیا ایک کروڑ یا دس کروڑ روپے فی کس ادا کر کے شہدا کے لواحقین کے وہ زخم بھرے جاسکتے ہیں جو ان کے ساتھ ساری زندگی رہیں گے؟۔۔۔ ان لواحقین نے ایک کروڑ یا 25لاکھ یا 10لاکھ کو لے کر کیا کرنا ہے؟ ۔۔۔سوال یہ ہے کہ اسی ’’محکمہ انسداد دہشت گردی‘‘ (CTD) اور انٹیلی جنس بیورو والوں نے حادثے سے پہلے کسی انورالحق اور اس کے کسی باجوڑی بھائیوں کو کیوں نہیں پکڑا؟ کیا امر مانع تھا کہ ہم فوجی عدالتوں کی مخالفت کرتے رہے( اور اب بھی لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں) لیکن میرا خیال ہے کہ اب شائد ہفتہ دس دن بعد ساری سیاسی جماعتوں کو ’’راضی‘‘ کرلیا جائے اور ملٹری کورٹس کی توسیع کا تلخ، گھونٹ بھی پی ہی لیا جائے گا۔۔۔ جب بندریا کے پاؤں چلچلاتی دھوپ میں جلتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کو پاؤں تلے بچھانے سے گریز نہیں کرتی!

13فروری کو جو کچھ لاہور میں ہوا وہ اگر خدا نہ کرے کراچی کے ماضی کے تین برسوں کی طرح یہاں بار بار دہرایا جانے لگے، ٹارگٹ کلنگ کا کلچر پنجاب کے بڑے بڑے شہروں میں بھی آجائے تو کیا ہم تب بیدار ہوں گے؟۔۔۔ سہیون شریف کی طرح کے بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ عظیم الشان مزارات اور خانقاہیں پنجاب کے کئی شہروں میں موجود ہیں۔ اگر کل کلاں کوئی ’’داعش‘‘ وہاں بھی اپنی مذموم حرکات دہراتی ہے تو کیا ہم اس کے بعد ہی آرمی ’’وغیرہ‘‘ کو آواز دیں گے؟ ۔۔۔نجانے منیر نیازی کی طرح ہم ہمیشہ دیر کیوں کردیتے ہیں!

مزید :

کالم -