کوئلے کی درآمد پر سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی ختم کرنیکی کوشش کر رہے ہیں : خرم دستگیر

کوئلے کی درآمد پر سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی ختم کرنیکی کوشش کر رہے ہیں : خرم ...

  

فیصل آباد(بیورورپورٹ )وفاقی وزیر تجارت انجینئرخرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات بڑھانے ٗ خصوصی پیکیج کے تحت مصنوعات کی پیداواری لاگت میں کمی ٗنان بجٹری پیکیج کو 30 جون تک غیر مشروط رکھنے ٗ گیس کی قیمتوں میں پایا جانے والا فرق دور اور کوئلے کی درآمد کا مسئلہ بجٹ میں حل کرنے کیلئے بھر پور اقدامات کئے جارہے ہیں جبکہ وزیراعظم کی ہدایات کے پیش نظر ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے درست استعمال اور کوئلے کی درآمد پر سیلز ٹیکس و کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے نیز حکومت کے درست سمت میں مثبت اقدامات سے معیشت مستحکم ہوئی ہے۔وہ پیر کے روز یہاں پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے،وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کے ٹیکسٹائل پیکیج کا بڑا مقصد پیداواری لاگت میں کمی لانا ہے کیونکہ یہ ایک نان بجٹری پیکیج ہے جو کہ رواں مالی سال کے اختتام 30جون تک غیر مشروط ہے۔انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبہ بالخصوص ٹیکسٹائل ایکسپورٹ سے متعلقہ مصنوعات تیار کرنے والی انڈسٹری کیلئے گیس کی قیمت کے فرق میں کمی لانے کیلئے وزیر پٹرولیم سے بات ہورہی ہے اسی طرح کوئلے کی درآمد کا مسئلہ بجٹ میں حل ہوجائے گاکیونکہ کوئلے کی درآمد پر سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ چونکہ کوئلے کو متبادل توانائی کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے اس لئے صنعتی شعبہ کو سستے کوئلے کی فراہمی کیلئے تمام ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ انڈسٹری کا پہیہ رواں دواں رہے اور صنعتیں اپنی بھر پور گنجائش کے مطابق پروڈکشن دے سکیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف اس پیکیج کیلئے انتہائی سنجیدہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ معیشت مستحکم ہے اور حکومت کے درست سمت میں مثبت اقداما ت کے باعث مشکلات دور ہو رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ری فنڈ کی بحث سے آگے چلنا اور ملک و قوم کی ترقی کا سوچنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کا اصل استعمال کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر جو پراجیکٹ لاتے ہیں ان کی ویلیوایشن ہوتی ہے لیکن آج تک کسی بھی چیمبر نے ایک بھی قابل عمل پراجیکٹ نہیں دیا ۔ انہوں نے لاہور میں ایکسپو کے پراجیکٹ کی تعریف کی ۔

انہوں نے کہا کہ جب وزیراعظم نواز شریف نے اقتدار سنبھالا تواس وقت ملک کو بے شمار مسائل درپیش تھے جن میں لوڈشیڈنگ ٗ غیر مستحکم معیشت اور دیگر سنگین مسائل بھی شامل تھے لیکن حکومت نے اپنی فہم و فراست کے مطابق اپنے انتخابی وعدوں پر عمل کرتے ہوئے ان مسائل کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے جبکہ توانائی کا بحران بھی اس سال کے آخر تک ختم ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے میں 70 فیصد انرجی کے منصوبے شامل ہیں کیونکہ اگر بجلی و گیس دستیاب ہوگی تو اقتصادی راہداری کے ساتھ صنعتی بستیوں کا قیام عمل میں آسکے گاجس سے برآمدات میں اضافہ ٗ درآمدات میں کمی ٗ عوامی خوشحالی ٗ معاشی استحکام ٗ اقتصادی ترقی اور غر بت و بے روزگاری ختم ہوسکے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال کے آغاز تک پشاور سے کراچی تک موٹروے مکمل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا دل آپ کے ساتھ دھڑکتا ہے ، ایکسپورٹرز کو اپنے اندر اعتماد پیدا کرنا ٗ وزیراعظم کے پیکیج سے بھر پور فائدہ اٹھانا اور ملکی معیشت کو بڑھانے کیلئے برآمدات میں اضافہ کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے لیکن آنے والے وقت میں اس کا تدارک کر دیا جائے گا ۔انہوں نے برآمد کنندگان سے کہا کہ وہ ری فنڈ کے درست اعداد و شمار فراہم کریں کیونکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور پٹیا کے اعداد و شمار میں بہت زیادہ فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ درست اعداد و شمار ملنے پر وہ وزیراعظم اور وزیر خزانہ سے ری فنڈ کلیمزکی جلد ادائیگی کیلئے بھی گزارش کریں گے۔ قبل ازیں چیئرمین پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹر ایسوسی ایشن اجمل فاروق نے سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نواز شریف اور اقتصادی ترقی کیلئے کوشاں ان کے تمام رفقاء کا برآمدات کے فروغ کیلئے 180 ارب روپے کے مراعاتی پیکیج کے اعلان پر شکریہ اداکیا۔انہوں نے کہا کہ تجارت کے فروغ کیلئے ٹیکسٹائل برآمدات پر ڈیوٹی ڈرابیک کی فراہمی ٗ مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد اورکاٹن امپورٹ پر کسٹم و درآمدی ڈیوٹی کی چھوٹ جیسے اقدامات ملک میں اقتصادی و صنعتی انقلاب کے حکومتی وژن کی تکمیل کی طرف مثبت قدم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مراعاتی پیکیج کی تیاری اور اعلان تک بھر پور سپورٹ اور متحرک کردار پر وہ وزیر تجارت خرم دستگیرکے بھی بے حد مشکور ہوں جن کی خصوصی دلچسپی اور انتھک محنت سے یہ سب ممکن ہوسکا ۔انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ملکی مصنوعات کی یورپی ممالک تک ڈیوٹی فری رسائی اور جی ایس پی پلس کے حصول میں موصوف کی جدوجہد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور یہ اسی محنت کا ثمر ہے کہ آج یورپی مارکیٹ میں جی ایس پی پلس کے باعث دیگر ممالک سے مسابقت کسی حد تک ممکن ہوسکی ہے۔انہوں نے کہا کہ پٹیا امید کرتی ہے کہ اسی لگن اور دلچسپی کے ساتھ حکومت کے مراعاتی پیکیج میں متعارف کروائی گئی سکیموں کے عملی نفاذ اور مراعات کی ادائیگی کیلئے ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں گے تاکہ پاکستان کو معاشی استحکام کے حوالے سے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا جاسکے۔ انہوں نے یہ بھی توقع ظاہر کی کہ حکومت نئے مالی سال 2017-18ء کے بجٹ میں صنعتی ٗ کاروباری ٗتجارتی ٗ درآمدی ٗ برآمدی تنظیموں کی جانب سے پیش کی گئی قابل عمل سفارشات کو پیش نظر رکھے گی تاکہ یہ شعبہ اپنے مسائل کے تدارک کے باعث ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

مزید :

کامرس -