70ہزار دو نوکری لو ، ریلوے ورکشاپس ڈویژن میں غیر قانونی بھرتیاں ، امید وار سراپا احتجاج

70ہزار دو نوکری لو ، ریلوے ورکشاپس ڈویژن میں غیر قانونی بھرتیاں ، امید وار ...

  

 لاہور(بلال چوہدری)ریلوے ورکشاپس ڈویژن میں قوائد و ضوابط کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے من پسند اور مبینہ طور پر 70ہزار فی بھرتی رشوت لیکر عارضی ملازمتوں میں بھرتیاں کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔ ریلوے حکام کی جانب سے ایسی من مانیوں کے خلاف ہنر مند اور میرٹ پر پورا اترنے والے امیدواروں نے ریلوے کیرج ورکشاپ کے سامنے مظاہرہ بھی کیا جبکہ ان کا ساتھ ریلوے ملازمین نے بھی دیا ۔نمائندہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کارپینٹر ،ویلڈر اور دیگر پوسٹس پر بھرتی ہونے والے امیدواروں آصف خان ،محمد عصام ،محمد اشتیاق اور دیگر مظاہرین نے موقف اختیار کیا کہ ٹی ایل اے سٹاف کارپینٹر ،فٹر اور ویلڈر کے لئے بھرتیاں چند روز قبل کھلی تھیں جس پر انہوں نے اپنے کوائف جمع کروائے اور ٹیسٹ میں پاس ہو کر وہ انٹر ویو تک پہنچ گئے۔مظاہرین نے بتایا کہ جب لسٹیں آویزاں کی گئیں تو انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ 200آسامیوں پر صرف 78امیدواروں کو شارٹ لسٹ کر کے بھرتی کر لیا گیا ہے جبکہ کل 800کے قریب امیدواروں نے اس حوالے سے اپنے کوائف جمع کروائے تھے ۔ناکام ہونے ہونے والے امیدوارو ں کے مطابق کئی با اثر افراد کے جاننے والوں کو بھرتی کر لیا گیا ہے جبکہ سیاسی سفارشات پر بھی بھرتیاں کی گئی ہیں ۔ان کے مطابق کیرج ورکشاپس کے عملہ سے انہوں نے لسٹیں آویزاں ہونے کے بعد گفتگو کی تو انہوں نے فی آسامی 70ہزار روپے کی ڈیمانڈ کر لی کہ 70ہزار روپے دے دو تونام لسٹ میں ڈال دیا جائے گا ۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ کئی ایسے افراد کو بھرتی کر لیا گیا ہے جن کو آلات کا پتہ ہی نہیں یہاں تک کہ انہوں نے کار پینٹر،ویلڈنگ اور فٹر کے کام میں استعمال ہونے والے آلات کو کبھی دیکھا بھی نہیں ہے ۔ریلوے حکام کی جانب سے فائنل کئے گئے امیدواروں کی لسٹیں آویزاں کئے جانے کے بعد ناکام ہونے والے امیدواروں نے ریلوے کیرج شاپ کے سامنے شدید احتجاج کیا جبکہ ریلوے ملازمین نے بھی ان کا ساتھ دیا ۔ملازمین کا کہنا تھا کہ حکام بے ہنر افراد کو ملی بھگت کر کے بھرتی کر لیتے ہیں جن کے ساتھ ان کو کام کرنے میں شدید مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کو سب کچھ سکھانا پڑتا ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے تحقیقات کی جائیں اور ان بھرتیوں کو میرٹ کے مطابق کرتے ہوئے مبینہ رشوت لیکر لوگوں کو بھرتی کرنے والے ریلوے حکام کے خلاف کارروائی کی جائے ۔اس حوالے سے ڈی ایس ریلوے سلیمان صادق سے گفتگو کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے ،فی بھرتی 70ہزار ریٹ باقی ہر جگہ مقرر ہو گا لیکن ہمارے ہاں ایسی کوئی رقم نہیں لی جاتی ۔3ہزار کے قریب درخواستیں موصول ہوئی تھیں جبکہ چند درجن سیٹیں موجود تھیں اگر ناکام ہونے والے ملازمین احتجاج کرتے ہیں تو ہم کچھ نہیں کر سکتے ہماری جانب سے تمام کام میرٹ کے مطابق ہوا ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -