خواجہ آصف بھارت کی زبان بولتے ہیں : حافظ سعید کے بارے میں بیان قابل مذمت ہے

خواجہ آصف بھارت کی زبان بولتے ہیں : حافظ سعید کے بارے میں بیان قابل مذمت ہے

  

لاہور( نمائندہ خصوصی ) سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین نے کہا ہے کہ خواجہ آصف وزیردفاع‘ پاکستان کے لیکن زبان بھارت کی بولتے ہیں۔حکمرانوں نے پہلے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کو پابند سلاسل کیا اب بھارتی دباؤ پر حافظ محمد سعید ودیگر رہنماؤں کو نظربند کیا جارہا ہے۔بھارتی و امریکی ایما پردیے گئے خواجہ آصف کے بیان کی پوری پاکستانی قوم مذمت کرتی ہے۔ ملک کے اندر اور باہر کہیں بھی ان کی زبان کنٹرول میں نہیں رہتی۔حافظ محمد سعید محب وطن لیڈر ہیں‘ کشمیریوں کیلئے آواز بلند کرنے کے جرم میں انڈیا کی خوشنودی کیلئے ان کیخلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ حافظ محمد سعید کی نظربندی امریکہ نہیں مودی کی خواہش ہے اور اس سے ڈان لیکس کے اشاروں کی تکمیل ہوئی ہے۔ موجودہ حکومت بھارت و امریکہ کی کاسہ لیسی میں مصروف ہے۔ان خیالات کا اظہار دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق،شاہ زین بگٹی،سردار عتیق احمد خاں، لیاقت بلوچ،سینیٹر محمد علی درانی،میاں محمود الرشید، سردار لطیف احمد کھوسہ،سینٹر حافظ حمداللہ،جمشید احمد دستی، شاہ اویس نورانی، حافظ عبدالغفارروپڑی، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، علامہ ممتاز اعوان، حافظ خالد ولید و دیگر نے جرمنی میں خواجہ آصف کی طرف سے دیئے گئے اس بیان کہ ’’ حافظ محمد سعید معاشرے کیلئے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں‘‘ پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کیا۔ دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے کہاکہ خواجہ آصف کو چاہیے تھا کہ وہ جرمنی میں کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے غاصب بھارت کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرتے تاکہ دنیا میں مسئلہ کشمیر اجاگر اور انڈیا کی ریاستی دہشت گردی بے نقاب ہوتی تاہم وہ ایسا تو نہ کر سکے البتہ بھارت سے دوستی مضبوط کرنے کیلئے محب وطن لیڈروں کیخلاف الزام تراشیاں کی جارہی ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ شاہ زین بگٹی نے کہا کہ وزیر دفاع نے جرمنی میں بیٹھ کر حافظ محمد سعید کے بارے میں انتہائی غیر مناسب بیان دیا۔حافظ محمد سعید محب وطن ہیں۔ان کی نظربندی سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کمزور کیا گیا اور نقصان پہنچانے کی سازش کی گئی۔سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خاں نے کہاکہ خواجہ آصف جیسے حکومتی عہدیداران بھارتی خوشنودی کیلئے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔انڈیا کی ریاستی دہشت گردی ساری دنیا کے سامنے ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ خواجہ آصف کی ملک کے اندر اور باہر کہیں بھی زبان کنٹرول میں نہیں رہتی۔انہوں نے حافظ محمد سعید کے بارے میں جس مؤقف کا اظہار کیا پاکستان کی عوام اس سے اتفاق نہیں کرتی۔پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تحریک انصاف کے رہنما میاں محمود الرشید نے کہا کہ حافظ محمد سعیدکے حوالہ سے خواجہ آصف کے بیان کی مذمت کرتا ہوں۔حکمرانوں نے انڈیا و امریکہ کے سامنے مدافعانہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے ۔پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ حافظ محمد سعید کے بارے میں خواجہ آصف نے جرمنی میں جو انکشاف کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ خواجہ آصف پاکستان کے نہیں بلکہ ہندوستان کے وزیر دفاع ہیں۔حکمران جب بیرونی آقاؤں کی غلامی کریں گے تو ایسے ہی بیانات دیں گے۔ انہو ں نے کہا کہ حافظ محمد سعید کی جماعت کے رفاہی ادارے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے رفاہی کام حکومت کو نظر کیوں نہیں آتے؟جب بھی زلزلہ،سیلا ب سمیت کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو ملک بھر میں خدمت کے لئے سب سے زیادہ جماعۃ الدعوۃ کے کارکن نکلتے ہیں۔جمعیت علماء اسلام(ف) کے مرکزی رہنما سینٹر حافظ حمداللہ نے کہا کہ بھارت و امریکہ کے دباؤ پر حافظ محمد سعید کو نظربند کیا گیا ۔سابق وزیراطلاعات محمد علی درانی نے کہاکہ حافظ محمد سعید کی نظربندی امریکہ نہیں مودی کی خواہش ہے اور اس سے ڈان لیکس کے اشاروں کی تکمیل ہوئی ہے۔ رکن قومی اسمبلی جمشید احمد دستی نے کہا کہ موجودہ حکومت بھارت و امریکہ کی کاسہ لیسی میں مصروف ہیں ،مودی کے ساتھ نواز شریف نے جو مک مکا کیا وہ بھی بے نقاب ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ حافظ محمد سعید قوم کے ہیرو ہیں انہیں رہا کرنا چاہئے اور خواجہ آصف جیسے وزیر کو جیل میں ڈالنا چاہئے۔جمعیت علماء پاکستان کے سیکرٹری جنرل شاہ اویس نورانی نے کہا کہ خواجہ آصف نے حافظ محمد سعید کے حوالہ سے جو بیان دیا اس سے تاثر ملتا ہے کہ وہ پاکستان کے نہیں بلکہ بھارت کے وزیر دفاع ہیں۔امیر جماعت اہلحدیث حافظ عبدالغفارروپڑی، متحدہ جمعیت اہلحدیث کے سربراہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، حافظ خالد ولید اور پاسبان ختم نبوت موومنٹ کے سربراہ علامہ ممتاز اعوان و دیگر نے بھی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے جرمنی میں دیے گئے بیان کی سخت مذمت کی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -