2017جرمنی سے ملک بدریوں کا سال ہے، وزیرچانسلر آفس

2017جرمنی سے ملک بدریوں کا سال ہے، وزیرچانسلر آفس

  

میونخ(این این آئی)جرمن چانسلر آفس کے وزیر پیٹر آلٹمائر نے کہاہے کہ رواں برس تارکین وطن کو جرمنی سے ایک ریکارڈ تعداد میں ملک بدر کر کے ان کے آبائی وطنوں کی جانب بھیج دیا جائے گا۔جرمن اخبار کو انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ اس سال بڑی تعداد میں تارکین وطن کو جرمنی سے ملک بدر کیا جائے گا۔آلٹمائر کا کہنا تھاکہ گزشتہ برس اسّی ہزار سے زائد ایسے تارکین وطن کو جرمنی سے ملک بدر کر کے واپس ان کے آبائی ممالک کی جانب بھیج دیا گیا تھا جن کی جرمنی میں جمع کرائی گئی سیاسی پناہ کی درخواستیں رد کر دی گئی تھیں اور موجودہ سال میں یہ تعداد ایک ریکارڈ حد تک پہنچ جائے گی۔چانسلر آفس کے وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سب سے پہلے اور فوری طور پر ایسے پناہ گزینوں کو جرمنی سے ملک بدر کیا جائے گا جو جرائم میں ملوث ہیں۔

اور جو جرمنی کی قومی سلامتی کے لیے خطرناک ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر ان تارکین وطن کو فوری طور پر واپس نہ بھیجا گیا تو ملکی قوانین کی ساکھ خطرے میں پڑ جائے گی۔جرمنی میں ’ملک بدری کے خصوصی مراکز‘ قائم کرنے کی تجویز بارے چانسلر آفس کے وزیر کا کہنا تھا کہ یہ مراکز ملک بدر کرنے میں کافی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہم نے اکثر یہ دیکھا ہے کہ تارکین وطن درخواستیں مسترد ہونے کے بعد واپس جانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، لیکن جب واپسی کا وقت آتا ہے تو ان میں سے آدھے سے بھی زائد واپس نہیں جاتے۔انہوں نے کہاکہ میری رائے میں ریاستوں کی جانب سے انفرادی طور پر ملک بدری کا عمل روکنا غلط ہے۔ افغانستان میں ایسے علاقے اور شہر بھی ہیں جہاں امن ہے اور افغان پناہ گزین وطن واپسی کے بعد وہاں قیام کر سکتے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -