پنجاب میں 60سے 90روز کیلئے رینجرز بلانے کی سمری گورنر کو ارسال

پنجاب میں 60سے 90روز کیلئے رینجرز بلانے کی سمری گورنر کو ارسال

  

 لاہور(کرائم رپورٹر) ملک میں حالیہ دہشت گردی کی لہر کے بعد پنجاب حکومت کا بڑا اقدام کر لیا۔ دہشتگردوں، سہولت کاروں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن میں رینجرز کی مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب میں کہیں بھی ٹارگٹڈ آپریشن کے لیے رینجرز کو ضرورت کے تحت بلایا جا سکے گا۔ سمری کے تحت سی ٹی ڈی رینجرز کے ماتحت ہو گی اور انسداد دہشت گردی فورس رینجرز کی مدد کرے گی۔ تمام آپریشنز خفیہ رکھے جائیں گے۔ ابتدائی طور پر ساٹھ سے نوے روز کے لیے رینجرز کو بلایا جائے گا۔ سمری گورنر پنجاب کو ارسال کر دی گئی ہے اور مشاورت کے بعد وفاقی حکومت کو خط لکھا جائیگا جبکہ ٹی او آرز کے معاملات اپیکس کمیٹی ہی طے کریگی۔ دریں اثناء نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا کہ رینجرز پنجاب میں مکمل بااختیار ہوں گے،گرفتاریوں اور سرچ آپریشن کے دوران رینجرز کو دوسری ایجنسیوں کا تعاون بھی حاصل ہو گا۔انہوں نے کہا کہ رینجرز کو پنجاب میں انسداد دہشت گردی ایکٹ اور رینجرز ایکٹ کے تحت بلایا گیا جبکہ رینجرز گرفتاریاں اور سرچ آپریشن بھی کر سکے گی۔ وزیر قانون پنجاب نے مزید بتایا رینجرز کو کارروائی کیلئے کسی اجازت کی ضرورت نہیں۔ تمام فورسز دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور براہ راست کارروائی کر سکتی ہیں۔ رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ دہشت گرد عناصر جہاں کہیں بھی ہوں گے بھرپور کارروائی کی جائے گی۔صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں رینجرز کو تلاشی اور گرفتاری کے اختیارات دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے تاہم ایپکس کمیٹی ہی تعین کرے گی کہ انھیں یہ اختیارات صوبے کے کن علاقوں میں حاصل ہوں گے۔بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پنجاب میں رینجرز کو انتہاپسندوں اور شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے لیے کراچی سے زیادہ اختیارات دیں گے۔وزیرِ قانون کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’رینجرز پنجاب میں پہلے ہی موجود ہیں، صرف ان کی تعداد بڑھانے اور انھیں موثر بنانے کی ضرورت ہے?‘ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ رینجرز پنجاب میں پہلے بھی موجود ہیں اور جب قانون نافذ کرنے والے اداروں پولیس یا سی ٹی ڈی کو رینجرز کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ ان کی مدد کرتے ہیں۔ملک کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ ’اب جو دہشتگردی کی ایک نئی لہر کا سامنا ہے اور اس میں سرحد پار سے دہشتگرد خود کو منظم کر کے کارروائیاں کر رہے ہیں تو اب وزیراعظم پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ دہشت گردوں کے ان اڈوں کو سرحد کے دوسری طرف بھی نشانہ بنایا جائے گا اور ان کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا?‘

مزید :

صفحہ اول -