منفرد موضوع کی ٹیلی فلم’’ دل محلہّ‘‘

منفرد موضوع کی ٹیلی فلم’’ دل محلہّ‘‘

  

حسن عباس زیدی

سینما سکرین کے ساتھ ساتھ ٹی وی کے لیے بھی نئی نسل کچھ نیا کر گزرنے کے لیے پرعزم ہے اور اسی عزم کی مثال ایک مختلف قسم کی کامیڈی ٹیلی فلم ’’دِل محلہ ‘‘ہے۔ اس ٹیلی فلم کے ذریعے کوشش کی گئی ہے کہ سنجیدہ کامیڈی کا پرانا دور واپس لایا جائے جو کہ پاکستان کا طرہ امتیاز سمجھا جاتا تھا۔ٹیلی فلمز کی بھرمار میں کچھ نیا دکھانے کے لئے واقعی کچھ نیا کر دکھانا پڑتا ہے۔ڈائیریکٹر احمد زمان جو کہ اس فلم سے پہلے ڈراما، ویڈیو، کمرشل اور فلم کا تجربہ رکھتے ہیں نے اس فلم میں بہت سے نئے تجربے کئے ہیں۔ مثلا فلم کے ہر سین میں انہوں نے دو تین مُوڈز رکھے ہیں جو کہ بہت مشکل ہوتا ہے اس کے علاوہ ٹیلی فلم کے ہر سین کی خاص بات یہ ہے کہاسے اگر فلم سے الگ بھی دیکھا جائے تو وہ اپنی جگہ مکمل لگتا ہے۔ یعنی ہر سین اپنی جگہ علیحدہ کہانی بیان کرتا ہے۔ سب سے مشکل کام نئے فنکاروں کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے۔احمد زمان ایکٹنگ بھی کر چُکے ہیں مگر ان کا کہنا ہے کہ ایکٹنگ سے زیادہ مشکل ڈائیریکشن ہوتی ہے۔کیونکہ اداکاری کے دوران صرف اپنے کردار پر فوکس کرنا پڑتا ہے جبکہ ڈایئریکٹر کو چھوٹے سے چھوٹے معاملے پر نظر رکھنا پڑتی ہے۔اور شوٹنگ کے دوران مختلف سچوئیشن پر فوری ایکشن لینا پڑتا ہے۔ باقی ہمارے ایسوسی ایٹ ڈائیریکٹر شاہد حُسین نے ہر مشکل میں بہت ساتھ دیا ۔ ایسوسی ایٹ ڈائیریکٹر ، رائٹرٹیلی فلم’’ دِل محلہ‘‘ کا کریو بہت مختصر تھا۔ فلم کے رائٹر اور ایسوسی ایٹ ڈائیریکٹر شاہد حُسین نے فلم میں کردار نگاری بھی کی یے۔ ڈبّہ پیر سخاوت کا کردار اس خوبی سے نبھایا ہے کہ بقول ڈائریکٹر احمد زمان کے ناظرین ان کے کردار سے نفرت کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ شاہد حُسین کے لکھے ہوئے چُست اور برجستہ مکالموں کی خاص بات یہ بھی ہے کہ فلم کی کہانی انہی مکالموں کے تانے بانے میں لپٹ کر اس طرح آگے بڑھتی ہے کہ کوئی مکالمہ بھی فلم سے نکالا نہیں جا سکتا۔فلم دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے لوکیشنز کے حوالے سے کوئی سمجھوتا نہیں کیا گیا۔ہر سین میں لوکیشن بھی ایک کردار کی طرح پُوری طرح دکھائی دیتی ہے۔ گلی ، محلے،گھر الغرض جہاں جہاں شُوٹ کیا گیا ہے اس جگہ کی خوبصورتی اور کلچر کو پوری طرح ایکسپوز کیا گیا ہے۔ فلم دیکھنے والوں نے پاکستان کی ثقافتی لُک کو سراہا ہے ۔فلم کی کاسٹ روائتی انداز میں نہیں کی گئی بلکہ نئے چہروں کو موقع دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ سب کرداروں کو مناسب فوٹیج دی گئی ہے۔ علی حسنین، اُسامہ غیّور اختر ،اورنگ زیب عالمگیر، اِقراء قیصر،ظفر اِقبال، شاہد حُسین، لُبنٰی اور کشمالہ کے کردار یکساں اہمیت کے ہیں جبکہ مہمان کرداروں میں ناصر محمود فریدی، سجاد اور چائلڈ آارٹسٹوں زائرہ شاہد اور محمد رافع نے بھی بیترین پرفارمنس دی ہے۔فلم کا ٹائیٹل سونگ اور بیک گراوٗنڈ میوزک ناظرین کوپوری طرح اپنی گرفت میں لینے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ فلم میں ساوٗنڈ ایفکٹس کا استعمال بہت مہارت سے کیا گیا ہے جس کے لئے فلم کے ایڈیٹر امان علی بٹ تعریف کے مستحق ہیں۔ کُل ملا کر یہ فلم ناظرین کے لئے فُل اینٹرٹیننگ ثابت ہوئی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -